گھاٹکوپر چراغ نگر میں۷۴؍ ویں جلوسِ کی قیادت مولانا سید صوفی مفتی محمد ضیاء الدین نقشبندی نے جبکہ مالونی میں نکالے گئے جلوس کی قیادت تاج الشریعہ کے خلیفہ مولانا اختر رضا مصباحی نقشبندی نے کی۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 4:29 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
گھاٹکوپر چراغ نگر میں۷۴؍ ویں جلوسِ کی قیادت مولانا سید صوفی مفتی محمد ضیاء الدین نقشبندی نے جبکہ مالونی میں نکالے گئے جلوس کی قیادت تاج الشریعہ کے خلیفہ مولانا اختر رضا مصباحی نقشبندی نے کی۔
سرکارِ دو عالمؐ کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر جنوبی ممبئی کی طرح مضافاتی علاقوں میں بھی جلوس نکالا گیا جن میں ورلی، کرلا، گوونڈی گھاٹکوپر، ماہم، مالونی، وکھرولی، باندرہ، وسئی پھاٹا وغیرہ شامل تھے۔
مرکزی عیدمیلادالنبی کمیٹی کے زیراہتمام جلوس
گھاٹکوپر میں مرکزی عید میلاد النبی کمیٹی کے زیر اہتمام جلسہ اور جلوس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی عید میلاد النبی کمیٹی کے صدر محمد عارف نسیم خان نے کہا کہ سرکارِ دو عالم ؐ کی آمد سے انسانیت کو جہالت اور تاریکی سے نجات کا راستہ ملا۔ آپؐ نے پیدائش سے موت تک ایک باوقار اور پُرامن زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا۔ اسلام امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ پرستی اور نفرت پھیلانے والی طاقتوں کا مقابلہ کرنا ضروری ہے تاکہ ملک میں امن، سلامتی، اتحاد اور اتفاق کی فضا برقرار رہے۔ انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات سے نوجوان نسل کو نشے سے دور رکھنے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی پیپر لیک معاملے میں ۶؍ افراد گرفتار
قائد ِ جلوس مولانا سید صوفی مفتی محمد ضیاء الدین نقشبندی نے اپنے خطاب میں ولادتِ باسعادتِ رسولِ اکرمؐ کو انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرمؐ نے دنیا میں انصاف، مساوات، رحم، حسنِ اخلاق اور انسانی احترام کا پرچم بلند کیا۔ آپ رحمۃ للعالمین ہیں۔ آپ کی مبارک تعلیمات امن و رحمت کا درس دیتی ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے نبی کریمؐ کے حسنِ اخلاق کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور اپنے کردار و عمل سے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تعلیمات پیش کریں۔ مسلمان جہاں بھی رہیں، رحمت، امن، محبت اور خیر خواہی کا ذریعہ بن کر رہیں۔ عشقِ مصطفیٰ کو دلوں میں بسا کر اور آپ ؐ کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی حقیقی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
جلسے میں بتایا گیا کہ مرکزی عید میلاد النبی کمیٹی کے زیر اہتمام نکالا جانے والا یہ۷۴؍ واں جلوس ہے جبکہ محمد عارف نسیم خان کی صدارت کا یہ ۳۸؍ واں سال ہے۔ یہ جلوس چراغ نگر، گھاٹ کوپر سے روانہ ہوکر پارسی واڑی، لال بہادر شاستری مارگ سے گزرتا ہوا وکھرولی پارک سائٹ کی مدینہ جامع مسجد کے پاس اختتام پذیر ہوا۔
مالونی میں جلوس
مالونی میں انجمن جامع مسجد سے اویس قرنی قبرستان تک نکالے گئے جلوس کی قیادت تاج الشریعہ کے خلیفہ مولانا اختر رضا مصباحی نقشبندی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن کا پیغام ہے کہ ہم آپؐ کی مبارک تعلیمات پر عمل کریں اور آپؐ کی سیرت طیبہ سے روشنی حاصل کرکے اپنی زندگیوں کو روشن کریں، یہی ولادت رسولؐ منانے کا حقیقی پیغام ہے۔
تصویر مالونی کے جلوس کی ہے۔ تصویر: انقلاب
رکن اسمبلی اسلم شیخ نے کہا کہ آپؐ کی ولادت کا حقیقی جشن یہ ہے کہ ہم آپؐ کی سچی اتباع کریں اور آپ کی مبارک تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں۔ آپؐ نے جو مساوات اور عدل و انصاف کی تعلیم دی ہے، اس پر عمل پیرا ہوں۔
سنی دعوت اسلامی کی جانب سے جلوس
ٹیگور نگر، وکھرولی میں سنّی دعوت اسلامی کی جانب سے جلوس کا اہتمام کیا گیا۔ اس دوران سرکار کی آمد پر علماء اور طلبہ نے خاص طور پر اشعار پڑھے اور آپؐ کی سنتوں کی مطابق زندگی گزارنے کا پیغام دیا۔ وکھرولی کے اس جلوس میں مبلغ شہزاد علی رضوی اور مولانا سمیع اللہ فیضی، بدرالدین شیخ، حاجی محمد ابراہیم صدیقی اور عرفان نوری وغیرہ پیش پیش تھے۔
ٹیگورنگر میں سنی دعوت اسلامی کے جلوس کے شرکاء۔ تصویر: انقلاب
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : سڑک کے گڑھوں کیخلاف این سی پی کا انوکھا احتجاج
وسئی پھاٹا میں جلوس
وسئی پھاٹا میں نکالا گیا جلوس عید میلادالنبیؐ ساتیولی علاقہ سے ہوتے ہوئے رینج آفس، گولانی ناکہ، والیو، وسئی پھاٹا، سوپارہ پھاٹا، واکن پاڑہ ہوتے نوجیون اپا گراؤنڈ پر اختتام ہوا۔ اس جلوس میں مولانا احمد رضا مصباحی، مولانا ایوب، مولانا نایاب مصباحی اور مولانا محمد احمد نے قیادت کی۔ اس دوران یہ پیغام دیا گیا کہ آپؐ کا اتباع اصل ہے اور آپؐ کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنا ہی سچا عاشق رسول ہونے کی دلیل ہے۔
پون کھیڑا نے میثاقِ مدینہ کا حوالہ دیا
گھاٹکوپر کے جلوس میں شریک کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے مسلمانوں سے بار بار حب الوطنی کا ثبوت طلب کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے میثاقِ مدینہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایمان کے ساتھ تہذیب، محبت، رواداری، بھائی چارے اور باہمی ذمہ داریوں کی تعلیم ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کے وقت بھی ہندو- مسلم اتحاد کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں، اس لئے آج بھی نفرت کے مقابلے کیلئے اتحاد اور محبت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ گوڈسے کی سوچ کو فروغ دے کر مہاتما گاندھی کے نظریات اور ان کے پیغامِ محبت و عدم تشدد کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
تشارگاندھی کی نوجوانوں سے اپیل
گھاٹکوپرکے ہی جلوس میں مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ دلوں میں نفرت پیدا کرنا بدعنوانی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کیلئے اپنا وقت اور صلاحیتیں وقف کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آزادی کی جدوجہد میں عوام نے متحد ہوکر اپنا کردار ادا کیا تھا، اسی طرح آج بھی محبت، اتحاد اور محنت کے ذریعے ملک کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔