کلام ِ اقبال سے، اس حوالے سے فلسفہ ٔ اقبال سے بے اعتنائی اور ان دونوں حوالوں کے ذریعہ اس مضمون میں کسی چیز کے ’’اون‘‘ کرنے یا اُس کے ’’ڈس اون‘‘ ہوجانے کا شکوہ کرنے کے طرز عمل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 4:24 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
کلام ِ اقبال سے، اس حوالے سے فلسفہ ٔ اقبال سے بے اعتنائی اور ان دونوں حوالوں کے ذریعہ اس مضمون میں کسی چیز کے ’’اون‘‘ کرنے یا اُس کے ’’ڈس اون‘‘ ہوجانے کا شکوہ کرنے کے طرز عمل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اقبال کی فارسی شاعری کی کتاب ’’اسرار خودی‘‘ (اشاعت ۱۹۳۵ء) کو ہندوستان کے علاوہ دیگر ملکوں میں بھی بڑی مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ اُسی دور میں انگلستان کے ایک پروفیسر رینالڈ نکلسن نے اقبال کو خط لکھا کہ وہ اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کرنا چاہتے ہیں اور باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے مقصد سے خط ارسال کررہے ہیں۔ اقبال نے خط کا یہ مضمون پڑھا تو بے اختیار آبدیدہ ہوگئے۔
ان کے ایک دوست نے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا: ’’میرے عوام جن کیلئے میں نے یہ کتاب لکھی ہے نہ تو اس کی قدر و قیمت پہچانتے ہیں نہ ہی اسے بڑا کام سمجھتے ہیں لیکن یورپ کے لوگ جن کیلئے میں نے یہ کتاب نہیں لکھی میرا یہ پیغام سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘ صاحبو، جس دور کی یہ بات ہے، اُس دور میں اقبال کے ماننے والے بھی تھے اور بڑی تعداد میں تھے اور اُن کے فلسفہ و پیغام کو سمجھنے اور اس کی گہرائی تک پہنچنے والے بھی تھے۔ وہ آج ایسا دور نہیں تھا۔ آج اکثریت تین قسم کے لوگوں کی ہے۔ ایک وہ جو اقبال کی محض چند نظموں سے واقف ہیں۔ دوسرے وہ جنہوں نے اقبال کا نام اور اُن کے بارے میں چند باتیں سن رکھی ہیں۔ تیسری قسم اُن لوگوں کی ہے جو نہ تو نظموں سے نہ ہی اقبال کے نام اور اُن کے شاعر ہونے کی حقیقت سے واقف ہیں۔
ان میں پہلی قسم کے لوگوں ہی کو کسی حد تک قابل اعتناء سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ چند نظموں سے واقفیت کا معنی یہ ہے کہ یہ حضرات اقبال کو جانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے چند نظموں پر کیوں اکتفا کیا اور کلام ِ اقبال کی مزید قرأت کیوں ضروری نہیں سمجھی؟ اگر اُنہوں نے ’’شکوہ‘‘ پڑھی ہے تو ’’جواب شکوہ‘‘ کیوں نہیں پڑھی؟ اگر ’’ترانۂ ہندی‘‘ کا مطالعہ کیا ہے تو ’’ترانۂ ملی‘‘ کا مطالعہ کیوں نہیں کیا؟ اگر ’’بچے کی دُعا‘‘ پڑھی ہے تو ’’بچہ اور شمع‘‘ پڑھنے کی خواہش کیوں نہیں کی؟ اگر ’’روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے‘‘ کے بارے میں جانتے ہیں تو ’’رخصت اے بزم جہاں‘‘ کے بارے میں کیوں نہیں جانتے؟ کیا اقبال کی ایک نظم دوسری نظم پڑھنے کیلئے بے چین نہیں کرتی؟ (ایک نظم کے بعد دوسری نظم تو کیا، اقبال کا ایک مصرعہ دوسرے مصرعے کی چاہ پیدا کردیتا ہے)۔ اقبال کی لفظیات، قرآن مجید سے اقبال کا استفادہ، اُن کی فکر، اُن کا فلسفہ وغیرہ وغیرہ کا سوال نظموں کے مطالعے کے بعد ہی آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کوکن: قدرتی حسن، تہذیبی رنگا رنگی اور ہمہ جہت ترقی کا خطہ
اگر محض چند نظموں کے بعد مزید پڑھنے کی خواہش نہیں ہوئی تو کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ کلام ِ اقبال میں ایسا کچھ نہیں ہے جو ’’روح کو تڑپا دے اور قلب کو گرما دے‘‘؟ ایسا ہے تو اس کا اعلان کیا جانا چاہئے۔ عملاً دور ہوچکے ہیں تو قولاً بھی دور ہوجانا چاہئے یعنی Own نہیں کرتے تو Disownکرنا چاہئے۔ مگر یہ دُہرا معیار دیکھئے کہ نہ تو ’’اون‘‘ کرتے ہیں نہ ہی ’’ڈِس اون‘‘ کرتے ہیں۔
کبھی کبھی مَیں تصور کرتا ہوں کہ ایک بہت بڑے میدان میں لاکھوں لوگ ہیں اور سب کے ہاتھوں میں تختیاں ہیں۔ ان پر یا تو ’’مَیں اقبال کو جانتا ہوں‘‘ درج ہے یا ’’میں اقبال کو نہیں جانتا‘‘ درج ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ دوسرے جملے والی تختیاں بے شمار ہیں اور پہلے جملے والی تختیاں معدودے چند۔ جب موجودہ دور کے لوگوں کی اکثریت کے تین زمروں میں سے ایک ہی زمرہ کے لوگ قابل اعتناء ہیں اور وہ بھی چند ہی نظموں کے قاری ہیں تو یہ اُمید کیسے کی جاسکتی ہے کہ ملت اقبال سے فیضیاب ہوگی اور شاہین بن کر رہے گی کرگس نہیں بنے گی؟ (کرگس کا جہاں اورہے شاہیں کا جہاں اور)۔ یہاں اقبال کی دُور بینی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ اقبال جانتے تھے کہ اُن کی حیات میں حقیقی قدرداں کم ہیں مگر بعد کے ادوار میں مزید زوال آئے گا اور ایسے حالات پیدا ہوں گے جب اُن کو پڑھنے اور سننے والے شاید اُنگلیوں پر بھی نہ گنے جاسکیں۔ اسی لئے تو پروفیسر رینالڈ نکلسن کا خط پڑھ کر آپ بے اختیار رو پڑے تھے۔
’’اون‘‘ کرنے اور ’’ڈِس اون‘‘ کرنےکے معاملے میں اہل اُردو کا رُخ بالکل صاف ہے۔ وہ ’’اون‘‘ نہیں کرتے مگر کوئی چیز ہاتھ سے نکل جائے یعنی ’’ڈِس اون‘‘ ہوجائے تو شکوہ کرتے ہیں، روتے بسورتے ہیں اور اُن کا احساسِ مظلومیت دوچند ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال کو بریلی (یوپی) کے دو تین سال قبل کے اُس واقعے سے سمجھئے جس میں ایک سرکاری اسکول میں ’’لب پہ آتی ہے دُعا‘‘ پڑھنے اور پڑھائے جانے کیخلاف اسکول کی پرنسپل نیز ایک معلم کو ’’مذہبی جذبات بھڑکانے‘‘ (دفعہ ۲۹۸، آئی پی سی) اور ’’فساد برپا کرنے کے ارادہ سے کوئی کام کرنے‘‘ (دفعہ ۱۵۳آئی پی سی) کے تحت شکایت درج ہوئی۔ پرنسپل ناہید صدیقی کو کچھ مدت کیلئے معطل کردیا گیا اور معلم (وزیر الدین) گرفتار کئے گئے۔ میرے خیال میں اس خبر کے مشتہر ہونے کے بعد اقبال کے ’’ معتقدین‘‘ یا ’’نام لیواؤں‘‘ کو بہت بُرا لگا ہوگا اور اُنہوں نے اسے انتظامیہ کا جبر قرار دیا ہوگا جو بہرحال جبر ہی تھا مگر جبر کا احساس کیوں پیدا ہوا؟ اس لئے کہ اُن کے خیال میں اُنہیں ’’ڈِس اون‘‘ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اگر وہ اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھتے تو جان لیتے یا خود سے پوچھئے تو جواب مل جاتا کہ جب ’’اون‘‘ نہیں کیا تو ’’ڈِس اون‘‘ کیسے ہوا۔
اہل اُردو اقبال کو اون کرتے تو اُنہیں دل میں جگہ دیتے، گھر میں رکھتے (آج شاید ہی کسی گھر میں کم از کم ’’بانگ درا‘‘ کی ایک آدھ کاپی محفوظ ہو)، اُن کے اشعار کو پڑھتے، سمجھتے، اُن کی گہرائی میں اُترنے کی کوشش کرتے، معانی و مفاہیم کی تلاش میں سرگرداں رہتے، کتابوں سے استفادہ کرتے، جاننے والوں سے دریافت کرتے اور جو کچھ حاصل کیا اُسے دوسروں تک پہنچاتے۔ کیا معاشرہ میں کوئی ایسا دکھائی دیتا ہے جو مطالعہ ٔ اقبال اور تفہیم اقبال کیلئے اتنے جتن کرتا ہو؟ اگر یہ سب نہیں ہورہا ہے اور اس طرح ’’اون‘‘ کرنے کی کوئی سرگرمی کہیں نہیں ہے تو کیا عملی طور پر ’’ڈِس اون‘‘ نہیں کیا جا چکا ہے؟ محمد علوی نے اسی جانب یہ کہتے ہوئے توجہ دلائی تھی کہ ’’مسجد کے ٹوٹنے کا بہت غم کیا مگر= اک بار بھی مَیں اُس میں عبادت نہ کرسکا‘‘۔ بات بہت تلخ ہے مگر یہ سننے اور پڑھنے کی تاب ہونی چاہئے کہ جو لوگ ’’اون‘‘ نہیں کرنا چاہتے وہ کسی چیز کے ’’ڈس اون‘‘ ہونے کا گلہ کیوں کرتے ہیں۔