• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیکساس: ”غیرملکی“ طلبہ کو نشانہ بنانے والے بو فرینچ کےپوسٹ پر انڈین امریکنز، ریپبلکنز کا شدید ردِعمل

Updated: September 14, 2026, 6:21 PM IST | Washington

ٹیکساس ریل روڈ کمشنر کیلئے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار بو فرینچ (Bo French) نے ایک فٹ بال میچ کے دوران جیت کا جشن مناتے ہوئے یونیورسٹی آف ٹیکساس کے طلبہ کی ایک تصویر پوسٹ کی اور اس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ اس تصویر میں دکھائی دے رہے مجمع میں زیادہ تر غیر سفید فام بھیڑ اس بات کی عکاس ہے کہ امریکیوں کو ”غیر ملکیوں کے ذریعے بے دخل“ کیا جا رہا ہے۔ اس پوسٹ کے وائرل ہونے کے بعد انہیں بڑے پیمانے پر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

Bo French. Photo: X
بو فرینچ۔ تصویر: ایکس

ٹیکساس ریل روڈ کمشنر کیلئے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار بو فرینچ (Bo French) نے ایک فٹ بال میچ کے دوران جیت کا جشن مناتے ہوئے یونیورسٹی آف ٹیکساس کے طلبہ کی ایک تصویر پوسٹ کی اور اس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ اس تصویر میں دکھائی دے رہے مجمع میں زیادہ تر غیر سفید فام بھیڑ اس بات کی عکاس ہے کہ امریکیوں کو ”غیر ملکیوں کے ذریعے بے دخل“ کیا جا رہا ہے۔ اس پوسٹ کے وائرل ہونے کے بعد انہیں بڑے پیمانے پر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ پر یہودی انتہاپسندوں کا دھاوا،۴۸۰؍ افراد صحن میں داخل

اتوار کے روز کئے گئے اس پوسٹ میں فرینچ نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی آف ٹیکساس (UT) پر ”غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی شہریوں کا غلبہ ہو چکا ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ”ٹیکساس کے ان خاندانوں کیلئے روئے“ جو یونیورسٹی آف ٹیکساس میں داخلہ حاصل کرنے سے قاصر رہے کیونکہ یونیورسٹی نے مبینہ طور پر ٹیکساس کے باشندوں پر غیر ملکیوں کو ترجیح دی۔

میڈیا رپورٹس نے نشاندہی کی کہ تصویر میں موجود بہت سے طلبہ بظاہر جنوبی ایشیائی یا ہندوستانی نژاد دکھائی دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ ٹیکساس تقریباً ۱۹ لاکھ ایشین امریکنز کا مسکن ہے، جن میں ۴ لاکھ ۵۰ ہزار سے زائد انڈین امریکنز شامل ہیں۔ ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ۸۰ فیصد طلبہ ٹیکساس کے رہائشی ہیں، جبکہ بین الاقوامی طلبہ ۱۰ فیصد سے بھی کم ہیں۔ ریاست کا قانون ٹیکساس کے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ہائی اسکول کے فارغ التحصیل طلبہ کیلئے ترجیحی داخلے کو بھی لازمی قرار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلپائن کے مسلم اکثریتی خطے میں تاریخی پارلیمانی انتخابات، ۸۰؍ نشستوں پر ووٹنگ

فرینچ کو شدید تنقید کا سامنا

اس متنازع پوسٹ پر فرینچ کی اپنی ہی پارٹی کے اندر سے شدید تنقید کی گئی۔ سینیٹر جان کارنن نے اسے عدم برداشت پر مبنی قرار دیا اور خبردار کیا کہ جب اس طرح کے بیانیے کا نوٹس نہ لیا جائے تو سیاسی جماعتیں ”خود کو تباہ“ کر لیتی ہیں۔ گورنر گریگ ایبٹ نے فرینچ کے تبصروں سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر دراصل اپنی ٹیم کی حمایت میں متحد ہونے والے ٹیکساس کے باشندوں کو دکھاتی ہے۔ تاہم، انہوں نے سخت امیگریشن پالیسیوں بشمول ریاستی یونیورسٹیوں میں ایچ-ون بی ویزوں کو منجمد کرنے کی بدستور حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اخوان المسلمون کے خلاف خفیہ مہم میں کلاؤڈ اے آئی کے استعمال کا انکشاف

ریاستی نمائندے لیسی ہل نے اس پوسٹ کو دل دہلا دینے والا قرار دیا، جبکہ نمائندے جیریڈ پیٹرسن نے اسے نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے دلیل دی کہ کالج کے طلبہ کو ان کی جلد کے رنگ کی بنیاد پر نشانہ بنانے میں کوئی قدامت پسندی نہیں ہے۔ ہاؤس اسپیکر ڈسٹن بروز نے کہا کہ اس پوسٹ نے ”حد پار کر دی ہے۔“ نمائندے جیف لیچ نے جوابی ردِعمل کے طور پر متنوع ہم جماعتوں کے ساتھ اپنے بیٹے کی تصویر شیئر کی۔

انڈین امریکن ایڈوکیسی کونسل نے اس پوسٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ”سانولے رنگ کے طلبہ پر نسل پرستانہ حملہ“ قرار دیا، جبکہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے منتخب عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان مخالف اور ہندو مخالف بیانیے کے خلاف آواز اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھئے: دہشت گرد اب نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کے لئے گیمنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں: یواین

فرینچ، جو ماضی میں مسلمانوں اور مقامی امریکیوں کے بارے میں بھی متنازع بیانات دے چکے ہیں، نے اس پوسٹ کو حذف کرنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے ناقدین کو ”RINOs“ (صرف نام کے ریپبلکن) اور ”امریکہ لاسٹ“ شخصیات کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK