Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی - ڈھاکہ تعلقات کی پیچیدگیاں

Updated: August 12, 2026, 1:51 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

ایسے وقت میں جب بھارت بنگلہ دیش کو منانے کی تدبیریں کررہا تھا، ۵؍ اگست کو حسینہ نے اپنی معزولی کے دوسال مکمل ہونے پر دلی میں ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں بنگلہ دیش حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرکے ہندوستان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

پڑوسیوں کے تعلقات دلچسپ بھی ہوتے ہیں اور پیچیدہ بھی خواہ پڑوسی دو کنبے ہوں یا دو ممالک۔ کوئی ہم سایہ ایسا بھی ہوتا ہے جو بات بات پر لڑنے بھڑنے کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے۔ ایسے پڑوسی کے رشتوں کے حوالے سے کسی قسم کا ابہام یا غلط فہمی نہیں ہوتی ہے۔ہمارا ایسا ہمسایہ ملک چین بھی ہے اور پاکستان بھی۔ ان دونوں ملکوں سے تو ہماری دیرینہ دشمنی ہے اس لئے ان سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے۔ مسئلہ پیچیدہ تب ہوجاتا ہے جب بات بنگلہ دیش جیسے ملک کی ہو۔ اس مشرقی ہمسایہ کے ساتھ ہندوستان ۴۱۰۰؍  کلو میٹر طویل بارڈر شیئر کرتا ہے۔ بنگلہ دیش سے ہماری سرحدیں ہی نہیں بلکہ ہمارے رسم ورواج، تہذیب و ثقافت، زبان و ادب اورلباس و خوراک بھی ملتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے دل نہیں ملتے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی بڑھتی عدم مقبولیت

بنگلہ دیش کے قیام کے لئے بھارت نے جو قربانیاں دی تھیں ان کی وجہ سے یہ امید تھی کہ ڈھاکہ اور نئی دہلی ہمیشہ بانہوں میں بانہیں ڈالے ’’یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے‘‘گاتے رہیں گے۔لیکن بنگلہ دیش کی آزادی کے محض تین برسوں کے اندردونوں ممالک کے رشتے بگڑ نے لگے۔ ۱۹۷۵ء میں فوجی بغاوت میں شیخ مجیب الرحمٰن کے قتل کے بعد اگلے پندرہ برسوں تک پہلے جنرل ضیاالرحمٰن اور بعد میں جنرل ایچ ایم ا رشاد کی قیادت میں بنگلہ دیش میں فوجی حکمرانی قائم رہی۔ ان پندرہ برسوں میں بنگلہ دیش  ہندوستان سے دور ہوتا چلاگیا۔ ۱۹۹۰ء میں جمہوریت کی بحالی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں ہمیں ایک واضح پیٹرن نظر آتا ہے۔ جب جب عوامی لیگ بنگلہ دیش میں برسر اقتدار رہی ہمارے تعلقات بے حد خوشگوار رہے اور جب جب ملک کی قیادت بی این پی کے ہاتھوں میں گئی ہمارے تعلقات بے حد خراب ہوگئے۔ ۲۰۰۹ء  میں شیخ حسینہ ایک بار پھر منتخب ہوگئیں اور ۲۰۲۴ء  کے وسط تک بنگلہ دیش پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کرتی رہیں۔ان پندرہ برسوں میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات آسمان کی بلندیاں چھونے لگے اسی لئے اس دورانیہ کو دونوں ممالک کے باہمی رشتوں کا ’’ سونالی ادھیائے‘‘   (سنہرا باب) کہا جاتا ہے۔ اگست ۲۰۲۴ء میں حسینہ کی معزولی اور ملک سے فرار کے بعد نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں جو عبوری حکومت بنی اس میں دونوں ممالک کے رشتے بگڑتے چلے گئے۔
چھ ماہ قبل خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمٰن نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ دسمبر میں خالدہ ضیا کے جنازے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور وزیرخارجہ جے شنکر کی شرکت اور پھر دو ماہ کے اندرطارق رحمٰن کی تاج پوشی میں اوم برلا اور سکریٹری خارجہ وکرم مِسری کی شرکت کے ذریعہ تاہم حکومت ہند نے ڈھاکہ کو یہ پیغام بھیجا کہ نئی دہلی تلخیاں کم کرکے مفاہمت کے لئے تیار ہے۔ وزیر اعظم مودی نے طارق رحمٰن کو اہلیہ کے ساتھ ہندوستان کے دورہ کی دعوت بھی بھیجی۔ ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئے توانائی کے بحران سے نپٹنے کیلئے بھارت نے بنگلہ دیش کوہزارون ٹن ڈیزل بھی بھیج دیا۔ جون سے بھارت نے ویزا کی فراہمی بھی آسان کردی ہے جس کی وجہ سے دو سال کے تعطل کے بعد ہزاروں بنگلہ دیشی سیاح اور خصوصاً مریض علاج کے لئے کلکتہ اور دوسرے شہروں میں آرہے ہیں۔ لیکن طارق کی جانب سے ہندوستان کی مفاہمتی پیش رفت کا مثبت جواب نہیں دیاگیا۔ طارق نے ہندوستان کی دعوت ٹھکراکر چین کو اپنے پہلے سرکاری دورہ کے لئے منتخب کرکے یہ واضح کردیا کہ ان کی فارن پالیسی کی ترجیحات کیا ہیں۔ اس کے باوجودہندوستان ڈھاکہ کے ساتھ رشتے استوار کرنے کی پوری کوششیں کررہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب ہمیں دستوری حقوق بھی دوبارہ حاصل کرنا ہوگا؟

ایسے وقت میں جب بھارت بنگلہ دیش کو منانے کی تدبیریں کررہا تھا، ۵؍ اگست کو حسینہ نے اپنی معزولی کے دوسال مکمل ہونے پر دلی میں ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں بنگلہ دیش حکومت خلاف محاذ آرائی کرکے ہندوستان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ حسینہ نے طارق حکومت کو آگاہ کردیا کہ وہ جلد ہی وطن واپس لوٹیں گی۔ بی این پی حکومت نے اس پر سخت ترین الفاظ میں احتجاج درج کرایا اور یہ دعویٰ کیا کہ حسینہ کا بیان بنگلہ دیش کی خود مختاری اور اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کے مترادف ہے۔ڈھاکہ کو شبہ ہے کہ ہندوستان بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے حسینہ کو ایک  ہتھیارکے طور پر استعمال کررہا ہے۔  وزیر اعظم طارق نے پیر کے دن ہندوستان کے سفیر دنیش ترویدی سے ملاقات میں یہ واضح کردیا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری کیلئے ہندوستان کو چاہئے کہ سازگارماحول پیدا کرے۔  انہوں نے ایک بار پھر حکومت ہند سے حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
 ڈھاکہ کو یہ شکایت ہے کہ مودی حکومت حسینہ کو بھارت میں بیٹھ کر بنگلہ دیش کے خلاف سیاسی بیان بازی  کی اجازت کیوں دے رہی ہے۔ قارئین کو یاد دلادوں کہ پچھلے سال ڈھاکہ میں ایک خصوصی ٹریبونل نے حسینہ کو سیکڑوں لوگوں کے قتل عام کا مجرم قرار دے کر سزائے موت کا مستحق قرار دیاتھا۔ ۵؍ اگست کے آڈیو خطاب میں حسینہ نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جائے گا اس کے باوجود وہ وطن واپس لوٹیں گی۔ حسینہ کے ’’میںواپس آؤں گی‘‘اعلان سے ڈھاکہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔  چار ماہ میں حسینہ جب خود چل کرڈھاکہ جارہی ہیں تو اب بھارتی حکومت انہیں بنگلہ دیش کے حوالہ کرے یا نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بِہار میں سرکاری ملازمت کی بَہار

طارق بھی اپنی مرحومہ والدہ کے نقش قدم پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں۔بی این پی نے ہمیشہ اپنی انتخابی سیاست کا محور ہندوستان دشمنی کو بنایا۔ یہ یقیناً ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی ناکامی کہی جائے گی کہ ہم بنگلہ دیش جیسے اہم ہمسایہ ملک کی دو بڑی سیاسی طاقتوں میں سے ایک سیاسی طاقت کا اعتماد کبھی نہیں جیت سکے۔ امریکہ میں صدر کبھی ریپبلیکن تو کبھی ڈیموکریٹ ہوتا ہے لیکن ہماری خارجہ پالیسی پر اس کا کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے۔پھر بنگلہ دیش کی سیاسی قیادت کی تبدیلی سے ہماری خارجہ پالیسی اس قدر کیوں اثر انداز ہوتی رہی ہے؟حسینہ کو پناہ دینا ہمارا فرض تھا۔لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایک معزول اور مفرور مجرم ہیں جن کے سرپر قتل عام کی فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔ ہمیں حسینہ کو یہ یاد دلانا چاہئے کہ وہ ہماری مہمان نوازی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ حسینہ کا بیٹا امریکہ میں اور بھانجی لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ دوسال قبل ان دونوں ممالک نے حسینہ کوپناہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ہم غالباً اپنی روایاتی وضع داری کی وجہ سے حسینہ کو خاموش رہنے کا مشورہ نہیں دے سکتے ۔حسینہ کو خود یہ سمجھنا چاہئے کہ انہیں یہ حق ہرگز نہیں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی حرکتوں یا بیانات سے میزبان ملک کیلئے سفارتی پشیمانی کا باعث بنیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK