• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ ’’بہت کچھ‘‘ اور یہ ’’بہت کچھ‘‘ (۱)

Updated: October 07, 2026, 2:14 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اِن دنوں بہت کچھ ہورہا ہے۔ بہت کچھ پہلے بھی ہورہا تھا مگر ماضی کے بہت کچھ اور حال کے بہت کچھ میں فرق یہ ہے کہ ماضی میں بہت کچھ ایسا ہورہا تھا جس سے ملک کی فرقہ وارانہ فضا مکدر ہورہی تھی، سیاسی اکثریت پرستی کا زور بڑھ رہا تھا، آئے دن ناخوشگوار واقعات رونما ہو رہے تھے اور عوام میں خوف سرایت کرچکا تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اِن دنوں بہت کچھ ہورہا ہے۔ بہت کچھ پہلے بھی ہورہا تھا مگر ماضی کے بہت کچھ اور حال کے بہت کچھ میں فرق یہ ہے کہ ماضی میں بہت کچھ ایسا ہورہا تھا جس سے ملک کی فرقہ وارانہ فضا مکدر ہورہی تھی، سیاسی اکثریت پرستی کا زور بڑھ رہا تھا، آئے دن ناخوشگوار واقعات رونما ہو رہے تھے اور عوام میں خوف سرایت کرچکا تھا۔ اس کے برخلاف، حال کے بہت کچھ میں جمہوریت کی بقاء کی جدوجہد سب سے زیادہ اہم ہے۔ ایک طرف کانگریس ہے جو غیر فعال بھلے ہی نہ رہی ہو مگر اس پر غیر فعال ہونے کا گمان تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ ملک کی یہ قدیم پارٹی کئی معاملات بالخصوص فرقہ وارانہ معاملات پر کھل کر بول رہی ہے۔ اس نے آئین ہاتھ میں لے کر چلنے کی روایت کے ذریعہ ہر خاص و عام کو احساس دلایا ہے کہ ملک میں آئین بالاتر ہے اس کے اوپر کوئی نہیں۔ اس کا دفاعی انداز جارحانہ تیور میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ووٹ چوری پر سب سے پہلے اسی پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے ناقابل تردید انکشافات کئے تھے۔ دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی میدانِ عمل میں ہیں جن میں سماج وادی، شیو سینا (اُدھو)، این سی پی (شرد) اور بائیں محاذ کا نام خاص طور پر لیا جاسکتا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جب سے شروع ہوئی ہے، اس نے حکومت کیلئے بڑا چیلنج کھڑا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وقت کروٹ بدل رہا ہے اور یہ خوش آئند ہے!

آن لائن تشکیل پانے والی یہ پارٹی چونکہ غیر سیاسی ہے اور اس سے نئی نسل وابستہ ہوئی ہے اس لئے حکمراں محاذ اس کے سوالات کا سیاسی جواب دے کر اس سے پنڈ نہیں چھڑا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی ناک میں دَم ہے۔ اس کے ساتھ کھڑی رہنے والی نئی نسل (جین زی) تین اہم خصوصیات کی حامل ہے۔ باخبر ہے، بے خوف ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی بات کہتی ہے۔ گزشتہ سنیچر کو جب یہ نوجوان جنتر منتر کی جانب کوچ کررہے تھے تب اُن کے جم غفیر کو روکنے کی کوشش میں پولیس کے پسینے ایسے ہی نہیں چھوٹے۔ پولیس کے ذریعہ ایک بس میں مظاہرین کے سوار کئے جانے کے بعد ایمرجنسی ایگزٹ سے اُن کے نکل نکل کر بھاگنے کے ویڈیو سوشل میڈیا پر چھائے رہے۔ ایک اور بس کو جب نوجوانوں سے بھر دیا گیا تب ایک طالبہ نے ذہانت اور ظرافت دونوں کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ بس کی چابی لے کر سرپٹ دوڑی۔ اس کا ڈرائیور مسکرا رہا تھا۔ ان بچوں کا کمال یہ ہے کہ  احتجاج کو بوجھل نہیں ہونے دیا۔ ماضی قریب کی شاید ہی کوئی نسل رہی ہو جس نے مظاہرہ کو میلہ، نعروں کو مزاحیہ اور مطالبات کو تخلیقی بنایا ہو۔ مظاہرہ پُر مشقت ہوتا تھا انہوں نے پُر لطف بنا دیا۔ ایک طرف ان کی شوخی اور جرأت ہے تو دوسری طرف نیہا بورا جیسوں کی بہادری ہے۔ نیہا تو نہایت کم وقت میں خود کو اس طرح منوا چکی ہیں کہ انہیں حالیہ مظاہروں کا سب سے نمایاں چہرا قرار دیا جارہا ہے۔ سول سوسائٹی کے لوگ (یوگندر یادو، پرشانت بھوشن، انجلی بھاردواج، کپل سبل اور دیگر) بھی حالیہ مہینوں کے ’’بہت کچھ‘‘ کا اہم حصہ ہیں (جاری)۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK