Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھاتراؤں کا دُکھ 

Updated: August 28, 2026, 3:56 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

۲۲؍ اگست کو پونے میں راہل گاندھی نے ’’چھاتراؤں کی گونج‘‘ کے تحت ہزاروں طالبات سے گفتگو کی۔ اس میں کئی طالبات نے اسٹیج سے اپنے مسائل بیان کئے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

۲۲؍ اگست کو پونے میں راہل گاندھی نے ’’چھاتراؤں کی گونج‘‘ کے تحت ہزاروں طالبات سے گفتگو کی۔ اس میں کئی طالبات نے اسٹیج سے اپنے مسائل بیان کئے۔ ان کی باتیں سنئے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی اُن پر بیتا اور جو کچھ بھی اُن کے دل میں تھا، وہی اُنہوں نے بیان کیا۔ بہ الفاظ دگر، جو روداد اُنہوں نے سنائی اُس کی صداقت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ کسی نے اوباش لڑکوں کے ذریعہ چھیڑ خانی کا تذکرہ کیا تو کسی نے تحفظ کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ تحفظ کے تعلق سے ایک طالبہ کا یہ کہنا تھا کہ اگر بس کھچاکھچ بھری ہو تب بھی اور بالکل خالی ہو تب بھی ہمیں اس پر سوار ہونے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔ ایک اور طالبہ نے بتایا کہ جب اُس کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اور اس نے پولیس میں شکایت لکھوائی تو بدتمیزی کرنے والے نوجوانوں کی پولیس نے پٹائی تو خوب کی مگر خاندان او ر گاؤں میں لوگوں نے کہا کہ بچی کو باہر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے، اسے گھر بٹھا لو کیونکہ اس کی وجہ سے عزت چلی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہت کچھ بدلا، بہت کچھ بدلنا باقی ہے!

ہرچند کہ چھوٹی کلاس سے لے کر کالج کی طالبات تک کی ان پریشانیوں سے ہر خاص و عام واقف ہے مگر پونے کے جلسے سے پہلے شاید کسی نے ان پر اتنی توجہ نہ دی ہو یا طالبات کی زبانی اُن کی کہانی اتنی تفصیل سے اور اتنا مرکوز ہوکر نہ سنی ہو۔ ایسا لگتا ہے سماج بچیوں کا، طالبات کا، خواتین کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں اور انہی میں سے ایک یہ ہے کہ خاندانی نظام کے انتشار کی وجہ سے لوگوں کے خود میں سمٹ کر رہ جانے کے باعث خواتین کے احترام کی جو تربیت گھروں میں ہوتی تھی، اب نہیں ہوتی۔ گھر کے باہر آئیے تو دوسرا مقام ہے درس گاہ۔ ماضی میں درس گاہوں میں ادب اور احترام کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دی جاتی تھی۔ اب درس گاہوں نے خود کو نصاب پڑھانے، رٹ کر امتحان کامیاب کرنے اور زیادہ سے زیادہ مارکس حاصل کرنے جیسی سرگرمیوں کی سرپرستی تک محدود کرلیا ہے۔ گھر اور درس گاہ کے بعد تیسرے مقام پر سماج ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سماج پر اب کسی کا قابو نہیں رہا۔ اس میں بگاڑ کے مواقع زیادہ اور اصلاح کے امکانات کم بلکہ مفقود ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اخلاق کی طاقت

گھر، درس گاہ اور سماج کو ایسا ہونا چاہئے کہ جن میں بچیوں کیلئے عافیت ہی عافیت ہو۔ وہ لوگ، جن کی حیثیت بڑوں کی ہے، سمجھتے ہیں کہ جیسے گھر، درس گاہ اور سماج میں اُن کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اسی لئے نہ تو بڑوں کا دبدبہ رہ گیا ہے نہ ہی بڑوں کا احترام باقی ہے۔ خود بڑوں میں بڑوں جیسی خوبیاں نہیں ہیں ورنہ آج بھی گھر کے بچے کسی نہ کسی حد تک اپنے ماں باپ کے زیر اثر رہتے ہیں۔ وہ اُن سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اسکول میں وہ اساتذہ کے زیر اثر رہتے ہیں۔ وہاں بھی بہت کچھ سیکھنے کا عمل جاری رہ سکتا ہے مگر پڑھائی، لکھائی، یونٹ ٹیسٹ، امتحان، ڈگری، داخلہ امتحان اور زیادہ مارکس نے بیڑا غرق کردیا ہے ۔ ادب، قاعدہ، تعظیم، اخلاق، تربیت اور انسان سازی کی فکر جیسے پیچھے نہیں بہت پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ لڑکیوں کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرنے والے لڑکے جنگل سے تو نہیں آتے، کسی نہ کسی گھر ہی سے آتے ہیں، کسی نہ کسی اسکول ہی میں پڑتے ہیں اور اسی سماج کے فرد ہیں۔ اُن کا بگاڑ گھر، اسکول اور سماج کے بے اثر ہونے کی روداد نہیں تو اور کیا ہے! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK