Inquilab Logo Happiest Places to Work

آن لائن لیکچررس کا غصہ

Updated: June 04, 2026, 1:53 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

جو صحافتی حلقہ گودی یا درباری میڈیا کہلاتا ہے اس کیلئے اس کالم میں لفظ ’’ہمنوا‘‘ استعمال کیا جاتا رہا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ جس نے اپنا بنیادی فریضہ چھوڑ کر چیخنے، چلانے، حقائق کو مسخ کرنے اور نفرت پھیلانے کو شیوہ بنا لیا ہے وہ اس لفظ کا حقدار نہیں۔

Education.Photo:INN
تعلیم۔ تصویر:آئی ااین این
جو صحافتی حلقہ گودی یا درباری میڈیا کہلاتا ہے اس کیلئے اس کالم میں لفظ ’’ہمنوا‘‘ استعمال کیا جاتا رہا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ جس نے اپنا بنیادی فریضہ چھوڑ کر چیخنے، چلانے، حقائق کو مسخ کرنے اور نفرت پھیلانے کو شیوہ بنا لیا ہے وہ اس لفظ کا حقدار نہیں۔ اسے گودی اور درباری کہنا ہی ٹھیک ہے، ویسے اسے بھونپو اور توتا (طوطا؟) بھی کہا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ فالتو اور پالتو بھی کہتے ہیں۔خوشامدی اور حاشیہ بردار بھی کہہ سکتے ہیں۔ 
اس صحافتی حلقے نے جو سخت مشکلات کے دور میں ملک و قوم کی بڑی خدمت کرسکتا تھا، عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، حکام سے سوال کرنا، حقائق کا پتہ لگانا، سچ بولنا، انسانی و جمہوری قدروں کی حفاظت کرنا، سیکولرازم اور بھائی چارہ کو فروغ دینا اور ان لوگوں کی آواز بننا، جن کی آواز کوئی نہیں سنتا، کب کا ترک کردیا۔ اسی لئے ان لوگوں نے بھی، جو روزانہ شام کو ٹی وی چینلوں کی خبریں اور بحث و مباحثہ دیکھتے اور سنتے تھے، ٹی وی دیکھنے سے باز آئے۔ جس طرح ’’ظلم کی ٹہنی سدا پھلتی نہیں‘‘ اسی طرح جھوٹ کا بازار بھی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہتا، جلد یا بہ دیر لوگ اصلیت جان لیتے ہیں۔ قدرت نے انسان کی فطرت میں بہت سے تضادات یکجا کئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان بھلے ہی خود جھوٹ بولے مگر نہ تو جھوٹ سننا چاہتا ہے نہ ہی جھوٹوں کو پسند کرتا ہے۔ جھوٹ، نفرت، فریب، تشدد جیسی تمام منفی خصلتیں سماج کی ویلن ہیں جنہیں ویلن بھی ہیرو نہیں مانتا۔ 
زیر بحث صحافتی حلقے کی ایک خاتون رکن، جسے’’اسٹار اینکر‘‘ کہا جاتا ہے، نے گزشتہ دنوں آن لائن لیکچرس کا اہتمام کرنے والے اساتذہ کے خلاف کئی الٹی سیدھی باتیں کہیں جس سے ان اساتذہ میں اتنی برہمی پیدا ہوئی کہ انہوں نے مذکورہ خاتون اینکر کے بے سر و پا الزامات کے خلاف محاذ کھول دیا۔ اس طرح ان کے دلوں کی بھڑاس تو نکلی ہی، حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے سیاسی بیانیہ بدلنے میں ماہر مذکورہ صحافتی حلقے کی پول بھی کھلی اور ملک کے تعلیمی نظام کی ناقابل معافی خامیاں اُجاگر بھی ہوئیں۔
 
 
جو کچھ انہوں نے کہا وہ نیا نہیں ہے۔ یوٹیوب پر موجود صحافی اور ایکسپرٹ تقریباً روزانہ ایسی باتیں کہتے ہیں، اہم بات یہ ہوئی کہ اس بار چند ایسے لوگوں نے سوالات اٹھائے جو اپنے کام سے کام رکھتے آئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ نئی تعلیمی پالیسی، جو ۲۰۲۰ء میں جاری ہوئی، اب تک کیوں نافذ نہیں ہوسکی؟ سرکاری اسکول کیوں زوال آمادہ ہیں؟ کوچنگ کلاسوں کے پھلنے پھولنے کا سبب کیا ہے؟ نظام ِتعلیم کو موثر بنانے کی فکر کیوں نہیں کی جاتی؟ ایجوکیشن کا بجٹ کیوں نہیں بڑھایا جاتا؟ وزراء نجی کالجوں اور یونیورسٹیوں کا افتتاح کرنے کیوں پہنچ جاتے ہیں اور سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر کیوں توجہ نہیں دیتے؟ ٹیوشن کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے؟ کووڈ کے دور میں آن لائن سسٹم کے ذریعہ طلبہ کو پڑھائی لکھائی سے جوڑے رکھنے کی کوشش قابل قدر تھی یا نہیں تھی جو ان اساتذہ نے جاری رکھی؟ احتجاجی اساتذہ نے یہ بھی کہا کہ میڈیا نے سوال کرنا کیوں بند کردیا؟ ہر وقت ’’ہندو مسلم‘‘ کیوں کیا جاتا ہے؟
 
 
برہم اساتذہ نے، جن کو یوٹیوب پر دیکھنے والے لاکھوں میں ہے جن میں نوجوان زیادہ ہیں، صحیح وقت پر صحیح سوال کے ذریعہ اپنی شخصیت کے ایک نئے پہلو کا تعارف کرایا ہے۔ ’’اسٹار اینکر‘‘ کے ذریعہ لفظ ’’کوڑی‘‘ (یعنی آن لائن لیکچررس دو کوڑی کے ہیں؟) کے استعمال کا انہوں نے کافی بُرا مانا مگر کیا اُن کے احتجاج سے صحافت کے خوشامدی حلقے کو کوئی سبق ملے گا؟ وہ راہ راست پر آسکے گا؟ ایسی اُمید شاید کسی کو نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK