ایس آئی آر کا اعلان کرتے وقت الیکشن کمیشن نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ اُس کیلئے وبالِ جان ثابت ہوگا۔ قومی زندگی میں بعض تنازعات اُبھرتے ہیں، کچھ عرصہ اُن پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے، الزام تراشی اور جوابی الزام کا دور چلتا ہے اُس کے بعد وہ تنازع اپنا دم خم کھو دیتا ہے۔
ایس آئی آر کا اعلان کرتے وقت الیکشن کمیشن نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ اُس کیلئے وبالِ جان ثابت ہوگا۔ قومی زندگی میں بعض تنازعات اُبھرتے ہیں، کچھ عرصہ اُن پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے، الزام تراشی اور جوابی الزام کا دور چلتا ہے اُس کے بعد وہ تنازع اپنا دم خم کھو دیتا ہے۔ مگر، ایس آئی آر کا تنازع ایک آدھ روز کیلئے بھی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوا۔ اس کی دو بڑی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ بے ضابطگی پر بے ضابطگی کا انکشاف ہوتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ مسئلہ یا تنازع خود اوجھل ہونے کو تیار نہیں ہے، ہاتھ تھام کر کہتا ہے کہ رُکئے، ابھی تو برف کے بہت بڑے تودے کا ایک سرا ہی آپ نے دیکھا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں، سماجی خدمتگاروں، انصاف پسند صحافیوں، دانشوروں اور کاکروچ جنتا پارٹی نے اسے پس پشت جانے نہیں دیا ہے۔ اس کے تعلق سے نئی نسل کا باخبر اور بیدار ہونا بھی بہت اہم ہے۔ اتنی بڑی اور سنگین قسم کی بے ضابطگیاں منظر عام پر آچکی ہیں کہ ملک کا کوئی شہری ان سے غافل اور بے پرواہ نہیں رہ سکتا۔ مرکزی حکومت کے ایک وزیر (للن سنگھ) نے گزشتہ دنوں یہ کہہ کر عوام کو مزید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے کہ سرکاری فائدے حاصل کرنے کیلئے آدھار کارڈ آدھار نہیں بنے گا بلکہ الیکشن کارڈ آدھار بنے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ، یاہو، دونوں بے آبرو!
اس صورت میں ہر وہ شخص مشکل میں پھنس جائیگا جس کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں آیا یا جس کے نام کے آگے سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ اگر ملک بھر میں تیرہ کروڑ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہوئے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ اتنے ہی لوگوں کا مسئلہ ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ابھی تک وزیر اعظم یا وزیر مالیات کی جانب سے ایسا کوئی بیان نہیں آیا ہے جس سے للن سنگھ کے بیان کی تردید ہوتی ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ سوچا سمجھا بیان تھا اور حکومت کی ایسی کوئی پلاننگ ہوگی جس کا اظہار وزیر موصوف نے کیا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایس آئی آر کی وجہ سے تنازع پر تنازع پیدا ہورہا ہے اور یہ مسئلہ کسی بھی صورت پس پشت جانے کو تیار نہیں ہے۔
کیا عدالتوں کو اس پر تبھی روک لگا دینی چاہئے تھی جب اس کا اعلان کیا گیا تھا یا جب شہریوں کے نام کٹنے کی ابتدائی رپورٹیں مل رہی تھیں؟ عدالتیں محترم ہوتی ہیں۔ وہی جانتی ہیں کہ اُن کے فیصلوں کے پیچھے کیا مقصد ہوتا ہے۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ ان کے فیصلوں پر یا ان کے مطمح نظر پر اُنگلی نہ اُٹھائی جائے مگر ایسے حالات میں جب عوام میں عدلیہ کی شبیہ خراب ہورہی ہو، لازم ہے کہ اس پر توجہ مرکوز ہو کیونکہ عدلیہ کو اس ملک کے عوام کی آخری اُمید ایسے ہی نہیں کہا جاتا۔ لوگ باگ جب ہر طرف سے مایوس ہوجاتے ہیں تب عدالت کا رُخ کرتے ہیں۔ اُنہیں اُمید ہوتی ہے کہ عدالت سے اُنہیں انصاف ملے گا۔ اگر عوام میں بے اعتمادی پیدا ہوگئی تو یہ ملک کیلئے بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوگا۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمان ابھیشیک بنرجی کا یہ کہنا کہ اُن کی پارٹی کو بی جے پی نے نہیں سپریم کورٹ نے ہرایا ہے، اپنے آپ میں بہت کچھ کہتا ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اُن کے بیان کا مثبت انداز میں نوٹس لے گا۔