ان دنوں مہاراشٹر میں ایس آئی آر کی سرگرمیاں زور و شور کے ساتھ جاری ہیں۔ اس کی وجہ سے بی ایل اوز (بوتھ لیول آفیسرس) عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے ان کے نام اور فون نمبر تلاش کئے جارہے ہیں، لوگ انہیں فون کررہے ہیں، میسیج کررہے ہیں، ملاقات کررہے ہیں، انہیں اپنا مسئلہ بتاتے ہیں اور اس مسئلے کا حل پوچھتے ہیں۔
بی ایل اوز کا احتجاج۔ تصویر:آئی این این
ان دنوں مہاراشٹر میں ایس آئی آر کی سرگرمیاں زور و شور کے ساتھ جاری ہیں۔ اس کی وجہ سے بی ایل اوز (بوتھ لیول آفیسرس) عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے ان کے نام اور فون نمبر تلاش کئے جارہے ہیں، لوگ انہیں فون کررہے ہیں، میسیج کررہے ہیں، ملاقات کررہے ہیں، انہیں اپنا مسئلہ بتاتے ہیں اور اس مسئلے کا حل پوچھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کچھ لوگوں کو ’بی ایل اوز‘ سے کچھ شکایتیں بھی ہیں۔شکایتیں کچھ ایسی ہیں کہ اول تو ان کے نام اور فون نمبر نہیں ملتے، مل بھی جائیں تو نمبر غلط نکلتا ہے، صحیح نمبر مل جائے تو جلدی فون نہیں لگتا، فون لگ جائے تو بی ایل او کال ریسیو نہیں کرتے، کال بیک نہیں کرتے، میسیج نہیں دیکھتے ، میسیج کا جواب نہیں دیتے اور بات ہو بھی جائے تو ’تعاون‘ نہیں کرتے۔یہ شکایتیںبجا ہیں۔ کچھ لوگوں کےساتھ یقیناً ایسا ہورہا ہوگا۔بعض بی ایل اوز ایسے ہوں گے جو لاپروائی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہوں گے ،لیکن ایساکس شعبے میں نہیں ہوتا؟ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے کام پر مامور ایک لاکھ سے زائد بی ایل اوز ہیں، ایسے میں دو چار دس غیر ذمہ دار افراد کی وجہ سے پورے شعبے کو بدنام نہیں کیا جا سکتا۔ اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بہت سے بی ایل اوز نہایت ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور لوگوں کےساتھ تعاون کررہے ہیں۔اسلئےشکایتوں سے قبل ہمیں ان کے مسائل کو بھی سمجھنا چاہئے۔
الیکشن کمیشن کی ماتحتی میں کام کرنےوالے یہ بی ایل اوز دراصل وہ سرکاری افسران ہیں، جو پہلے ہی سے کوئی اہم ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کو درست کرنے اور انہیں اپ ڈیٹ کرنےکی دہری ذمہ داری نبھانے والے ان افسران میں سے زیادہ ترشعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ اسکول میں اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد بی ایل او کی اضافی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ایک بی ایل او کو اوسطاً ۱۲۰۰؍ رائے دہندگان کے ناموں کی ’خصوصی جانچ‘ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کیلئے انہیں دن رات ایک کرنا پڑرہا ہے۔ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کی مہم کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی اکثر بی ایل اوز بہت سارے ووٹرس سے رابطہ قائم کر کے ان کے ناموں کی ’میپنگ‘ کرچکے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس بار عوام میں ’بیداری‘ بھی خوب ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ دیکھے بغیرکہ بی ایل اوز بھی انسان ہیں، جس کا جب دل چاہتا ہے، انہیں فون کرتا ہے، میسیج کرتا ہے، اپنے پاس بلاتا ہے، اپنے ناموں کی ’میپنگ‘ کیلئے کہتا ہے اور مبینہ طور پر دھمکی بھی دیتا ہے۔ حالانکہ ووٹرس کو اس تعلق سے بہت زیادہ گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی بی ایل او ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو وہ اس کے اعلیٰ افسر’ای آر او‘ سے رابطہ قائم کرسکتا ہے اور اس سے بھی بات نہ بنے تو اس کے اوپر کے افسر ’ڈی ای او‘ سے شکایت کرسکتا ہے۔ ان افسران کی فہرست وہ اپنے ’ای پی آئی سی‘ نمبر سے آن لائن تلاش کرسکتا ہے۔
ایسے میں اُن بی ایل اوز کو چاہئے جو رائے دہندگان کے فون ریسیو نہیں کرتے اور کال بیک بھی نہیں کرتے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ وہ اس بات کو محسوس کریں کہ ان کے کاندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری ہے، جس میں اگر کوتاہی ہوئی تو بہت سوں کو حق رائے دہی سے محروم ہونا پڑسکتا ہے۔مزید برآں، ان کی لاپروائی سے دیگر بی ایل اوز کی بدنامی ہورہی ہے جو اضافی ذمہ داری کو بھی بنیادی ذمہ داری کی طرح انجام دے رہے ہیں۔