Updated: June 18, 2026, 5:23 PM IST
| Mumbai
ایران کے خلاف جنگ امریکہ اور اسرائیل نے لڑی مگر غیر محفوظ ہم ہیں۔ یہ عجیب صورتحال ہے۔ اس جنگ سے ہندوستانی ملاحوں کاکچھ لینا دینا نہیں ہے جو تجارتی جہازوں پر نقل و حمل کی ذمہ داری نبھاتے، اپنا روزگار حاصل کرتے اور عالمی معیشت کو فیض پہنچاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہی غیر محفوظ ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ امریکہ اور اسرائیل نے لڑی مگر غیر محفوظ ہم ہیں۔ یہ عجیب صورتحال ہے۔ اس جنگ سے ہندوستانی ملاحوں کاکچھ لینا دینا نہیں ہے جو تجارتی جہازوں پر نقل و حمل کی ذمہ داری نبھاتے، اپنا روزگار حاصل کرتے اور عالمی معیشت کو فیض پہنچاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہی غیر محفوظ ہیں۔ ایسا کیوں ہے یہ سمجھنا مشکل ہے۔ ٹریڈ ڈیل کے معاملے میں رسہ کشی کے باوجود امریکہ سے ہمارے رشتے بُرے نہیں ہیں۔ پھر ایسی کیا بات ہے کہ امریکہ ہندوستانی جہازرانوں ہی کو نشانہ بنا رہا ہے؟
حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک ویڈیو میںہندوستانی جہاز راں یہ کہتے ہوئے دیکھے گئے کہ ’’حالات بہت خراب ہیں اور صرف اُن جہازوں کو ہدف بنایا جارہا ہے جن کی کمان ہندوستانیوں کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ جہاز پر موجود ہندوستانی عملے کے افراد کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ وہ مال و اسباب (بالخصوص تیل) لاتے لے جاتے ہیں، اُن کی حیثیت فوجیوں کی نہیں ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر لڑائی ہو بھی تو اُن سے نہیں ہوسکتی۔ کسی وجہ سے اُنہیں روکا جاسکتا ہے مگر اُن کی جان لینے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ذلت، ایران سرخرو
بین الاقوامی قوانین بھی اس کی اجازت نہیں دیتے۔ نئی دہلی کی جانب سے احتجاج درج ہونے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اُلٹا جواب مزید حیران کرنے والا ہے کہ ’’امریکی فوجیوں کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کی مکمل پاسداری لازمی ہے جو آبنائے ہرمز میں امن کی بحالی کیلئے کوشاں ہیں۔‘‘ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مارکو روبیو ہندوستانیوں کے فوت ہونے پر اظہارِ افسوس کرتے، متوفی جہازرانوں کے ورثاء کو پُرسہ دیتے، ہر متوفی کے پسماندگان کیلئے امدادی رقم کا اعلان کرتے مگر اُن کے بیان میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اس کا مفہوم یہی نکل سکتا ہے کہ ہندوستانی جہازرانوں کو جان بوجھ کر ٹارگیٹ کیا جارہا ہے اور یہی بات مذکورہ ویڈیو میں کہی گئی کہ صرف ہندوستانیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اگر ان جہاز رانوں نے کوئی قانون توڑا ہے یا کسی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا ہے تب بھی اُن پر قانون کے مطابق ہرجانہ، جرمانہ یا کوئی اور تادیبی کارروائی ہوسکتی ہے، اُنہیں موت کے منہ میں کیوں دھکیلا گیا اس کا جواب واشنگٹن کو بہرصورت دینا چاہئے۔ وزیر اعظم مودی جی سیون کے اجلاس میں شریک ہیں جہاں صدرِ امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ سے اُن کی ملاقات ہوئی ہے۔ اجلاس سے وزیر اعظم کے خطاب کا مرکزی موضوع عالمی رابطوں میں اعتماد کی اہمیت تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ دور میں مختلف ملکوں کی ایک دوسرے سےشراکت کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے مگر شراکت تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب اس کی بنیاد میں اعتماد ہو۔ بے اعتمادی میں کوئی شراکت کتنی بھی ضروری اور اہم ہو، پائیدار نہیں ہوسکتی۔ یہ بات درست ہے اور ہند امریکہ تعلقات کے تناظر میں اس پر زور دینا وقت اور حالات کا تقاضا بھی ہے مگر ہمیں لگتا ہے اور ہم یہ بات سفارتی زبان کی نزاکتوں کو سمجھنے کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ ایسے وقت میں جب ہندوستانی جہازرانوں کی جان پر بنی ہوئی ہے بہت واضح اور دوٹوک الفاظ میں یہ کہا جانا چاہئے تھا کہ ہندوستان اپنے شہریوں کی ہلاکت برداشت نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹوٹ پھوٹ پارٹیوں کی یا جمہور ی نظام کی؟
ہندوستان ہی کیا، کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کی ہلاکت کے خلاف چپ نہیں رہ سکتا۔ ہم کیوں خاموش رہیں؟ چونکہ اجلاس کے موقع سے باہمی ملاقاتیں بھی طے ہیں اس لئے ہمیں اب بھی اُمید ہے کہ وزیر اعظم مودی، ٹرمپ سے سخت لہجے میں بات کریں گے اور اس طرح ملک کے ایک ایک شہری کا پُرزور احتجاج درج کرائیں گے۔