Inquilab Logo Happiest Places to Work

پارٹیاں بدلنے کا کھیل تماشہ

Updated: July 01, 2026, 2:30 PM IST | Mumbai

اُدھو ٹھاکرے اُن تمام پارلیمانی حلقوں کے دورہ پر ہیں جہاں کے اراکین پارلیمان نے پارٹی کے ساتھ دھوکہ کیا اور شندے شیو سینا میں شامل ہوگئے۔

Uddhav Thackeray. Photo: INN
ادھو ٹھاکرے۔ تصویر: آئی این این

اُدھو ٹھاکرے اُن تمام پارلیمانی حلقوں کے دورہ پر ہیں جہاں کے اراکین پارلیمان نے پارٹی کے ساتھ دھوکہ کیا اور شندے شیو سینا میں شامل ہوگئے۔ اس سلسلے میں یہ سوال آپ کے ذہن میں بھی آتا ہوگا کہ اگر یہ چھ اراکین پارلیمان پارٹی میں لَوٹنا چاہیں تو اُدھو ٹھاکرے کا موقف کیا ہوگا۔ کیا اُنہیں واپس لے لیا جائیگا اور اسے کامیابی سمجھا جائیگا یا واپس کرتے ہوئے یہ کہا جائیگا کہ تم نے بغاوت کی تھی اس لئے پارٹی میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے؟ موجودہ سیاسی ماحول کے پیش نظر ایسا لگتا ہے مراجعت یا واپسی پر انکار نہیں ہوگا۔ ان کا خیرمقدم کیا جائیگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت، اخلاقیات اور ایمانداری

واپس آنے والوں کو واپس لے لیا جاتا ہے اور کوئی مزاحمت نہیں کی جاتی اس کی مثال ترنمول کانگریس سے ملتی ہے۔ سابق مرکزی وزیر ریلوے اور ترنمول کانگریس کے بانی اراکین میں شامل مکل رائے ۲۰۱۷ء میں پارٹی چھوڑ کر گئے تھے مگر جب ۲۰۲۱ء میں اُنہوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو انہیں بصد شوق شامل کرلیا گیا تھا۔ یہاں ایک ہی مثال پر اکتفا کیا جاتا ہے جبکہ ایسی کئی مثالیں بآسانی پیش کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح، جب پارٹی بدلنے کا عادی سیاستداں کسی پارٹی میں شامل ہونا چاہتا ہے تو پارٹی بدلنے کے ٹریک ریکارڈ کے باوجود اُسے نواز دیا جاتا ہے۔ اس کی عمدہ مثال جیتن رام مانجھی ہیں جو کانگریس میں تھے، پھر جنتا دل میں گئے، پھر آر جے ڈی میں شمولیت اختیار کی، اس کے بعد جنتا دل متحدہ میں گئے اور پھر اپنی پارٹی (ہندوستانی عوام مورچہ) قائم کی۔ سنجے نروپم شیوسینا (متحدہ) میں تھے، پھر کانگریس میں گئے، وہاں سے منہ موڑا اور شیو سینا (شندے) سے وابستہ ہوگئے۔ نارائن رانے شیو سینا میں تھے، کانگریس میں گئے، پھر ’’مہاراشٹر سوابھیمان پکش‘‘ قائم کیا جسے ۲۰۱۹ء میں بی جے پی میں ضم کردیا۔ ویسے ، ملک میں یہ ریکارڈ بھی موجود ہے کہ ۷۰ء کی دہائی میں ہریانہ کے ایم ایل اے گیا رام نے محض پندرہ دن میں تین پارٹیاں بدلی تھیں۔ وہ کانگریس سے جنتا پارٹی میں گئے، جنتا پارٹی سے کانگریس میں لَوٹے اور کانگریس سے پھر جنتا پارٹی میں چلے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشی بحران میں ضروری اصلاحات

پارٹی بدلنے کا یہ کھیل، جو اَب تماشہ بن چکا ہے، اس لئے چلتا ہے کہ منہ موڑ کر جانے والوں کو واپس آنے سے روکا نہیں جاتا۔ اگر یہ طے کرلیا جائے کہ کوئی بھی پارٹی کسی بھی دوسری پارٹی کے کارکن یا لیڈر کو قبول نہیںکریگی تاوقتیکہ ایسا کرنے کی ٹھوس اور قابل قدر وجوہات نہ ہوں،  اُس دن اس کھیل کے ختم ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔ اس سے پہلے نہیں۔ مگر ایسی کوئی اُمید کرنا آج کے دور میں خود کو دھوکہ دینے یا زمین پر رہ کر چاند کیلئے مچلنے جیسا ہے۔ سوائے کمیونسٹ پارٹیوں کے ہمیں کوئی پارٹی ایسی نظر نہیں آتی جو ممبرشپ پر سخت ہو۔ سی پی آئی اور سی پی ایم میں بنیادی رُکنیت کیلئے بھی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ رُکنیت کی عرضی پر دو سینئر اراکین کی دستخط ضروری ہوتی ہے جو ضمانت دیں۔ پہلے لوکل اور پھر ہائر کمیٹی رُکنیت کے اُمیدوار کی عرضی پر غور کرتی ہے، انتخاب ہوجانے پر ابتداء میں ایک سال کی رُکنیت ملتی ہے اور ایک سال بعد کارکردگی دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پارٹیوں میں دل بدلی کم ہوتی ہے۔ جو آیا رام ہے وہ آیا رام ہی رہتا ہے گیا رام نہیں بنتا یا کم کم ہی ایسا ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK