• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپنے’بی ایم آئی‘ کو کم از کم سال میں ایک بار ضرور چیک کروائیں

Updated: September 29, 2026, 3:37 PM IST | Dr. Hamad Saleem Momin | Mumbai

اپنے  دل کو صحت مند رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ’نمبرس‘ کو ریگولر چیک کرواتے رہیں۔نمبرس سے مراد ہے کہ بلڈ پریشرکو، شوگر کو، کولیسٹرول  پر بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) کو کم از کم سال میں ایک بار ضرور چیک کروائیں۔

Dr. Hammad Saleem Momin. Photo: INN.
ڈاکٹر حماد سلیم مومن۔ تصویر: آئی این این

اپنے دل کو صحت مند رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ’نمبرس‘ کو ریگولر چیک کرواتے رہیں۔نمبرس سے مراد ہے کہ بلڈ پریشرکو، شوگر کو، کولیسٹرول  پر بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) کو کم از کم سال میں ایک بار ضرور چیک کروائیں۔ اس کے ساتھ ہی شوگر اور بلڈ پریشر کو ہمیشہ کنٹرول میںرکھنے کی کوشش کریں۔

اس کیلئے اچھا کھانا کھائیں جیسےہری سبزیاں اور پھل فروٹ۔ پروسیسڈ فروٹ کے استعمال سے حتی الامکان گریز کریں۔

 نمک کااستعمال یومیہ ۵؍ گرام سے کم کریں۔اسی طرح شکر کا استعمال بھی جس قدر ممکن ہو، کم کریں۔ ’ریڈ میٹ‘  یعنی بیف یا بکرے کے گوشت سے بھی احتیاط کریں۔

روزانہ جسمانی ورزش ضروری ہے۔ امریکن کالج آف کارڈیولوجی کے حساب سے ہفتے میں کم از کم ۱۵۰؍منٹ کی ’ماڈریٹ انٹین سٹی اِکٹی وِٹی‘ جیسے تیز چلنا، سائیکل چلانا اور تیراکی کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دل کے مختلف چیک اپ: کون سا ٹیسٹ کیا بتاتا ہے اور اس کی ضرورت کب پڑتی ہے؟

اس کے علاوہ تمباکو، سگریٹ، گٹکا اورشراب سے پوری طرح پیچھا چھڑالیں۔ ذہنی تناؤ کو بھی اچھی طرح سے کنٹرول کرنا ہے۔اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے اگر ہم ملتے جلتے رہیں گے، ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہیں گے تو ہمارا ذہنی تناؤ بھی کم ہوسکتا ہے۔اسی طرح اپنے مینٹل ہیلتھ (دماغی صحت) کا بھی خیال رکھنا ہے۔

ہمیں اپنا وزن بھی کنٹرول میں رکھنا چاہئے۔ہم ہندوستانیوں کو اپنا بی ایم آئی ۲۵؍ سے کم میں ہی رکھنا ہے۔اچھی نیند پر دھیان دیں۔ ہمیں کم از کم ۸؍ گھنٹے کی نیند لینی ہی چاہئے۔

اس کے ساتھ ہی میڈیکل چیک اپ بھی ریگولر کرواتے رہیں۔اگر ایسی کوئی علامت ظاہر ہوتی ہے جس سے دل کی بیماری کا شبہ ہو تو اس کیلئے ای سی جی اور ٹو ڈی ایکو جیسے ٹیسٹ بھی کروالینا ضروری ہے۔

اگر گھر اورخاندان میں کسی کو بھی سینے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے، یا ہارٹ اٹیک کی کوئی علامت ظاہر ہوتی ہے تو اسپرین کرکے ایک گولی آتی ہے، اس کو ہم پانی میں گھول کر دے دیں۔اس سے ہم ۳۰؍ فیصد تک خطرہ ٹال سکتے ہیں۔

مضمون نگار بھیونڈی کے دھانگے اور پرائم  اسپتال میں کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ڈھانگے اسپتال میں آپ نے بھیونڈی میں اولین کیتھ لیب کا آغاز کیا جہاں ایک سال میں ۵۰۰؍ سے زائد دلوں کا علاج کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK