نیپال میں سیلابی صورت حال تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی خبریں بھی نہایت افسوسناک ہیں۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 3:41 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
نیپال میں سیلابی صورت حال تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی خبریں بھی نہایت افسوسناک ہیں۔
نیپال میں سیلابی صورت حال تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی خبریں بھی نہایت افسوسناک ہیں۔ دل اُنہی لوگوں پر نہیں دہلتا جو متاثرہ علاقے میں بود و باش اختیار کئے ہوئے تھے اور موسموں کے بدلتے تیوروں سے واقف تھے مگر کچھ نہیں کرپائے بلکہ اُن لوگوں پر بھی لرزتا ہے جو سیاح تھے اور دیگر ملکوں سے وہاں پہنچے ہوئے تھے تاکہ علاقے کے حسن، فضا اور ماحول سے لطف اندوز ہوں مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اب تک ۵۴۰؍ افراد فوت ہوچکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں (کم و بیش ۱۳۰۰) لوگ لاپتہ ہیں۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ گمشدہ لوگوں کا جلد یا بہ دیر پتہ چل جائیگا یا نہیں۔ کئی لوگ، جن کی جان بچ گئی، محفوظ مقام پر پہنچنے کے باوجود اپنے متعلقین اور ہم سفروں کیلئے غمزدہ یا بے قرار ہیں جو اُن کے ساتھ تھے، اب نہیں ہیں۔ یا تو اُن کی خبر آچکی ہے اور جسد خاکی مل چکا ہے یا گزرتے وقت کے ساتھ اُن کے ملنے کی اُمید موہوم ہوتی جارہی ہے۔ جن لوگوں نے پانی کے قیامت خیز بہاؤ کا مشاہدہ کیا یہ کہتے ہوئے ملے کہ ایسا لگتا تھا جیسے سونامی آئی ہو۔ سیلابی ریلوں میں سرحد کے قریب واقع پہاڑوں کی عمودی وادیوں سے مٹی کی تہہ، ریت، بجری اور دیوہیکل چٹانی ٹکڑے دیکھے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی پارلیمانی حد بندی کیلئے سب کا ساتھ ضروری
ایسی تباہ کن صورتحال کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ سیلاب کا پانی آج نہیں کہ کل اُتر جائیگا مگر حالات کا تموج اتنی جلدی کم نہیں ہوگا اور زندگی معمول پر نہیں آسکے گی۔جن علاقوں میں اب سیلابی پانی نہیں ہے وہاں ’سیلاب کے ساتھ آنے والا کیچڑ موجود ہے جس کی وجہ سے راحتی کاموں میں شدید مشکلات خارج از امکان نہیں۔ کہہ نہیںسکتے کہ جہاں زندگی تھی وہاں مستقبل میں زندگی ہو گی یا نہیں کیونکہ صفحۂ ہستی سے مٹ جانے والی بستیوں کے دوبارہ آباد ہونے کا امکان بھی، ممکن ہے، بہہ گیا ہو۔ جہاں اتنی تباہی آئی ہو وہاں خوف کا احساس بھی شدید ہوتا ہے۔ ریڈ کراس نے بتایا ہے کہ ۹۳؍ ہزار افرادکسی نہ کسی سطح پر سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین وثوق سے نہیں کہہ سکے کہ متاثرہ علاقے میں مزید طوفان کا خطرہ ہے یا نہیں، لیکن مقامی سطح پر موسلا دھار بارش کا امکان موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل یروشلم کی سڑکوں، تاریخی عمارتوں کے عربی نام عبرانی ناموں سے بدل رہا ہے
آفات ِ سماوی کے اسباب پر گفتگو نہیں ہوسکتی اس کے باوجود کسی آفت کے پیش نظر رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے۔ اسی زاوئیے سے سائنسدانوں کی رائے اہم قرار پاتی ہے۔ زیر بحث سیلاب کی بابت بتایا گیا ہے کہ لنگتانگ لیرونگ نامی علاقے کے قریب تقریباً ۵۲۰۰؍ میٹر کی بلندی پر برف کے بہت بڑے تودے (گلیشیئر) اور چٹان کا ایک بہت بڑا حصہ ٹوٹ گیا تھا۔ نیچے گرنے والی برف اور ملبہ تبت کے ایک دریا سے ٹکرایا، جس سے عارضی طور پر ایک قدرتی بند (ڈیم) تو بن گیا مگر جب یہ بند ٹوٹا تو اس نے پانی، کیچڑ اور چٹانی ملبے کی ایک طاقتور لہر کو علاقائی دریاؤں کے ذریعے تیزی سے نیچے نیپال کی جانب دھکیل دیا۔بہاؤ کتنا تیز رہا ہوگا اس کا تصور ممکن نہیں تاہم زندہ بچ رہنے والوں کا اسے سونامی کہنا ناممکن کو کسی حد تک ممکن بنا دیتا ہے۔ بہرحال اِس مشکل گھڑی میں دور و نزدیک کے ہر ملک کو فراخ دلی سے نیپال کی مدد کرنی چاہئے، یہی تقاضائے انسانیت ہے۔