Inquilab Logo Happiest Places to Work

मी मराठी बोलू शकतो

Updated: August 26, 2026, 3:33 PM IST | Mumbai

مراٹھی ریاستی زبان ہے، اس کا سیکھنا ضروری ہے۔ سیکھ کر اس میں گفتگو کی اہلیت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔یہ زبان اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ریاستی حکومت کے اعلانات، اشتہارات اور نوٹسیں مراٹھی میں ہوتی ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

مراٹھی ریاستی زبان ہے، اس کا سیکھنا ضروری ہے۔ سیکھ کر اس میں گفتگو کی اہلیت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔یہ زبان اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ریاستی حکومت کے اعلانات، اشتہارات اور نوٹسیں مراٹھی میں ہوتی ہیں۔ سرکاری دفاتر کا سارا کام کاج مراٹھی میں ہوتا ہے اور بول چال کی زبان بھی مراٹھی ہے۔ مراٹھی ضروری ہے یہ بات ہم کہتے ہی نہیں اس پر دل سے یقین بھی رکھتے ہیں مگر کیا آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی سیکھنے کی شرط عائد ہونی چاہئے؟ کیا مراٹھی نہ سیکھنے یا  سیکھ نہ پانے کی ’’پاداش‘‘ میں اُن کا بیج اور پھر پرمٹ منسوخ کیا جانا چاہئے؟ 

یہ بھی پڑھئے: ’’کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا‘‘

ہماری رائے میں مراٹھی کو جبراً نافذ کرنا ٹھیک نہیں۔ ٹھیک اگر کچھ ہے تو یہ کہ مراٹھی کی محبت دلوں میں پیدا کی جائے اس لئے کہ زبان محبت ہے جبر نہیں۔ اگر حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے اس کا سیکھنا لازمی ہونا چاہئے تو دکانداروں کو کیوں بخشا جائے؟ وہ بھی گاہکوں کے رابطے میں آتے ہیں۔ پھر سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر کو کیوں بخشا جائے۔ ان دفاتر کا بھی عوام سے رابطہ رہتا ہے۔ آٹو اور ٹیکسی کے ایسے ڈرائیوروں سے ہماری ملاقات ہوچکی ہے اور ہوتی رہتی ہے جن کیلئے مراٹھی اجنبی زبان تھی مگر ممبئی اور مہاراشٹر میں رہتے ہوئے اُنہوں نے ضروری سمجھا اور پہلے ٹوٹی پھوٹی ، پھر روانی سے مراٹھی بولنے لگے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ ترغیب دلاتی۔ اس نے تعزیر کا اعلان کردیا کہ ایک ماہ میں سیکھئے ورنہ بیج منسوخ ہو گا اور اس کے بعد بھی نہیں سیکھی تو پرمٹ منسوخ ہوگا۔ ہمیں ڈر ہے کہ اس سے مراٹھی کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان پہنچے گا کیونکہ اس طرح مراٹھی کی محبت نہیں، جبر کا احساس پیدا ہوگا اور جو زبان خوشی خوشی سیکھنی چاہئے وہ بالجبر اور بالاکراہ سیکھی جائیگی اور جو لوگ ایسا بھی نہیں کرپائیں گے وہ مہاراشٹر چھوڑ کر چلے جائینگے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ہمیں کیسا ملک چاہئے!

میڈیا رپورٹس میں ہم اُن ڈرائیوروں کے اعتراضات پڑھ چکے ہیں جو مراٹھی کی لزومیت پر برہم ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم کبھی اسکول نہیں گئے مراٹھی کیسے سیکھ پائیں گے۔ یہ بھی کہا کہ ہم سیکھ رہے ہیں مگر سخت مشکل پیش آ رہی ہے۔ کسی کا کہنا تھا کہ لائسنس جاری کرتے وقت ہی کہہ دینا چاہئےتھا کہ مراٹھی سیکھنا لازمی ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ کئی زبانیں جانتا ہے مگر مراٹھی نہ جاننے کے سبب سزا دینا ٹھیک نہیں، وغیرہ (این ڈی ٹی وی رپورٹ مورخہ ۲۴؍ اگست ۲۶ء) ۔ معلوم ہوا کہ کسی میں سیکھنے کی چاہت ہے مگر اسے جبر پسند نہیں، کسی میں سیکھنے کی اہلیت نہیں ہے اس لئے چاہتا ہے کہ یہ فرمان واپس لیا جائے، کسی کو گلہ ہے کہ سزا کیوں دی جا رہی ہے اور کسی کا کہنا تھا کہ مسافروں کی بات سمجھنے کیلئے جتنی مراٹھی آنی چاہئے وہ ہمیں آتی ہے اور ہم اُن کے سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں۔ یہ تاثرات غلط نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں  حکومت کو چاہئے کہ مراٹھی نافذ نہ کرے بلکہ اس کے تعلق سے عام بیداری پیدا کرے، زبان سیکھنے کی ترغیب دلائے، سہولتیں پیدا کرے، سیکھنے کیلئے زیادہ وقت دے، سزا کی شق کو حذف کرے اور جو لوگ غیر مراٹھی ہیں مگر روانی سے مراٹھی بولتے ہیں اُنہیں انعام و اکرام سے نوازے۔ اس سے دوسروں کی دلچسپی بڑھے گی اور مراٹھی کا بول بالا ہوگا یعنی وہ مقصد پورا ہوگا جو حکومت پورا کرنا چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK