Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھیرے دھیرے ڈوب رہا ہے سارا منظر میرے ساتھ‘‘

Updated: August 29, 2026, 3:37 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

زبانوں کےتئیں اُن کے بولنے والوں کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ انگریزی سے اُن کی دلچسپی ہے یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے مگر غیر انگریزی زبانوں سے دلچسپی بہرحال کم ہوگئی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

دُنیا میں بہت کم لوگ یہ فیصلہ کرپاتے ہیں کہ اُن کیلئے کیا ضروری ہے اور کیا ضروری نہیں ہے۔ ایسے بھی ملیں گے جو کل تک اپنے لئے کسی شے کو ضروری سمجھتے تھے، اب غیر ضروری سمجھتے ہیں یا کل تک غیر ضروری گردانتے تھے اب ضروری گردانتے ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہیں جانتے کہ اُن کیلئے کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری۔ جس چیز کو وہ ضروری سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ غیر ضروری ہوتی ہے اور جس کو غیر ضروری سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ ضروری ہوتی ہے۔ اسی ’’ضروری‘‘ اور ’’غیر ضروری‘‘ پر خیال آیا کہ ہم میں سے اکثر لوگ ایسے افراد اور شخصیات کو نہیں جانتے جن کو جاننا ضروری ہے اور ایسوں کو جانتے ہیں جن کو جاننا کسی بھی زاویئے سے ضروری نہیں۔  ’’ضروری‘‘ اور ’’غیر ضروری‘‘ کے باب میں ہر شخص کا اپنا معیار ہوتا ہے اس لئے جو چیز کسی کیلئے ضروری ہے وہ کسی دوسرے کیلئے غیر ضروری ہوسکتی ہے۔ یہ معیار ہر شخص کی اپنی ضرورت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص ضروری کو غیر ضروری اور غیر ضروری کو ضروری قرار دے کر کسی کےبارے میں فیصلہ نہیں سنا سکتا البتہ ایک معلم اپنے شاگرد کو، والدین اپنے بچوں کو، دوست اپنے دوست کو اور مشورہ دینے والا مشورہ لینے والے کو اتنا ضرور بتا سکتا ہے کہ ضروری اور غیر ضروری کا فیصلہ ہر شخص اپنی ضرورت اور پسند کے مطابق کرے مگر اُن لوگوں کو بھی جاننے کی کوشش کرے جو اپنی خدمات کے ذریعہ ایک نئی دُنیا بساتے ہیں اور اپنے انفراد سے جانے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: سرحدوں سے لے کر خلاء تک نگرانی کا نظام قائم

یہ مضمون نگار فلسفیانہ لگنے والی یہ باتیں تو کررہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی ناواقفیت ، دیگر لوگوں کی ناواقفیت سے کم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اسے چند روز پہلے تک علم نہیں تھا کہ جے این یو سے وابستہ رہیں لسانیات کی ماہر پروفیسر انویتا ابی   (Anvita Abbi) اپنی تحقیق کے ذریعہ یہ پیغام دینے کیلئے کوشاں رہتی ہیں کہ ہر زبان کی آغوش میں تہذیب و ثقافت اور علم و حکمت کا وسیع خزانہ ہوتا ہے جس سے ہر وہ شخص فیضیاب ہوسکتا ہے جو اُس زبان سے واقف ہے۔ زبانوں کے اس خزانے میں زندگی گزارنے کے طریقے اور مسائل کو حل کرنے کی تدابیر بھی ہوتی ہیں۔ زبان معدوم ہوجائے یا اس کے جاننے والے کم رہ جائیں تو علم و حکمت، تہذیب و ثقافت اور مسائل کے حل کی تدابیر کے اشارے بھی معدوم ہوجاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:نئی پارلیمانی حد بندی کیلئے سب کا ساتھ ضروری

اس کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر  انویتا ابی (دیکھئے تصویر) نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ۲۶؍ دسمبر ۲۰۰۴ء کو جب انڈمان میں سونامی آئی تو وہاں کے قبائلیوں نے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں محض اس لئے کامیابی حاصل کی کہ سونامی سے بچنے کی تدابیر اُن کی زبان اور کتابوں میں درج تھی اور اُنہیں اس کا علم تھا۔ اسی علم کے ذریعہ انہوں نے پانی کے رُخ اور تیز رفتار موجوں کے تیوروں کو قبل از وقت بھانپ لیا اور محفوظ مقامات کی جانب دوڑ گئے۔ پروفیسر انویتا نے یہ اسٹڈی نہ کی ہوتی تو شاید دُنیا اس حقیقت سے لاعلم رہتی کہ ’’گریٹ انڈمانیز‘‘ کوئی زبان ہے اور اُس زبان میں اٹھارہویں یا انیسویں صدی میں لکھی گئی کوئی کتاب قبائلی عوام کی جان بچانے میں مفید ثابت ہوئی ہے۔ ایسی کتاب کو اکیسویں صدی کی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے برابر جگہ ملنی چاہئے اور اس سے خلق خدا کو یہ پیغام عام ملنا چاہئے کہ ٹیکنالوجی کو شوق سے گلے لگائے مگر کتابوں کو اور زبان کو حقیر جان کر گھر سے باہر نہ نکال دے۔

یہ بھی پڑھئے:تبدیلیٔ مذہب کا ہو ّا، متعلقہ قانون اور حقائق

پروفیسر  انویتا ابی نے ’’گریٹ انڈمانیز‘‘ پر کام کیا اور اپنے مطالعات کے ذریعہ زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں پر واضح کیا کہ اس انڈمانی زبان کو تحفظ کی سخت ضرورت ہے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ اس انڈمانی زبان کو جاننے والے کتنے لوگ جزیرہ انڈمان میں رہ گئے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ بیشتر لوگ اپنی اس وراثت سے بے بہرہ ہیں اور انڈمانی ہندی بولتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو بنگلہ زبان سے بھی کسی حد تک واقف ہیں۔ بقول  انویتا ابی: ’’جب مَیں نے انڈمان کی سرزمین پر قدم رکھا، وہاں گریٹ انڈمانیز بولنے والوں کی تعداد ۱۰؍ تھی، ان میں سے اب صرف چار لوگ بقید حیات ہیں۔‘‘ عظیم ثقافتی ورثے کی حامل زبانوں سے منہ موڑنے کی کہانی نئی نہیں ہے۔ یہ ہر جگہ ہورہا ہے اور ہر زبان کے ساتھ ہورہا ہے۔ اسی تغافل کا نتیجہ ہے کہ یونیسکو کے بقول ’’دُنیا میں ہر چودہویں دن ایک زبان معدوم ہوجاتی ہے‘‘۔ یہ شرح معدومی اتنی تیز رفتار ہے کہ ۱۹۵۰ء سے ۲۰۱۰ء تک کی درمیانی مدت (۶۰؍ سال) میں ۲۳۰؍ زبانیں داغ مفارقت دے چکی ہیں۔ چونکہ زبانوں کے فوت ہونے کی رفتار تیز ہونے کے باوجود اتنی تیز نہیں ہوتی کہ کسی زبان نے ایک ہچکی لی اور وہی آخری ہچکی ثابت ہوئی مگر اس کے بتدریج ختم ہونے کا عمل جاری رہتا ہے اگر اس کے جاننے والوں کا تغافل بھی جاری رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زبانوں کے تئیں اُن کے بولنے والوں کی بے حسی کے سبب اس صدی کے آخر تک دُنیا کی ۵۰؍ فیصد زبانیں ایں جہانی سے آں جہانی ہوجائینگی (خوانخواستہ)۔ 

جب بھی کوئی زبان ایں جہانی سے آنجہانی ہوگی اُن لوگوں کو  حیرت نہیں ہوگی جن کی تمام حیرت روزمرہ میں صرف ہورہی ہے اور جو اپنی نیز آس پاس کی زبانوں کے الفاظ کو روزانہ فوت ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ دور نہ جاتے ہوئے اگر اپنی ہی زبان، اُردو، کی بات کی جائے تو اس گنہگا رنے ’’تشریف لائیے‘‘ جیسے محض دو لفظ، جو کل تک عام تھے، کافی دنوں سے نہیں سنے۔ کوئی کہتا ہی نہیں ہے تو کیسے سنا جائے۔ آپ نے بھی نہیں سنے ہوں گے۔عجب نہیں کہ کسی دن آپ کسی کا استقبال کرتے ہوئے ’’تشریف لائیے‘‘ کہیں اور مخاطب  چند قدم پیچھے ہٹ جائے ۔ پھر آپ استفسار کریں تو جواب ملے کہ آپ نے جو کہا (تشریف لائیے) تو ہم نے سمجھا کہ پیچھے ہٹنے کا کہہ رہے ہیں۔ ایسے کتنے الفاظ ہیں جو روزمرہ کا حصہ تھے، اب کبھی کبھی  کا قصہ بھی نہیں ہیں۔ لوگ قلم رکھنا تو دور کی بات ہے قلم کہنا بھی بھول گئے۔ آخر آخر میں پین کہنے لگے تھے۔ اب وہی پین ڈجیٹل دُنیا کی وجہ سے معدوم ہونے لگا ہے تو لفظ بھی معدوم ہورہا ہے۔ ایسے الفاظ کو، جو کل تک روزانہ استعمال میں آتے تھے اب نہیں آتے، یاد کیجئے اور ہوسکے تو اُن کی فہرست بنا لیجئے اور اخیر میں یہ لکھ کر دستخط کردیجئے  کہ ان الفاظ کو ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK