• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وقت کروٹ بدل رہا ہے اور یہ خوش آئند ہے!

Updated: October 07, 2026, 2:04 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

ہم نے تاریخ پڑھی ہے مگر تاریخ بنتے ہوئے نہیں دیکھی۔ نئی نسل نے تو بالکل نہیں دیکھی۔ مگر اِن دنوں پورا ملک تاریخ کو بنتے ہوئے دیکھ رہا ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ کارنامہ کوئی اور نہیں، نئی نسل ہی انجام دے رہی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

جمہوریت کی خوبی یہ ہے کہ اگر عوام کو حکومت سے شکایت یا اس کے کسی اقدام سے اختلاف ہے تو وہ بے خوف ہوکر سڑک پر آ کر احتجاج کرسکتے ہیں۔ پر امن جمہوری احتجاج کسی بھی معاشرہ میں عوام کے سیاسی شعو ر کی پختگی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے تئیں ان کے کمٹمنٹ کا ثبوت ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کی نگاہ میں، اس کے کسی فیصلے سے اختلاف گناہ اوراحتجاج جرم بن گیا ہے۔ جمہوری طریقے سے منتخب یہ حکومت کسی بھی احتجاج کو کچلنے کیلئے آمرانہ روش اختیارکرنے سے بھی نہیں ہچکچاتی۔ اس جابرانہ رویے کی وجہ سے ملک میں احتجاج اور مظاہرے رفتہ رفتہ کم ہونے لگے تھے مگر ا، الگ الگ شہروں میں لاکھوں لوگ جس طرح ایس آئی آر کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور گرفتاری کی حمایت میں احتجاج کررہے ہیں ان سے یہ لگ رہاہے کہ وقت کروٹیں لے رہا ہے۔ 

کل تک جس حکومت کے خلاف اپوزیشن لیڈروں کو بھی زبان کھولنے میں ڈر لگتا تھا آج اسی حکومت پر عام شہری بھی بے خوف ہوکرتنقید کررہا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد کی پارٹیاں ملک کی مختلف ریاستوں میں اپنے اپنے طورپر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کررہی ہیں مگر یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ سیاسی احتجاج نئی نسل کی شمولیت کے سبب عوامی تحریک میں بدلنے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تخریب میں تعمیر کا نقشہ

۲؍ اکتوبر کو ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے شیواجی پارک، ممبئی میں جو احتجاج کیا وہ اتنا کامیاب تھا کہ اس کی بازگشت سارے ملک میں سنی گئی۔ اس کامیابی کی اہم وجہ یہ تھی کہ یہ جین زی کا پروگرام تھا کسی سیاسی پارٹی کا نہیں۔ ممبئی کا احتجاج بلاشبہ کامیاب تھا لیکن کاکروچوں کا اصلی امتحان ۱۰؍ اکتوبر کوہوگا جب وہ جنتر منترپر مظاہرہ کیلئے جمع ہونگے۔ دلی میں گزشتہ چار دنوں سے سول سوسائٹی کے اراکین، مشہور وکلا، سماجی کارکن، فلمساز، ادیب و شاعر اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے اراکین لڑکے لڑکیاں جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن پولیس جس نے پورے علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے انہیں حراست میں لے کراور بسوں میں بھر کر دور لے جا رہی ہے کیونکہ مودی حکومت کسی بھی قیمت پر جنتر منتر پر ایک اور عوامی مظاہرہ کا ’’خطرہ‘‘ نہیں لینا چاہتی۔ دھرمیندر پردھان محض ایک پیادہ تھا جسے قربان کرنے سے حکومت پر کوئی آنچ نہیں آرہی تھی۔ گیانیش کی حیثیت اس اساطیری طوطے کی ہے جس میں راجاکی جان ہوا کرتی تھی۔ حکومت گیانیش کمار کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار لگ رہی ہے۔ 

کیا حکومت اس مقصد میں کامیاب ہو گی؟ کیا جبرکے ذریعہ نوجوانوں کی آواز کو دبایا جاسکے گا؟ جولائی میں امیت شاہ کی پولیس جنتر منتر پر پوری طاقت جھونک دینے کے باوجود طلبہ کی تحریک کو کچلنے میں ناکام رہی تھی۔ اس بار تو نیہا بورا، ابھیجیت دپکے، سورو داس اور ان کے ساتھیوں کے عزائم پہلے سے بھی زیادہ غیر متزلزل نظر آرہے ہیں۔ پچھلی بار تو صرف نیٹ امتحان کے پرچے لیک ہونے کا مسئلہ تھا اس بار تو کروڑوں ہندوستانیوں کے حق رائے دہی اور شہریت کو بچانے کی لڑائی ہے۔’’غدار گیانو مسٹ گو‘‘ اور ’’گیانو، اٹس ڈن برو‘‘ جیسے نعروں سے واضح ہوگیا کہ جین زی کا رویہ پہلے سے کہیں زیادہ جارحانہ ہوسکتا ہے۔ اس Bluntنسل کی خصوصیت یہ ہے کہ جو اس کے دل میں وہی زبان پر ہے۔ شیواجی پارک پر ابھیجیت دِپکے نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں انہیں کہنے کیلئے بڑے حوصلہ کی ضرورت تھی۔ انہوں نے مودی جی کو ’’تانا شاہ‘‘ بھی قرار دیا اور انہیں آگاہ بھی کردیا کہ اگر مودی ہٹلر کی راہ پر چل رہے ہیں تو انہیں ہٹلر کا انجام یاد رکھنا چاہئے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کو تو انہوں نے براہ راست چیلنج کیا اور کہا کہ دلی میں ۲۰؍ جولائی کو پولیس کو کم سن مظاہرین پر لاٹھیاں چلانے کا آرڈر دے کر انہوں نے پہلی غلطی کی تھی۔’’ اگر دوسری غلطی کی تو اس بار تمہارا استعفیٰ ہوگا۔‘‘ مضبوط ارادے اورسچی لگن کے علاوہ ابھیجیت دِپکے اور لفٹ اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا بوراکی امتیازی خصوصیت سیکولر اقدار پر ان کا یقین ہے۔ دونوں لیڈران معاشرہ کو مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ سیاست سے پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ۲؍ اکتوبر کی تقریر میں دِپکے نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی عوام کو ہندو مسلم کی سیاست میں الجھاکر ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کررہی ہے۔ وہاں موجود ہزاروں نوجوانوں نے دِپکے کے اصرار پرمتعدد بار ’’ہندو مسلم راج نیتی نہیں چلے گی‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ ایسا حوصلہ افزا نعرہ مَیں نے ایک عرصہ کے بعد سنا۔ جین زی نے ملک کے کروڑوں نا امیدوں کے دل میں امید کی نئی جوت جلائی ہے۔ ایک اور کاکروچ لیڈر سو رو داس کی زبان تو سپریم کورٹ کو ہدف بنانے میں بھی نہیں لڑ کھڑائی جن کا کہنا تھا کہ گیانیش کو اتنی دیدہ دلیری سے کروڑوں لوگوں کے ووٹ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوتا اگر انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے قانونی تحفظ حاصل نہ ہوتا۔ 

یہ بھی پڑھئے:جب گاندھی جی نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دہی پیش کی

سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج جسٹس اجل بھوئیاں کا یہ بیان کہ’’ بڑے پیمانے پر ووٹروں کا نام کاٹا جانا آئین کی روح پر کرارا وار ہے‘‘ بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ موسم بھی بدل رہا ہے۔ بھوئیاں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایس آئی آر جیسی کسی کارروائی کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں ہندوستانی شہریوں سے ووٹ دینے کا حق چھین کرانہیں دوسرے درجے کا شہری بنادیا جانا بالکل غلط ہے۔ کیا اس سے پہلے، سپریم کورٹ کے کسی جج صاحب نے اتنی ہمت دکھائی تھی؟ سپریم کورٹ کے ایک سابق جج روہنٹن فالی نریمان نے ایس آئی آر کے بہانے بڑی تعداد میں ووٹر لسٹ سے نام کاٹے جانے کی کارروائی کو ’’ سراسر غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔

انڈین ایکسپریس کی دھماکہ خیز رپورٹ کے بعد سے بار بار گیانیش کمار کا مکرو فریب بے نقاب ہورہا ہے۔اب تو سپریم کورٹ نے فارم ۶؍ میں ردوبدل کی منظوری نہ دینے کا دعویٰ کرکے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔الیکشن کمیشن کو بھی بدلتے حالات کا بخوبی اندازہ ہے ورنہ ایس آئی آر کے ضابطوں میں نہ تو فوری تبدیلیاں کی جاتیں نہ ہی نام بحال کرنے کیلئے خصوصی مہم کا اعلان ہوتا۔ الیکشن کمیشن کے یہ اقدامات اعتراف جرم نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن مودی سرکار اور الیکشن کمیشن کا پکڑے جانے پر’’کچھ دے دلا کر جان چھڑانے ‘‘ کا پلان کام نہیں آئیگا۔ ووٹروں کا حق چرانے کے بعد بھانڈہ پھوٹنے پر ناموں کی بحالی کا فیصلہ چوری کا مال لوَٹانے جیسا ہے۔ مال واپسی سے چوری کا جرم کم نہیں ہوتا۔ اس کی سزا تو ضرور ملنی چاہئے۔ اب لوگوں کی زبان کھلنے لگی ہے تو اور کتنے راز افشا ہوں گے اور کون کون بے نقاب ہوگا یہ کہنا مشکل ہے۔ شیواجی پارک، ممبئی کے مظاہرہ میں وہی جوش و ولولہ نظر آیا جو جولائی میں جنتر منتر پر دیکھا گیا تھا۔ تب، اس اڑیل حکومت کو نوجوانو ں کے عزم و استقلال کے سامنے جھکنا پڑا تھا، کیا اس بار بھی حکومت منہ کی کھائے گی اور چیف الیکشن کمشنر کو ہٹائے گی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK