Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیپر لیک مخالف بل کی منظوری

Updated: July 31, 2026, 3:30 PM IST | Mumbai

پیپر لیک کے خلاف مجوزہ قانون منظور ہوچکا ہے۔ دو دِن میں بحث بھی ہوئی اور منظوری بھی مل گئی۔ اس سےپرچے کا افشاء رُک جائیگا اس کی ضمانت نہیں ملتی کیونکہ سزا بڑھائی گئی ہے، پرچہ لیک ہونے سے روکنے کیلئے نظام کو چست اور درست بنانے کی ضرورت تھی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پیپر لیک کے خلاف مجوزہ قانون منظور ہوچکا ہے۔ دو دِن میں بحث بھی ہوئی اور منظوری بھی مل گئی۔ اس سےپرچے کا افشاء رُک جائیگا اس کی ضمانت نہیں ملتی کیونکہ سزا بڑھائی گئی ہے، پرچہ لیک ہونے سے روکنے کیلئے نظام کو چست اور درست بنانے کی ضرورت تھی۔ اسے مکمل طور پر جوابدہ بنایا جانا چاہئے تھا ۔ این ٹی اے آج بھی موجود ہے اور اسے اب بھی ضروری سمجھا جارہا ہے۔ نیٹ کا امتحان منعقد کرنے ہی کی کیا ضرورت ہے، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوزف وجے ایک سے زائد مرتبہ اس سلسلے کو ختم کرنے کی صلاح دے چکے ہیں مگر اس پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ اسی لئے راہل گاندھی کی یہ بات، جو انہوں نے بدھ کے روز منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہی، درست معلوم ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ یہ پیپر لیک کو روکنے کیلئے نہیں ہے، پیپر لیک ہو جانے کے بعد سزا دینے کیلئے ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جواب اُتنے نہیں ہیں سوال جتنے ہیں

اصل میں، اس گورکھ دھندے میں اتنا پیسہ ہے کہ اس کی کشش قانون میں تجویز کی گئی سزا سے نہ تو کم ہوسکتی ہے نہ ہی ختم ہوسکتی ہے۔ جو لوگ اس نوعیت کے کاموں کا جوکھم اُٹھاتے ہیں وہ قانون اور سزا سے ناواقف نہیں ہوتے۔ واقف ہوتے ہیں اس کے باوجود خوف نہیں کھاتے۔ اور کیوں خوف کھائیں جب سابقہ قانون کے تحت اب تک کسی کو سزا نہیں ہوئی؟ ایک بات تو یہ ہوئی۔ دوسری یہ ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں میں ملوث لوگوں کو بچ نکلنےکے راستوں کا بھی علم ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کیا کرنے سے کیا ہوسکتا ہے جو ہو بھی جاتا ہے۔ ملک میں اور بھی کئی قوانین ہیں جن کی موجودگی کے باوجود متعلقہ جرائم نہیں رُکے ہیں۔ اب اگر اُن پر گفتگو ہو تو کیا سزا کو مزید سخت کرنے سے وہ جرائم رُک جائینگے؟ قانون اپنی جگہ بہت اہم ہے مگر اس کا نفاذ اُس سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ نفاذ نہ ہو یا صحیح طریقے سے نہ ہو تو کوئی بھی قانون اپنی افادیت ثابت نہیں کرپاتا۔

یہ بھی پڑھئے: راہل۔ عرفان ملاقات، کیا کانگریس سدھر گئی؟

بہرکیف، طے ہے کہ نیٹ امتحان رہے گا اور این ٹی اے بھی رہے گا یعنی پرچہ لیک ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔ یو پی اے کی حکومت کو ’’آدھار‘‘ کا نسخہ تھمانے والے نندن نلیکنی، جو انفوسس کے شریک بانی ہیں، کی ذہانت، صلاحیت، علمیت اور تجربہ سے انکار نہیں مگر انہیں امتحانات کے سسٹم کی مرمت کیلئے جو ذمہ داری دی گئی ہے اُس کا کتنا فائدہ ہوگا یہ دیکھنا اہم ہوگا۔ کیونکہ اُن کی سفارشات میں سے این ٹی اے کو کیا مناسب معلوم ہوگا اور کیا نہیں یہ بھی تو سوال ہے! نلیکنی کی قیادت میں تشکیل دیا گیا ٹاسک فورس اس لئے بھی ہمیں بہت زیادہ اعتماد نہیں دلا سکا کیونکہ اس سے پہلےاسرو کے سابق چیئرمین شری کے رادھا کرشنن کی کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی تھیں وہ دھری کی دھری رہیں۔ اُن پر عمل نہیں ہوا۔ یہاں بھی دیکھئے کہ سفارشات تو اہم ہیں مگر سفارشات پر عمل ؟ بالکل اُسی طرح جیسے قانون تو اہم ہے مگر قانون کا نفاذ؟ہم سمجھتے ہیں کہ سفارشات پر عمل اور قانون کے نفاذ سے بھی زیادہ اہم اور ضروری ہے شہریوں کو جرم کے خلاف حساس بنانا اور اُن کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ جرم سے دور ہی رہیں۔ کیا یہ ہوسکتا ہے؟ اس کی تو ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK