• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دل کیا ہے اور ہمارے جسم میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

Updated: September 29, 2026, 3:29 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہم اپنے جسم کے بہت سے اعضا کا خیال رکھتے ہیں، لیکن دل ان میں سب سے زیادہ مسلسل کام کرنے والا عضو ہے۔ یہ ایک مضبوط عضلاتی عضو ہے جو سینے کے درمیان، قدرے بائیں جانب واقع ہوتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہم اپنے جسم کے بہت سے اعضا کا خیال رکھتے ہیں، لیکن دل ان میں سب سے زیادہ مسلسل کام کرنے والا عضو ہے۔ یہ ایک مضبوط عضلاتی عضو ہے جو سینے کے درمیان، قدرے بائیں جانب واقع ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام خون کو پورے جسم میں گردش کرانا ہے۔ خون کے ذریعے ہمارے جسم کے ہر حصے تک آکسیجن اور ضروری غذائی اجزا پہنچتے ہیں اور جسم میں پیدا ہونے والی بعض فاضل چیزیں واپس ان اعضا تک پہنچتی ہیں جہاں سے انہیں خارج کیا جاتا ہے۔

دل کا سائز تقریباً ایک بند مٹھی کے برابر ہوتا ہے، لیکن اس کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ ایک صحت مند بالغ انسان کا دل آرام کی حالت میں عموماً ایک منٹ میں تقریباً۶۰؍ سے ۱۰۰؍ مرتبہ دھڑکتا ہے۔ ہر دھڑکن کے ساتھ دل خون کو آگے پمپ کرتا ہے اور یوں خون کی مسلسل گردش برقرار رہتی ہے۔دل کے اندر چار خانے ہوتے ہیں۔ اوپر کے دو خانوں کو دہلیزیں (atria) اور نیچے کے دو خانوں کو بطین (ventricles) کہا جاتا ہے۔ دل کا دایاں حصہ جسم سے آنے والے ایسے خون کو حاصل کرتا ہے جس میں آکسیجن کم ہوتی ہے اور اسے پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے۔ پھیپھڑوں میں خون آکسیجن حاصل کرتا ہے۔ پھر یہ آکسیجن سے بھرپور خون دل کے بائیں حصے میں آتا ہے، جہاں سے اسے پورے جسم میں پمپ کردیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بیٹیوں کو ڈجیٹل دُنیا سے روکنا ٹھیک یا محفوظ طریقہ بتانا ٹھیک؟

دل کے اندر موجود ’والوز‘ خون کو صحیح سمت میں بہنے میں مدد دیتے ہیں اور اسے اُلٹا واپس جانے سے روکتے ہیں۔ دل کی دھڑکن ایک قدرتی برقی نظام کے ذریعے منظم ہوتی ہے، جو اسے باقاعدگی سے سکڑنے اور ڈھیلا ہونے کا اشارہ دیتا ہے۔

یوں سمجھ لیجیے کہ دل ہمارے جسم کا ایک مسلسل چلنے والا پمپ ہے۔ جب تک یہ مناسب طریقے سے کام کرتا رہتا ہے، خون کی گردش برقرار رہتی ہے اور جسم کے اعضا کو آکسیجن اور غذائیت ملتی رہتی ہے۔ اسی لیے دل کی صحت دراصل پورے جسم کی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔

 جسم میں خون کی گردش کا مرحلہ وار خاکہ

 جسم سے خون دل تک پہنچتا ہے:

جسم کے مختلف حصوں سے ایسا خون واپس دل کے دائیں حصے میں آتا ہے جس میں آکسیجن کم اور کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہوتی ہے۔

 دایاں حصہ خون کو پھیپھڑوں تک بھیجتا ہے:

دل کا دایاں بطین اس خون کو شریانِ رئوی کے ذریعے پھیپھڑوں کی طرف پمپ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:۱۴؍ویں کوشش میں انیکیت واڈکر فوج میں لیفٹیننٹ بن گیا

پھیپھڑوں میں خون آکسیجن حاصل کرتا ہے:

پھیپھڑوں میں خون کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے اور سانس کے ذریعے حاصل کی گئی آکسیجن اپنے اندر شامل کرتا ہے۔

آکسیجن سے بھرپور خون دوبارہ دل میں آتا ہے:

پھیپھڑوں سے آکسیجن والا خون رگوں کے ذریعے دل کے بائیں حصے میں پہنچتا ہے۔

بایاں حصہ خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے:

دل کا بایاں بطین آکسیجن سے بھرپور خون شہ رگ (Aorta) کے ذریعے پورے جسم کی طرف روانہ کرتا ہے۔

جسم کے خلیے آکسیجن استعمال کرتے ہیں

خون جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن اور غذائی اجزا پہنچاتا ہے۔ خلیے آکسیجن استعمال کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں۔

 خون دوبارہ دل کی طرف لوٹتا ہے۔

آکسیجن کم ہونے والا خون رگوں کے ذریعے دوبارہ دل کے دائیں حصے میں پہنچتا ہے، اور یہی چکر مسلسل جاری رہتا ہے۔ 

اس طرح اس خاکے کے ذریعہ ہم جسم میں خون کی گردش کو سمجھ سکتے ہیں۔

ہارٹ اٹیک کیا ہے؟

ہارٹ اٹیک ایسی طبی ہنگامی حالت ہے جس میں گھبرانے کے بجائے فوراً اور درست قدم اٹھانا ضروری ہے۔ سینے میں دباؤ یا جکڑن، بازو، کمر، گردن یا جبڑے میں درد، سانس پھولنا، ٹھنڈا پسینہ، متلی یا اچانک کمزوری اس کی علامات ہوسکتی ہیں۔ بعض افراد، خصوصاً خواتین اور عمر رسیدہ افراد میں علامات مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔

ہارٹ اٹیک میں ’کچھ دیر دیکھتے ہیں‘ والا رویہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ سینے کے درد یا دوسری مشتبہ علامات کو گیس، تھکن یا بدہضمی سمجھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے فوراً طبی مدد حاصل کرنا چاہئے۔ بروقت فیصلہ اور فوری طبی امداد زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK