• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپوزیشن کا اتحاد اور ’انڈیا‘ اتحاد

Updated: October 19, 2026, 4:25 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اعلان کے مطابق، انڈیا اتحاد کی ’’میگا ریلی‘‘ یکم نومبر کو دہلی میں منعقد ہونی ہے۔ اب سے پہلے کے مظاہروں مثلاً جنتر منتر تک مارچ، الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ اور سپریم کورٹ تک مارچ کی بظاہر ناکامی مگر اہل ِ اقتدار کے اطراف گھیرا تنگ کرنے میں غیرمعمولی کامیابی کے بعد یکم نومبر کی میگا ریلی ایک ماہ سے کم مدت میں انڈیا اتحاد کا چوتھا بڑا مظاہرہ ہوگا جس کی تاریخی کامیابی کے ابھی سے اندازے لگائے جارہے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اعلان کے مطابق، انڈیا اتحاد کی ’’میگا ریلی‘‘ یکم نومبر کو دہلی میں منعقد ہونی ہے۔ اب سے پہلے کے مظاہروں مثلاً جنتر منتر تک مارچ، الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ اور سپریم کورٹ تک مارچ کی بظاہر ناکامی مگر اہل ِ اقتدار کے اطراف گھیرا تنگ کرنے میں غیرمعمولی کامیابی کے بعد یکم نومبر کی میگا ریلی ایک ماہ سے کم مدت میں انڈیا اتحاد کا چوتھا بڑا مظاہرہ ہوگا جس کی تاریخی کامیابی کے ابھی سے اندازے لگائے جارہے ہیں مگر کیا اس میں وہ لیڈران اور پارٹیاں بھی شریک ہوں گی جن پر اپوزیشن کے اتحاد کو وسیع تر اتحاد میں تبدیل کرنے کی یکساں ذمہ داری ہے مگر جو ’’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘‘ کے مصداق اپوزیشن کے موضوعات کے ساتھ ہیں مگر اپوزیشن کے ساتھ نہیں ہیں؟ ان میں عام آدمی پارٹی (آپ)، ڈی ایم کے اور بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کا نام خاص طور پر لیا جا سکتا ہے۔ بی جے ڈی کا طور طریقہ نیا نہیں ہے مگر اسی طور طریقے میں نئی بات یہ دیکھنے کو ملی ہے کہ جب انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمان الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کیلئے نکلے تھے، تب اس کے تین ایم پی مانس منگا راج، سولت دیو اور منا خان مارچ میں شریک ہوئے تھے۔ یہ شرکت بی جے ڈی کے موقف کی نرمی کا اشارہ تھی مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا کہ پارٹی کا ’’ہردے پریورتن‘‘ ہوچکا ہے۔ رہے عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے، تو سنا جا رہا ہے کہ ممتا بنرجی انہیں ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ ممتا کی کاوشیں ثمربار ہوتی ہیں یا نہیں، یہ آنے والے دس دنوں میں واضح ہو جائیگا۔ اتحاد کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ ان کاوشوں میں شرد پوار، ادھو ٹھاکرے اور تیجسوی یادو کو بھی شریک ہونا چاہئے۔ ویسے کانگریس ذہنی طور پر اس بات کیلئے تیار ہیں کہ وہ اپنے ایجنڈے پر قائم رہے گی اور آگے بڑھتی رہے گی۔ کانگریس کی زبردست تیاری کو دیکھ کر دیگر پارٹیوں کو بہت کچھ سمجھنا چاہئے لیکن اگر وہ کانگریس کی خلافِ توقع سرگرمیوں کو دیکھ کر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرتی ہیں، خواہ اس کی جو بھی وجوہات ہوں، تو وہ اپنا ہی نقصان کریں گی۔ اگر وہ پارٹیاں جو اتحاد کا حصہ ہیں ان میں سے بھی کوئی اتحاد کے جذبے کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے تو شاید کانگریس کو اس کا ملال نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: واچن شکتی اور طلبہ کی پاچن شکتی

وجہ بالکل صاف ہے۔ یہ کانگریس سابقہ یعنی گزشتہ دس بارہ برسوں کی کانگریس سے مختلف ہے۔ اس وقت کمان ملکارجن کھرگے کی سرپرستی میں راہل گاندھی کے ہاتھ میں ہے اور راہل نہایت فعالیت کے ساتھ اپنے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ راہل گاندھی روزانہ سرخیوں میں ہیں اور اب تک کے حالات سے اتنا کچھ سیکھ چکے ہیں کہ سرخیوں میں رہنا بھی سیکھ گئے ہیں اور اہل اقتدار کو چکمہ دینے میں بھی کامیاب ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق حکمراں جماعت اس بات سے پریشان ہے کہ راہل غیر اعلانیہ طور پر کوئی ایسا قدم اٹھا لیتے ہیں جو حکومت کو حیران اور پریشان کر دیتا ہے۔ اس سلسلے کے کئی واقعات بطور مثال پیش کئے جاسکتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے قارئین ان واقعات سے واقف ہیں۔ برسر اقتدار جماعت نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ راہل کی فعالیت اس قدر بڑھ جائے گی اور ان کی سربراہی میں خود کانگریس پارٹی اس طرح سڑکوں پر آ جائے گی جس طرح پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔ اس ضمن میں انڈین یوتھ کانگریس کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں ایک بات صاف ہے کہ راہل مسلسل سرگرم ہیں اور ان کی وجہ سے پارٹی بھی سرگرم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK