حد بندی بل یا مسودۂ قانون کے پاس کئے جانے کا مطلب ہوگا کہ اراکین پارلیمنٹ نسبتاً چھوٹے حلقے کی نمائندگی کریں گے اور لوک سبھا میں اراکین کی تعداد ۵۴۳؍ سے بڑھ کر ۸۵۰؍ ہوجائے گی۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 3:51 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai
حد بندی بل یا مسودۂ قانون کے پاس کئے جانے کا مطلب ہوگا کہ اراکین پارلیمنٹ نسبتاً چھوٹے حلقے کی نمائندگی کریں گے اور لوک سبھا میں اراکین کی تعداد ۵۴۳؍ سے بڑھ کر ۸۵۰؍ ہوجائے گی۔
حد بندی کا مسودۂ قانون منظور کرانے کے لئے آئین میں ترمیم اور آئینی ترمیم کے لئے لوک سبھا میں ۳۶۰؍ اور راجیہ سبھا میں ۱۶۴؍ اراکین کی حمایت ضروری ہے اس لئے وہ خبریں جھوٹ ثابت ہوتی جا رہی ہیں کہ حکومت خصوصی اجلاس بلا کر یہ مسودۂ قانون پاس کروانا چاہتی ہے۔ ممکن ہے آئندہ حکومت یہ مسودۂ قانون پاس کروانے میں کامیاب ہوجائے مگر ابھی تک تو اس کو ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ پالیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی سے ملاقات کرکے حزب اختلاف خصوصاً کانگریس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ حد بندی کا مسودۂ قانون پاس ہوجائے مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ اپریل کے خصوصی اجلاس میں بھی یہ مسودۂ قانون پیش کیا گیا تھا مگر اراکین پارلیمنٹ کی مطلوبہ تعداد کے تائید نہ کرنے کے سبب یہ مسودہ پاس نہیں ہوسکا تھا جو درحقیقت ۱۹۷۶ء سے ہی رکا ہوا ہے کیونکہ اگرچہ اس کو پاس کرانا جمہوری ضرورت ہے مگر آئین میں ترمیم کے بغیر اس کو پاس نہیں کیا جاسکتا۔ ۱۹۷۱ء میں ملک کی جو آبادی تھی اس میں کافی اضافہ ہوچکا ہے۔ حد بندی بل یا مسودۂ قانون کے پاس کئے جانے کا مطلب ہوگا کہ اراکین پارلیمنٹ نسبتاً چھوٹے حلقے کی نمائندگی کریں گے اور لوک سبھا میں اراکین کی تعداد ۵۴۳؍ سے بڑھ کر ۸۵۰؍ ہوجائے گی۔ یہاں یہ بات دہرانا ضروری ہے کہ صرف حزب اختلاف پر یہ الزام عائد کرنا کافی نہیں ہے کہ وہ حد بندی کا مسودۂ قانون پاس ہونے نہیں دیتا، وزیراعظم کو بھی چاہئے کہ وہ پارلیمانی میٹنگ میں اتفاق رائے بنانے کی کوشش کریں یا حزب اختلاف سے کہیں کہ وہ اختلاف برائے اختلاف کی راہ نہ اپنائے، اگر اس کو اختلاف ہے تو اختلاف کی نشاندہی کرے۔
یہ بھی پڑھئے: ذات پرمبنی مرد م شماری کو ختم کردیاگیا ہے!
حد بندی کے مجوزہ قانون سے ایک اور سوال تعلق رکھتا ہے اور وہ سوال یا مسئلہ ہے خواتین کے ۳۳؍ فیصد ریزوریشن کا۔ بی جے پی اس کوشش یا جگاڑ میں ہے کہ مسودۂ قانون پاس ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا تو بی جے پی یا حکمراں جماعت خود کو خواتین ریزرویشن کی قائد کے طور پر اور اپوزیشن کو اسکے مخالف کے طور پر پیش کرے گی حالانکہ پچھلی حکومت خواتین ریزرویشن کا بل پہلے ہی پاس کرچکی ہے۔
یہاں دو سوال پوچھے جاسکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا خواتین کے ریزرویشن کو جس کو پارلیمنٹ میں پاس کیا جاچکا ہے پارلیمانی، نشستوں کی حد بندی کے ساتھ مشروط کرنا جائز ہے اور دوسرا یہ کہ کیا جنوب کی ریاستوں کا یہ اندیشہ غلط ہے کہ آبادی کی بنیاد پر ہونے والی حد بندی کے سبب لوک سبھا میں ان کی نمائندگی مزید کم ہوجائے گی؟ اگر غلط ہے تو حکمراں جماعت یا محاذ ایسے فارمولے پر کیوں غور کر رہا ہے کہ تمام ریاستوں اور مرکز کے تحت علاقوں کی لوک سبھا نشستوں کی تعداد میں ۵۰؍ فیصد کا اضافہ کر دیا جائے۔ یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ کس کے دباؤ یا سفارتکاری کا نتیجہ ہے کہ تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے جوزف نے، جنہوں نے کبھی بہت سخت موقف اختیار کیا تھا ۲۱؍ اگست کو مہابلی پورم میں جنوبی زونل کونسل کی میٹنگ میں کہا کہ حکومت یقین دہانی کرائے کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی پارٹی کی نمائندگی کم نہیں ہوگی۔ کانگریس کے پی چدمبرم نے بھی کہا ہے کہ اگرچہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں حکمراں محاذ دو تہائی اکثریت سے دور ہے مگر کچھ پارٹیوں کی تائید سے حکومت اپنا مقصد پورا کرسکتی ہے۔ ایک بات اور ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جنوبی ریاستوں کی آبادی کم تو ہے اور ان ریاستوں میں آبادی کنٹرول کے سلسلے میں کام بھی ہوئے ہیں ایسی صورت میں ان کے اندیشوں کو نظرانداز کرنے کا مطلب ہوگا کہ ان کے کاموں کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود حکمراں محاذ ادھو کی شیوسینا اور ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس میں بغاوت کو اپنے مقصد کے لئے فائدہ مند تصور کرتی ہے اور اس کوشش میں ہے کہ ان پارٹیوں کے باغیوں کی مدد سے اپنا مقصد پورا کر لے۔ اس کو یہ بھی امید ہے کہ ۲۲؍ اراکین پر مشتمل ڈی ایم کے پارلیمانی پارٹی بھی غیر جانبدار رہ کر اس کو فائدہ پہنچائے گی۔ ڈی ایم کے کے اسٹالن اس مسئلے میں سخت رُخ کا اظہار کر چکے ہیں مگر حکمراں محاذ کو یقین ہے کہ چونکہ سیاستداں اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں اس لئے اسٹالن کی سخت گیری بھی ہمیشہ نہیں رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ہمیں کیسا ملک چاہئے!
نریندر مودی کی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے تقریباً ۱۳؍ سال مکمل ہوچکے ہیں اور اس مدت میں اس کو لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اکثریت کے بغیر ہی راجیہ سبھا سے دفعہ ۳۷۰؍ اور طلاقِ ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دینے والا مسودۂ قانون تو پاس کرا لیا مگر اپریل ماہ میں جب اس نے حد بندی مسودۂ قانون لوک سبھا میں پیش کیا تو اس کو منہ کی یوں کھانی پڑی کہ یہ مسودۂ قانون ۵۴؍ ووٹوں سے پاس ہونے سے رہ گیا۔ مجھے تو یہ منصوبہ بند معلوم ہوتا ہے یعنی حکمراں اور اپوزیشن ملے ہوئے تھے۔ اگر یہ مسودۂ قانون پاس ہوجاتا تو بی جے پی اور اس کے حکمراں محاذ کی پارٹیاں خود کو خواتین ریزرویشن کا چمپئن تصور کرتیں یا باور کراتیں کہ وہی خواتین ریزرویشن کی ہیرو ہیں۔ مسودۂ قانون پاس نہیں ہوا مگر اسمبلی انتخابات میں حکمراں محاذ کو اس کا فائدہ تو ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: بہت کچھ بدلا، بہت کچھ بدلنا باقی ہے!
اگر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کامیاب ہوئی اور ۵۰؍ فیصد نشستیں بھی بڑھیں تو زیادہ فائدہ انہیں ریاستوں کو ہوگا جہاں آبادی زیادہ ہے۔ اسی لئے شیوسینا (ادھو) این سی پی (شرد پوار) اور سماجوادی (اکھیلیش) کے رُخ میں نرمی نظر آرہی ہے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان پارٹیوں کی مخالفت میں پہلے جیسی شدت نہیں ہے۔ کانگریس بھی جو انڈیا اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی ہے کہیں نہ کہیں نرم پڑتی نظر آرہی ہے۔ چدمبرم کے جس بیان کا اوپر حوالہ آچکا ہے اس کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
لوک سبھا کی ۵۴۳؍ نشستیں ۱۹۷۱ء کی مردم شماری کی بنیاد پر ہے۔ ۱۹۷۱ء کے مقابلے آبادی بڑھی ہے تو نمائندگی بھی بڑھے گی۔ حکومت کی مجبوری اگر یہ ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت کے بغیر نشستوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کرسکتی تو اپوزیشن بھی مجبور ہے کہ وہ بہت دنوں تک مخالفت برائے مخالفت نہیں کرسکتا۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ وزیراعظم کل جماعتی میٹنگ بلا کر اتفاق رائے بنانے کی کوشش کریں۔ یہ ملک کیلئے بھی مفید ثابت ہوگا اور سیاسی پارٹیوں کیلئے بھی کہ آبادی بڑھی ہے تو پارلیمنٹ میں نشستیں تو بڑھیں گی ہی۔