راہل گاندھی کی مقبولیت میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔ اس کا یہ معنی تو ہے کہ اس سے کانگریس کو فائدہ پہنچے گا مگر یہ معنی نہیں بھی ہوسکتا ہے۔ آئیے اسے سمجھ لیں۔ راہل کی مقبولیت کا کانگریس کو فائدہ پہنچے گا اسلئے کہ جہاں راہل ہوتے ہیں وہاں کانگریس ہوتی ہے مگر فائدہ پہنچنا مشکوک اسلئے ہے کہ راہل کی مقبولیت کو پارٹی کی مقبولیت مان لینا غلطی ہوگی۔
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این
راہل گاندھی کی مقبولیت میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔ اس کا یہ معنی تو ہے کہ اس سے کانگریس کو فائدہ پہنچے گا مگر یہ معنی نہیں بھی ہوسکتا ہے۔ آئیے اسے سمجھ لیں۔ راہل کی مقبولیت کا کانگریس کو فائدہ پہنچے گا اسلئے کہ جہاں راہل ہوتے ہیں وہاں کانگریس ہوتی ہے مگر فائدہ پہنچنا مشکوک اسلئے ہے کہ راہل کی مقبولیت کو پارٹی کی مقبولیت مان لینا غلطی ہوگی۔ راہل کے پاس جتنے بھی وسائل ہیں وہ سب اُن کے مشن کو آگے بڑھانے اور زمین پر اُتارنے لگیں یعنی ہر ریاست کے ہر ضلع میں اُن کے پیغام کو شد و مد کے ساتھ عام کرنے کی فکر کی جائے تو راہل کی مقبولیت پارٹی کی مقبولیت میں بدل سکتی ہے۔ اگر یہ کام، جو نہایت ضروری ہے، نہیں ہوا تو راہل پہلے سے چلی آرہی کمزور پارٹی کے طاقتور لیڈر ہی کہلا پائیں گے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ پارٹی کے ایک ایک لیڈر اور ایک ایک کارکن کو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت اُن کے پاس بہت اچھا بلکہ سنہرا موقع ہے جسے گنوانا اپنے امکانات کو مسترد کرنے جیسا ہوگا۔
راہل کے فائدے کا کانگریس کے فائدے میں تبدیل ہوتا دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تب ہی انڈیا اتحاد سے وابستہ پارٹیاں کانگریس سے اپنے رشتوں اور تعلقات کو مضبوط کرکے اتحاد کو ناقابل تسخیر طاقت بنانے کی فکر کریں گی۔ فی الحال، ہمیں شک ہے کہ انڈیا اتحاد کی پارٹیاں، جو کل تک بی جے پی سے خوفزدہ تھیں، اب کانگریس سے خوفزدہ ہیں کہ اگر راہل کی مقبولیت کانگریس کی مقبولیت بن گئی تو وہ کہیں کی نہیں رہیں گی۔ حالانکہ گزشتہ بارہ سال سے بی جے پی اُن کی زمین کمزور کررہی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ بی جے پی کی جانب سے اب بھی مطمئن نہیں ہیں مگر کانگریس کی جانب سے فکرمند بھی ہوگئی ہیں۔
اگر واقعی ایسا ہے تو غیر بی جے پی طاقتوں کو وسیع تر مفاد میں سوچنا ہوگا اور اس طرح سوچنے ہی میں اُن کا فائدہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاسی طور پر جتنی فعالیت اور جارحیت کے ساتھ کانگریس سرگرم ہے، اُتنی فعالیت اور جارحیت انڈیا اتحاد کی دیگر پارٹیوں میں نظر نہیں آتی۔ ٹویٹر کو میدان عمل سمجھنا غلط ہے۔ میدان عمل ہی میدان عمل ہوتا ہے یہ سب کو سمجھنا چاہئے۔ صرف انتخابات کے پیش نظر سرگرم ہونا فائدہ مند نہیں ہوسکتا۔ راہل نے یہ راز پا لیا ہے۔ کسی حد تک کانگریس کی اعلیٰ قیادت اور صف اول کے لیڈروں نے بھی اسے ذہن نشین کر لیا ہے مگر انڈیا اتحاد کی دیگر پارٹیاں مخمصے میں ہیں۔ وہ راہل کی مقبولیت اور اُن کے ذریعہ اُٹھائے گئے سوالات اور موضوعات سے متفق ہیں مگر اُنہیں یہ خطرہ بھی ہے کہ اتنی مقبول ہوجانے کے بعد جب کانگریس ریاستی سطح پر ہم سے زیادہ سیٹیں مانگے گی تو ہم کیا کریں گے۔ اس ضمن میں ہمارا کہنا ہے کہ اس ڈر کو دل سے نکال کر انڈیا اتحاد کی تمام پارٹیوں کو مشترکہ اور متحدہ پروگرام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا کانگریس راہل کی مقبولیت کو بھنانے پر متوجہ ہے؟ کیا ریاستوںمیں تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کیا جارہا ہے؟ یہ ہم نہیں جانتے مگر یہ اشد ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اعلیٰ کمان اس سے غافل ہو مگر یہ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔چھاتروں کی گونج کو ملک بھر میں کانگریس کی گونج بن جائے تو کیا کہنا!