Inquilab Logo Happiest Places to Work

انتہائی غریب طبقات کے غذائی حقوق پر حملہ

Updated: August 21, 2026, 3:56 PM IST | Jean Drèze | Mumbai

این ایف ایس اے میں مجوزہ ترمیم کے تحت انتویہ دیا انّا یوجنا خاندانوں کیلئے ماہانہ ۳۵؍ کلو گرام راشن کی جگہ فی کس ۷؍ کلوگرام راشن کا انتظام کیا جارہا ہے۔ اس سے ۵؍ افراد سے کم خاندانوں کوملنے والے راشن کا کوٹہ ۲۰؍سے۸۰؍ فیصد کم ہوجائیگا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہمارے اقدامات کتنے نتیجہ خیز ہیں، اس کا فیصلہ کرنےکیلئے مہاتما گاندھی نےیہ دیکھنے کاپیمانہ مقرر کیا تھا  کہ ان اقدامات کاکتنا فائدہ آخری شخص تک پہنچ رہاہے۔اس نکتہ نظرکی بنیاد پر دیکھا جائے توکہا جاسکتا ہے کہ نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) میں مجوزہ ترمیم وہ سب کچھ نہیں دیتی جس کی خواہش یا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ کہا جاسکتا ہےکہ غریبوں میںبھی انتہائی غریب طبقات کے غذائی حقوق پر یہ براہ  راست حملہ ہے۔اس کی مزیدوضاحت کی جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ  انتویہ دیا زمرے کے تقریباً۲؍ کروڑ خاندانوںپر اس کے برعکس اثرات ہوسکتے ہیں۔’ انتویہ دیا انّا یوجنا (اے اے وائے) ۲۰۰۰ء  کے اواخر میں اٹل بہاری واجپئی حکومت  کے تحت  شروع کی گئی تھی ۔ اس کا مقصدانتہائی غریب طبقےکے غذائی حقوق کا تحفظ کرناتھا۔   انتویہ دیا خاندانوںکی شناخت مقامی آبادیوں میںسے ہی ہونی تھی  ۔ انہیں علامتی قیمتوں پر ماہانہ۲۵؍ کلوگرام راشن کا اہل قراردیا گیاتھا ،بعد میں اسے بڑھا کر۳۵؍ کلوگرام کردیاگیا۔ آج  پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت ا ے اے وائے راشن مفت  دیاجارہا ہے  ۔ اس اسکیم کے تحت  پوری طرح محروم  طبقات کی شناخت اور نشاندہی کیلئے کوئی خاص پیمانہ مقرر نہیں کیاگیا تھا ۔ بعد ازاںسپریم کورٹ نے ان طبقات کی شناخت کیلئے کچھ تعریف متعین کی۔ مثال کے طورپرعدالت  نےکچھ خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی ) کے تعلق سے تسلیم کرتے ہوئے کہ  یہ سنگین حد تک غیر محفوظ ہیں، انہیںاے اے وائے کے تحت آسرا دینے کی حکومت کو ہدایت دی ۔ یہ بہت بڑے پیمانے پرہوا اوراس کے بعد پی وی ٹی جی کو اے اے وائےکارڈ فراہم کئے گئے جو ان کیلئے آج تک ایک بہت اہم سہولت ثابت  ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایک نئے دشمن کی تلاش

اسی کے ساتھ سپریم کورٹ نے یہ بھی مشاہدہ کیاکہ ہندوستان میںبڑی تعداد میںایسے خاندان بھی ہیںجو پوری طرح محرومی کی زد پر ہیںکیونکہ ان میںکوئی کمانے والا نہیں ہے۔   ان میںمعمر جوڑے ہیں،چھوٹے بچوںکےساتھ رہنے والی بیوائیںہیں،معذور افراد ہیں جن کا کوئی سہارا نہیں ہےاور ایسی کئی مثالیں ہیں۔۲؍ مئی ۲۰۰۳ء  کے ا پنے ایک حکم میںسپریم کورٹ نے ایسے سبھی افراد کو اے اے وائے اسکیم میں شامل کرنے کا حکم دیاتھا ۔اس حکم پر کتنا عمل کیاگیا ،اس کی صورتحال مختلف ریاستوں  میں مختلف ہوسکتی ہے، مگر اس حکم کے بعدبھی  انتہائی غریب خاندانوں اور محروم افرادکوغذائی تحفظ کے دائرے میںلانے کیلئے کوئی خاص فریم ورک تیار نہیںکیا جاسکا ۔نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ اس وقت  ایک نئےمرحلے میں داخل  ہوا جب اس نے مستحق خاندانوںکے معیارکے علاوہ  ترجیحی نقطہ نظر کی بنیاد پر فی کس آمدنی کی شرط نافذ کی جس سےاس میں راشن کارڈرکھنے والوں کی کافی بڑی تعداد آگئی۔ بہر حال انتیودیا کے تحت مستحق خاندانوںکیلئےصرف خاندان کی غربت  ومحرومی ہی پیمانہ رہی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اے اے وائے کےذریعے خصوصی توجہ ان خاندانوں کو ہی دی جا رہی تھی جن میںکوئی کمانے  والا نہیںتھا۔ ایسے افراد اور خاندانوںکی تعداد اتنی زیادہ نہیںتھی ،اسلئے اندیشہ تھا کہ فی کس آمدنی کی شرط رکھنے  پرایسے بہت سے گھرانے اورافراد غذائی تحفظ کے دائرے سے باہر ہوسکتے تھے۔ایسےخاندان اپنی بقا کیلئے اے اے وائے راشن پرہی انحصار کرتے تھے ۔یعنی فی کس آمدنی کی شرط کے ساتھ بہت سے محروم خاندان اور افراد خطرے میں آسکتے تھے جنہیں انتیودیا  پروگرام  کے تحت کلی طورپرمستحق خاندان کو ہی معیاربناکرتحفظ فراہم کیاگیا۔

یہ بھی پڑھئے:آزادی @۷۹: حساب ِ سود و زیاں بھی ضروری ہے

این ایف ایس اے میںمجوزہ ترمیم کے تحت انتویہ دیا   خاندانوں کیلئے  ماہانہ ۳۵؍ کلوگرام راشن کی جگہ فی کس ۷؍ کلوگرام راشن کا انتظام کیا جارہا ہے۔ایک خاندان کیلئے ۳۵؍ کلوگرام کی حد مقرر ہے۔۵؍ یا اس سے زیادہ ا فراد پر مشتمل خاندانوںکواس سے کوئی فرق نہیںپڑےگا لیکن جن خاندانوں میںاس سے کم افراد ہیں، وہ ۲۰؍ سے۸۰؍ فیصد تک اپنے غذائی حقوق سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ملک گیر کئے گئےہاؤس ہولڈ کنزیومر ایکسپینڈیچر سروے ۲۴-۲۰۲۳ءکے مطابق اس سودے بازی میںکوئی بھی مستحق خاندان فا ئدے میںنہیںہوگا ، سب نقصان میں ہوں گے ۔  

تنہارہنے والی خواتین سب سے زیادہ بلکہ بری طرح متاثر ہوں گی ۔انتویہ دیا  زمرے میںایسی ایک ملین یعنی ۱۰؍ لاکھ خواتین ہیں۔  ایچ سی ای ایس کے ڈیٹا کے مطابق  ان میں۸۵؍ فیصد بیوائیںجبکہ ۷۴؍ فیصداَن پڑھ خواتین ہیں۔ایستھر ڈفلو اور  دیگر کی تحقیق کے مطابق اس صورت میںایسی خواتین کی اکثریت ذہنی پریشانی اور سماجی صدمہ کاشکار ہوسکتی ہے۔انہیںاب تک جو ماہانہ ۳۵؍ کلوراشن مل رہا ہے، وہ مجوزہ ترمیم کی صورت میں۷؍ کلو تک محدود ہوجائےگا  ۔اس میں شبہ نہیںکہ چھوٹے خاندانوںکیلئے ۳۵؍ کلو ماہانہ راشن کافی ہوتا ہےاوربچنے کی صورت میںاسے دیگر چیزوںیا نقدرقم کے تبادلے کے طورپر بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔یہ ماہانہ راشن چھوٹے غریب خاندانوں کیلئے صرف کھانا نہیںبلکہ معاشی وسائل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ غریب ترین خاندانوںکے غذائی حقوق میںیہ کمی مساوات کے نام پر کی جارہی ہے۔ یہ ایسا ہے جیسےچپراسی کو دی جانے والی تنخواہ میں اس بنیاد پر تخفیف کرنا کہ اس سے چپراسی اورچوکیدارکی تنخواہوں کا فرق کم کیاجاسکے ۔ اس مجوزہ ترمیم کا مقصداس کے سوا کچھ نہیںہوسکتا کہ حکومت اپنا پیسہ بچانا چاہتی ہے۔ ۲۴-۲۰۲۳ء  میںاے اے وائے کے تحت ۱۰؍ ملین ٹن اناج مختص کیا گیاتھامگر کھپت ۸ء۸؍ ملین ٹن رہی ۔ایچ سی ای ایس کے خاندانوں کے حجم کے  ڈیٹا کی  بنیاد پرہم کہہ سکتے ہیںکہ حکومت مجوزہ ترمیم کے ذریعے۷ء۶؍ ملین ٹن راشن تقسیم کرنا چاہتی ہے، یعنی اس طرح وہ سالانہ ۲؍ ملین ٹن اناج بچا لے گی ۔  اب  دو ڈھائی ملین ٹن اناج بچا کر حکومت کیا حاصل کرلے گی جبکہ گوداموں میں منوں اناج کا ذخیرہ پہلے ہی موجود ہے۔ حکومت کیلئے یہ صرف اناج کا اضافی ذخیرہ ہوسکتاہے لیکن غریب کیلئے تو دانے دانے کی قیمت ہوتی ہے۔ چھوٹی بچتوںپر توجہ دینے کی بجائے حکومت کو انتویہ دیا پروگرام کو نیا روپ دینے پر غور کرنا چاہئے۔ اے اے وائی کی فہرست بہت پرانی ہوچکی ہے۔اس میںناموںکی شمولیت اور حذف کا امکان ہے۔کسی کا راشن کارڈ منسوخ کئے بغیر کچھ خاندانوںکو ترجیحی زمروں میںمنتقل کرکے ان کیلئے جگہ بنائی جاسکتی ہےجنہیںغیر مناسب طریقے سے باہر کردیاگیا ہے، اور، جہاں تک این ایف ایس اے  میں ترمیم کا تعلق ہے ، اسےکچرے کے ڈبے میں ڈالنا بہتر ہے۔ ( بشکریہ انڈین ایکسپریس ۔مضمون میںآزاد ریسرچرمحمدضمیر نے بھی تعاون کیا ہے ) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK