Inquilab Logo Happiest Places to Work

بینک اکاؤنٹ کے غلط استعمال کا خوف، خاتون کی خودکشی

Updated: August 29, 2026, 3:01 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli

ملک بھر میں سرگرم آن لائن سائبر ٹھگوں کے جال اور بینک کھاتوں کے غلط استعمال نے ایک اور بے گناہ شہری کی جان لے لی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ملک بھر میں سرگرم آن لائن سائبر ٹھگوں کے جال اور بینک کھاتوں کے غلط استعمال نے ایک اور  بے گناہ شہری کی جان لے لی۔ اپنے بینک اکاؤنٹ کے غیر قانونی استعمال اور ملک کی متعدد ریاستوں کی پولیس کی جانب سے درج سنگین مقدمات کے خوف میں مبتلا ڈومبیولی کی ۳۸؍ سالہ خاتون نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے دھار دار بلیڈ سے اپنا گلے اور ہاتھ کی رگ کاٹ کر خودکشی کرلی۔ اطلاعات کے مطابق دیویکا پنڈارم (۳۸) ڈومبیولی ایسٹ میں جمخانہ روڈ پر واقع سائی رام سوسائٹی میں رہائش پذیر تھیں۔ ان کا ڈومبیولی کی بینک آف مہاراشٹر، تلک نگر برانچ میں سیونگ اکاؤنٹ تھا جسے وہ باقاعدگی سے استعمال کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیوماہم اسکول بند اور منہدم کرنے کیخلاف ہائی کورٹ میں عرضی داخل

۸ ؍اگست کو راجستھان کے چورو سے سائبر سیل پولیس کی ایک خصوصی ٹیم ان کے گھر پہنچی اور انہیں نوٹس تھمایا۔ پولیس نے بتایا کہ ان کے بینک کھاتے کو آن لائن فریب دہی کیلئے استعمال کیا گیا ہے اور اس بنیاد پر راجستھان میں ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے لہٰذا وہ تفتیش کیلئے چورو سائبر پولیس تھانے میں حاضر ہوں۔ اس اچانک نوٹس سے پریشان ہوکر دیویکا نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور معلومات حاصل کرنے کیلئے تھانے پولیس کمشنریٹ کے سائبر کرائم وِنگ سے رجوع کیا۔ تاہم وہاں پولیس افسران نے جو انکشاف کیا اس نے خاتون کے ہوش اڑا دئیے۔ افسران نے بتایا کہ ان کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ملک بھر کے بے شمار لوگوں کو کروڑوں روپے کا چونا لگایا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں دہلی، ہریانہ، راجستھان، آندھرا پردیش، بہار، گجرات اور تمل ناڈو سمیت مختلف ریاستوں کے سائبر پولیس اسٹیشنوں میں ان کے خلاف باضابطہ مقدمات درج ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان اسٹیشن کے اطراف فٹ پاتھوں پرغیر قانونی قبضہ!

ملک گیر سطح پر پولیس کی گرفتاری اور بدنامی کے شدید خوف نے دیویکا کو شدید ذہنی اذیت اور ڈپریشن میں مبتلا کر دیا۔ اسی گھبراہٹ میں دیویکا نے اپنے گھر پر انتہائی قدم اٹھایا۔ انہیں فوری طور پر شاستری نگر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔اس ضمن میں سینئر پولیس انسپکٹر سندیپن شندے کی رہنمائی میں مان پاڑہ پولیس پورے واقعہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ خاتون کا بینک اکاؤنٹ سائبر مافیا کے ہاتھ کیسے لگا اور اس کے پیچھے کون سا منظم گروہ سرگرم ہے۔؟

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK