Updated: June 20, 2026, 3:37 PM IST
| Mumbai
نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق اچانک اموات میں ۳۰؍ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ کی ایک اسٹڈی میں ۲۲۱۴؍ پوسٹ مارٹم کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو کھلا کہ نوجوانوں میں اچانک موت کے واقعات ۲ء۵۷؍ فیصد تھے۔ ان کی عمر کا اوسط ۶ء۳۳؍ سال تھا۔
اس میں شک نہیں کہ موت کا ایک دن معین ہے۔ موت نہ تو ایک لمحہ تاخیر سے آتی ہے نہ ہی ایک لمحے کی تعجیل اسے گوارا ہوتی ہے۔ موت برحق بھی ہے اور اس کا وقت بھی متعین ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بشری تقاضے کے مطابق انسان موت کی وجہ تلاش کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ’’اچانک موت‘‘کے واقعات اسی لئے تشویش کا سبب بنے ہیں۔ یہ عام مشاہدہ بھی ہے اوررپورٹس بھی اس کی توثیق کرتی ہیں کہ ہندوستان میں دل کا دورہ پڑنے سے اچانک موت کے واقعات میںاضافہ ہوا ہے۔ ہر سال، اس طرح کی اموات کے کم و بیش ۴۵؍ لاکھ واقعات رونما ہورہے ہیں۔
نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق اچانک اموات میں ۳۰؍ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ کی ایک اسٹڈی میں ۲۲۱۴؍ پوسٹ مارٹم کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو کھلا کہ نوجوانوں میں اچانک موت کے واقعات ۲ء۵۷؍ فیصد تھے۔ ان کی عمر کا اوسط ۶ء۳۳؍ سال تھا۔ مردوں میں عورتوں کی بہ نسبت یہ کیفیت زیادہ پائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ وزارت ِ صحت عام بیداری کیلئے کیا کرتی ہے؟ کیا عوام کو اُن تمام اسباب کے تئیں حساس بنانے کی ضرورت نہیں ہے جن کی بناء پر اچانک موت واقع ہوجاتی ہے اور اہل خانہ و دیگر رشتے دار کچھ نہیں کرپاتے؟
یہ بھی پڑھئے: پانی کی قلت، بارش میں تاخیر
یہ موضوع ایسا نہیں کہ جسے حاشئے پر ڈال دیا جائے۔ کسی بھی حکومت کیلئے تعلیم اور روزگار کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کی فکراس کی منصبی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ مگر، ہم نہیں دیکھتے کہ حکومت نے بیداری کیلئے کوئی مہم جاری کی ہو۔ اطباء کا کہنا ہے کہ وہ تمام امراض جو حفظانِ صحت کے اُصولوں سے گریز کی وجہ سے لاحق ہوتے ہیں، شرحِ اموات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے نزدیکذیابیطس، فشار خون (بلڈ پریشر)، اینگزائٹی اور ڈپریشن جیسی شکایات کا نوجوانوں میں عام ہونا جدید دور کے معمولات کے سبب ہے۔ وقت بے وقت کھانا، متوازن غذا کا استعمال نہ کرنا، کم چلنا پھرنا، ورزش نہ کرنا، دیر تک موبائل اور لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کا استعمال کرنا، راتوں کا جاگنا، سونے جاگنے کے اوقات کا متعین نہ ہونا اور ناکافی نیند ھر اکتفا کرنا وغیرہ جسمانی و ذہنی نظام کو پریشان کرتا ہے اور اسی وجہ سے کبھی ہاضمے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو ایسیڈٹی یا بلوٹنگ کی شکایت پیدا کرتے ہیں اور کبھی اندرونِ جسم ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں کہ انسان کچھ سمجھ نہیں پاتا اور کبھی تو خود کو اسپتال میں پاتا ہے اور کبھی اچانک داغ مفارقت دے جاتا ہے۔ انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ نے واضح لفظوں میں لکھا کہ میڈیکل کی سہولتیں عام ہونے حتیٰ کہ ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن رجوع کرنے کی سہولت کے باوجود ’’اچانک موت‘‘ نے طبی اداروں کو فکرمند کیا ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی ملاح محفوظ کیوں نہیں؟
انسان فطرت سے دور ہوجائے اور غیر فطری زندگی اپنالے تو یہ بھی آج کے دور کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ سماجی اداروں کو بھی فعالیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بچوں اور نوعمروں میں صحت کے تئیں لاپروائی کچھ زیادہ ہے۔ روکنا ٹوکنا والدین کی ذمہ داری ہے مگر والدین کو صحت کے اُصولوں سے واقف کون کرائے گا۔ اُن میں بھلے بُرے کی تمیز کون پیدا کرے گا؟ اُن میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو بچوں کو لاڈ پیار کی وجہ سے چھو‘ٹ دیتے ہیں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ لاڈ پیار کی وجہ سے صحت کی جو فکر پیدا ہونی چاہئے وہ نہیں ہوتی۔ یہاں سماجی تنظیموں اور اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔ اس پر سماج میں جتنی گفتگو ہو کم ہے۔