’آر ایس ایس(راشٹریہ سویم سیوک سنگھ)‘ سے وابستہ تنظیموں کے بھائندر کے اُتن میں واقع کیمپس میں طلبہ کا ماحولیاتی تعلیم کے نام پر ٹور کروانے کی تجویز جمعرات کو بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی گئی تھی جس کی اپوزیشن نے سخت مخالفت کی ،اس کے باوجود حکمراں محاذ کے کارپوریٹروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کثرت رائے کی بنیاد پر اسے منظور کروا لیا گیا۔
’آر ایس ایس(راشٹریہ سویم سیوک سنگھ)‘ سے وابستہ تنظیموں کے بھائندر کے اُتن میں واقع کیمپس میں طلبہ کا ماحولیاتی تعلیم کے نام پر ٹور کروانے کی تجویز جمعرات کو بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی گئی تھی جس کی اپوزیشن نے سخت مخالفت کی ،اس کے باوجود حکمراں محاذ کے کارپوریٹروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کثرت رائے کی بنیاد پر اسے منظور کروا لیا گیا۔ واضح رہے کہ اس تجویز کے تحت بی ایم سی اسکولوں کے تمام میڈیم کے اور مختلف مذاہب کے ماننے والے ۳۰؍ ہزار سے زائد طلبہ، جن میں ۷؍ ویں جماعت کے طلبہ بھی شامل ہیں، کو ’انوائرونمنٹ اسٹڈی اینڈ ٹریننگ ایجوکیشنل ٹرپ (ماحولیاتی مطالعہ اور تربیتی تعلیمی ٹور)‘ کے نام پر بھائندر میں واقع ’کیشو سرشٹی‘ لے جانے کیلئے تقریباً ۲ء۴۶؍ کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کیشو سرشٹی کو آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار کی یاد میں خراج عقیدت کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بینک اکاؤنٹ کے غلط استعمال کا خوف، خاتون کی خودکشی
جب یہ تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی گئی تب بی ایم سی میں کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تجویز واپس لی جائے اور نئے سرے سے ٹینڈر نکال کر نئی کارروائی شروع کی جائے۔ ایم این ایس کے یشونت قلعدار اور شیوسینا (ادھوٹھاکرے) نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی ۔ تاہم تعداد کم ہونے کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر اسے رکوا نہ سکے۔اشرف اعظمی نے بنیادی اعتراض یہ کیا کہ ۴۶ء۲؍ کروڑ روپے مالیت کی اس تجویز کیلئے کوئی ٹینڈر نہیں نکالا گیا جبکہ بی ایم سی کے اصولوں کے مطابق ۳؍ لاکھ روپے سے زیادہ کے کاموں کیلئے عوامی اشتہار کے ذریعہ ٹینڈر جاری کرنا ضروری ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تعلیم کے نام پر آر ایس ایس سے وابستہ نظریات کے فروغ کیلئے بی ایم سی کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ ان کے مطابق کیشو سرشٹی محض ایک ماحولیاتی ادارہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آر ایس ایس کے بانی کی یاد سے ہے اور اس کے ادارہ جاتی ماحول میں رام بھاؤ مہلگی پربو دھنی (آر ایم پی) جیسی تنظیم شامل ہے جو خود سماجی اور سیاسی کارکنوں، رضاکاروں اور رہنماؤں کیلئے تربیتی پروگرام چلانے کی بات کرتی ہے۔ اس لئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تعلیم کے نام پر بی ایم سی اپنے طلبہ کو ایسے ادارہ کے پاس کیوں لے جارہی ہے جس کا ایک مخصوص سماجی و سیاسی نظریہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان اسٹیشن کے اطراف فٹ پاتھوں پرغیر قانونی قبضہ!
اشرف اعظمی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں ماحولیاتی تعلیم اور تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے کئی تجربہ کار ادارے موجود ہیں جن میں ’بی این ایچ ایس(بامبے نیچرل ہسٹری سوسائٹی)‘ کنزرویشن، ایجوکیشن سینٹر مہاراشٹر نیچر پارک، ’سی ای ای ڈی‘ (سینٹر فار انوائرونمنٹ ایجوکیشن اینڈ ڈیولپمنٹ)، ’سی ای آر ای‘ (سینٹر فار انوائرونمنٹل ریسرچ اینڈ ایجوکیشن)، کنزرویشن ایکشن ٹرسٹ، نیچر فار ایور سوسائٹی، ڈبلیو ڈبلیو ایف۔انڈیا، سنجے گاندھی نیشنل پارک گرین اسکول پروگرام اور دیگر شامل ہیں تو ان اداروں کو کیوں موقع نہیں دیا گیا؟