• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا سی جے پی حکمت عملی بدل رہی ہے؟

Updated: October 23, 2026, 4:13 PM IST | Mumbai

ملک میں چھ قومی، سرسٹھ ریاستی اور دو ہزار آٹھ سو چون (۲۸۵۴) رجسٹرڈ مگر غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان میں کسی بھی پارٹی کی عمر اتنی کم نہیں ہے جتنی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی ہے۔

CJP. Photo: INN
سی جے پی۔ تصویر: آئی این این

ملک میں چھ قومی، سرسٹھ ریاستی اور دو ہزار آٹھ سو چون (۲۸۵۴) رجسٹرڈ مگر غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان میں کسی بھی پارٹی کی عمر اتنی کم نہیں ہے جتنی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی ہے۔ ان میں کوئی بھی ایسی نہیں ہے جو چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک تبصرے کا نتیجہ ہو۔ بات مذاق سے شروع ہوئی تھی مگر مذاق تک محدود نہیں رہی۔ مذکورہ پارٹیوں میں کوئی بھی ایسی نہیں ہے جو آن لائن بنی ہو۔ ان میں کوئی بھی ایسی نہیں جس کا محرک یا بانی بیرونِ ملک رہا ہو اور پارٹی کی حیرت انگیز مقبولیت کے پیش نظر وطن واپس آگیا ہو۔ ان میں کوئی ایسی نہیں ہے جس کو جین زی کی غیرمعمولی حمایت اور سپورٹ حاصل ہو۔ ان میں کوئی ایسی نہیں ہے جو غیر رجسٹرڈ ہو۔ ایسی بھی شاید ہی کوئی ہو جس کا صدر دفتر تو جانے دیجئے ایک چھوٹا موٹا آفس بھی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر مخالف تحریک خوش آئند ہے!

اس اعتبار سے کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ کئی ’’فرسٹ‘‘ جڑے ہوئے ہیں، مثلاً پہلی اتفاقی، پہلی آن لائن، پہلی غیر رسمی، پہلی غیر روایتی اور پہلی ’’بے پتہ‘‘ پارٹی۔ جب اس کے بانی ابھیجیت دیپکے نے امریکہ سے اعلان کیا تھا کہ ’’میں انڈیا آرہا ہوں‘‘ تب یہ سمجھا گیا تھا کہ یہ دولہا جب دہلی ہوائی اڈہ پر اترے گا تو اس کا استقبال کرنے والے باراتیوں میں دو چار سو نوجوان ہونگے، اس سے زیادہ نہیں ہوسکتے۔ اتفاق سے پولیس کا انٹلی جنس محکمہ بھی اسی مغالطے میں رہا، اگر وہ مغالطہ تھا۔ دہلی پولیس نے اسے خوشی خوشی جنتر منتر پر آندولن کی اجازت دی جس کے بعد دُنیا نے دیکھا کہ جنتر منتر، جنتر منتر بن گیا۔ اسکے مہینہ ڈیڑھ مہینہ بعد وہ وقت بھی آیا جب جنتر منتر پر احتجاج کی ازخود اجازت دینے والی پولیس نے ہوائی اڈہ پر پہنچ کر ہی نہیں بلکہ فلائٹ میں داخل ہوکر سی جے پی کے لیڈروں کو حراست میں لیا۔ اتنے کم وقت میں کوئی پارٹی ’’اجازت‘‘ تا ’’ممانعت‘‘  نہیں پہنچی ہوگی۔ اسکے بعد تو یہ بھی دیکھا گیا کہ اس کے دو لیڈروں (سورو اور اشوتوش) کو حراست میں لے کر پانچ جمع دو برابر سات ؍ دن عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: کیا اشوتوش اور سورو چھوٹیں گے؟

یہ ہے مختصر مگر مکمل تاریخ ِ سی جے پی۔ مذکورہ تمہید محض اس سوال کیلئے ہے کہ کیا یہ پارٹی جو پلک جھپکتے مقبولیت کے آسمان پر پہنچ گئی تھی، تلخ حالات کی زمین پر لا دی گئی ہے؟ سورو اور اشوتوش نے اُس بانڈ پر دستخط کردیئے ہیں جس میں کہا گیا کہ وہ ’’شانتی بھنگ‘‘ نہیں کرینگے۔ ان لوگوں نے ویسے بھی شانتی بھنگ نہیں کی تھی مگر اب اُن پر ایک شرط عائد ہوچکی ہے جس کی تشریح دہلی پولیس اپنے حساب سے کرسکتی ہے۔ رہے ابھیجیت تو وہ ایک ویڈیو میں اپنے حامیوں سے کہہ چکے ہیں کہ تہوار کے موسم میں گھر پر رہیں اور اہل خانہ کے ساتھ وقت گزاریں۔ اس سے ظاہر ہے کہ ابھیجیت کی پلاننگ بدل رہی ہے۔ کیا یہ سورو اور اشوتوش کی سات روزہ حراست کی وجہ سے ہے؟ کہا نہیں جاسکتا مگر لگتا ہے سی جے پی خود کو سمیٹ رہی ہے۔ اس نے پہلے ہی واضح کیا  ہے کہ اُسے سیاسی جماعت بننے سے دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ پریشر گروپ کے طور پر کام کریگی۔ ہم نہیں جانتے کہ آئندہ حکمت عملی کیا ہوگی مگر ایسا لگتا  ہے کہ حکمت عملی وہ نہیں ہوگی جو اَب تک تھی اور جس نے تینوں لیڈروں کو ہیرو بنا دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK