جہانگیر خان اور دیگر کیخلاف کارروائیوں کے بعد سابق رکن پارلیمان اپروپا پوددار کے شوہر شاکر علی کی گرفتاری، ٹی ایم سی کو یومِ شہدا کی ریلی کی اجازت دینے سے بھی انکار۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 11:07 AM IST | Kolkata
جہانگیر خان اور دیگر کیخلاف کارروائیوں کے بعد سابق رکن پارلیمان اپروپا پوددار کے شوہر شاکر علی کی گرفتاری، ٹی ایم سی کو یومِ شہدا کی ریلی کی اجازت دینے سے بھی انکار۔
مغربی بنگال میں اقتدار میں آتے ہی بی جے پی پر انتقامی سیاست کے الزامات عائد ہونے لگے ہیں۔ ایک ایک کرکے جس طرح ترنمول کانگریس کے لیڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،اس سے ان الزامات کو تقویت بھی ملنے لگی ہے۔ جہانگیر خان اور دیگر لیڈروں کے خلاف کارروائی کے بعد ٹی ایم سی کی سابق رکن پارلیمان اپروپا پوددار کے شوہر شاکر علی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اسی طرح ایک اور معاملے میں کولکاتا پولیس نے ترنمول کانگریس کو دھرم تلہ میں یومِ شہدا کی روایتی ریلی کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے اراکین میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔ پارٹی نے اس کے خلاف احتجاج کا اشارہ دیا ہے۔
تازہ معاملے میں این آئی اے نے منگل کو مغربی بنگال کے رِشرا علاقے میں۲۰۲۳ء میں رام نومی کے جلوس کے دوران بھڑکنے والے تشدد کے معاملے میں ترنمول کانگریس کی سابق رکن پارلیمان اپروپا پودار کے شوہر اور میونسپل کونسلر شاکر علی کو گرفتار کر لیا ہے۔این آئی اے حکام نے جاری تحقیقات کے سلسلے میںآرام باغ کی سابق رکن پارلیمان اپروپا پوددار عرف آفرین علی کی رہائش گاہ پر تلاشی بھی لی۔
یہ بھی پڑھئے: این سی پی (شرد)، کانگریس میں ضم ہوگی: ویڈیٹیوار
ایجنسی کے ذرائع کے مطابق تفتیش کاروں نے واقعہ سے متعلق ویڈیو فوٹیج اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا جبکہ شاکر علی اور دیگر ملزمان کے موبائل فون ٹاور لوکیشن کا بھی تجزیہ کیا۔کارروائی کے دوران حکام نے شاکر علی سے ان کی سرگرمیوں اور واقعہ کے وقت ان کے ساتھ موجود افراد کے بارے میں پوچھ تاچھ کی، لیکن ان کے جوابات سے مطمئن نہ ہونےکی بات کہہ کر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
تلاشی مہم کے دوران علاقے میں مرکزی سیکورٹی فورسیز کے اہلکار تعینات رہے اور پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا۔ واضح رہے کہ ضلع ہگلی کے رِشرا میں رام نومی کے جلوس کے دوران بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اس دوران ریلوے پھاٹک کے قریب پتھراؤ، بمباری، آتش زنی اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے۔بعد ازاں کلکتہ ہائی کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات این آئی اے کے سپرد کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایجنسی نے اس سلسلے میں ۶؍ ایف آئی آر درج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحد پر پھنسے مہاراشٹر کے نوجوانوں کی واپسی کا مطالبہ
اسی کے ساتھ کولکاتا پولیس نے ترنمول کانگریس کے دونوں گروپوں کو۲۱؍ جولائی کو دھرم تلہ میں یومِ شہدا کی ریلی منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس نے شہر کے مصروف ترین علاقوں میں شامل اس مقام پر ٹریفک کی روانی اور عوام کو ہونے والی ممکنہ پریشانی کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا ہے۔
لال بازار پولیس ہیڈکوارٹرز کے حکام نے ممتا بنرجی کی قیادت والے کالی گھاٹ گروپ اور حریف رتوبرتا گروپ، دونوں کو مطلع کر دیا ہے کہ دھرم تلہ میں سڑکیں بند کر کے کسی بھی سیاسی پروگرام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ دونوں گروپوں نے۲۱؍ جولائی کو وکٹوریہ ہاؤس کے سامنے الگ الگ یومِ شہدا کی تقریبات منعقد کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل پولیس نے ترنمول لیڈروں کنال گھوش اور ڈولا سین کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اتوار کو مجوزہ مقام کا معائنہ اور پیمائش کرتے ہوئے ٹریفک میں خلل ڈالا تھا۔ حکومت کے اس رویے کے خلاف ترنمول کانگریس نے ریاستی سطح پر احتجاج کا اشارہ دیا ہے۔