Inquilab Logo Happiest Places to Work

پڈلکر اور سنگرام جگتاپ کی پھر شر انگیزی کی کوشش

Updated: April 09, 2026, 12:34 PM IST | Agency | Pune

پونے میں ’لوجہاد‘ کے خلاف ’ہندو جن آکروش‘ مورچہ نکالا جسے مسلم بستی تک لے جانا چاہتے تھے ، پولیس نے راستے ہی میں روک دیا ۔

Gopichand Padalkar, Who Only Holds Meetings To Spread Venom Against Muslims.Photo;INN
گوپی چند پڈلکر جو صرف مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کیلئے جلسہ منعقد کرتے ہیں- تصویر:آئی این این
اپنی بد زبانی اور شر انگیزیوں کیلئے مشہور رکن اسمبلی گوپی چند پڈلکر نے پونے میں’ہندو جن آکروش مورچہ‘ نکالنے کے نام پر پھر شرانگیزی کی کوشش کی۔ ان کے ساتھ احمد نگر کے رکن اسمبلی سنگرام جگتاپ بھی تھے۔ پولیس نے ان لیڈران کے مورچے کو روک دیا اور انہیں مقررہ مقام تک جانے نہیں دیا جہاں وہ مبینہ ’لو جہاد ‘ کے خلاف تقریریں کرنے والے تھے۔ پڈلکر نے اس کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے لوجہاد کے نام پر زہر افشانی کی۔ 
اطلاع کے مطابق پونے کے پونےکے کونڈھوا علاقے میں ہندو لڑکی کی مسلم لڑکی سے شادی کا ایک معاملہ سامنے آیا تھا جسے ہندوتوا وادی تنظیموں نے ’لوجہاد‘ کا نام دینے کی کوشش کی تھی اور اس کے خلاف خوب ہنگامہ کیا تھا لیکن پولیس کی تفتیش میں ان کے الزامات غلط ثابت ہوئے تھے لیکن ناسک میں پیش آئے ایک اور معاملے کو بنیاد بناکر ان لیڈران نے پھراشتعال انگیزی کی کوشش کی۔ بدھ کو انہوں نے ’ ہندو جن آکروش مورچہ ‘ کے نام سے پونے کے  ساسوڑ علاقے سے لے کر کونڈھوا تک ایک بائیک ریلی نکالنےکا اعلان کیا تھا۔ یہ بائیک ریلی کھڑی مشین علاقے تک جانے والی تھی جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی تھی۔ کھڑی مشین علاقے میں گوپی چند پڈلکر تقریر کرنے کرنے والے تھے۔ پولیس نے اس کی بھی اجازت نہیں دی۔ 
پولیس نے اس ریلی کو روکنے کیلئے پہلے ہی سخت بندوبست کر رکھا تھا۔ جگہ جگہ بیریکیڈ لگا رکھے تھے اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیئے تھے۔ کھڑی مشین علاقے سے پہلے ہی پولیس نےاس ریلی کو روک دیا لیکن گوپی چند پڈلکر اور سنگرام جگتا پ اس بات پر اڑے ہوئے تھے کہ وہ کھڑی مشین علاقے تک جا کر رہیں گے۔ ان کے ساتھ سابق رکن اسمبلی سنجے جگتا پ بھی تھے۔ تقریباً ۲؍ گھنٹے تک ریلی وہیں رکی رہی اور گوپی چند پڈلکر پولیس کے ساتھ حجت کرتے رہے لیکن پولیس نے ان کی ایک نہیں سنی۔ ان سے وہاں سے واپس جانے کیلئے کہا گیا۔ کافی حجت وتکرار کے بعد ریلی کو واپس جانا پڑا البتہ گوپی چند پڈلکر نے بعد میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے مسلم نواجوانو ں کے خلاف الزام تراشیاں کیں اور کارپوریٹ کمپنیوں میں لڑکیوں پھنسانے کا دعویٰ کیا۔
 
 
 کارپوریٹ جہاد کا نیا شوشہ
اس دوران گوپی چند پڈلکر نے ’کارپوریٹ جہاد‘ کا نیا شوشہ چھوڑا۔ ان کاکہنا تھا کہ مسلم نوجوان کارپوریٹ کمپنیوں میں برسرکار پڑھی لکھی لڑکیوں کو پھانستے ہیں اور انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ کونڈھوا میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اب ناسک میں بھی یہی ہوا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ناسک میں کئی لڑکیوں کو ٹارگیٹ کرکے انہیں جنسی استحصال کا شکار کیا گیا۔ وہاں ۱۳۰؍ لڑکیاں کام کرتی تھیں لیکن ان میں سے کئی لڑکیوں نے کام چھوڑ دیا ۔ مگر ۹؍ لڑکیوںنے ہمت کرکے شکایت درج کروائی تب یہ معاملہ سامنے آیا۔ جب میڈیا نے اشوک کھرات کے ذریعے کئے گئے خواتین کے جنسی استحصال کی طرف ان کی توجہ مبذول کروائی تو انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اشوک کھرات کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے اور پولیس اس کے معاملات کی چھان بین کر رہی ہے۔ 
 
 
خبر ہے کہ کھڑی مشین علاقے میںمسلم آبادی ہے اور گوپی چند پڈلکر کی آمد کی اطلاع ملتے ہی وہاں بھی بھیڑ اکٹھا ہو گئی تھی۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیس نے پڈلکر کو وہاں جانےکی اجازت نہیںدی تاکہ حالات قابوسے باہر نہ ہو جائیں۔ پولیس کی مستعدی کے سبب پڈلکر کو واپس جانا پڑا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK