دل کی بیماری کا نام سنتے ہی اکثر ہمارے ذہن میں انجیوگرافی یا ای سی جی آتا ہے، لیکن دل کی صحت کی جانچ کیلئے ہر مریض کو ایک ہی طرح کے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 3:32 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
دل کی بیماری کا نام سنتے ہی اکثر ہمارے ذہن میں انجیوگرافی یا ای سی جی آتا ہے، لیکن دل کی صحت کی جانچ کیلئے ہر مریض کو ایک ہی طرح کے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دل کی بیماری کا نام سنتے ہی اکثر ہمارے ذہن میں انجیوگرافی یا ای سی جی آتا ہے، لیکن دل کی صحت کی جانچ کیلئے ہر مریض کو ایک ہی طرح کے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ علامات، عمر، بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، خاندانی تاریخ اور دوسرے خطراتی عوامل کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر مختلف ٹیسٹ تجویز کرتا ہے۔ اسلئے کسی ٹیسٹ کو خود سے کرانے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔
ای سی جی کیا ہے؟
الیکٹروکارڈیوگرام یا ای سی جی دل کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کرتا ہے۔ سینے اور جسم کے بعض حصوں پر چھوٹے الیکٹروڈ لگائے جاتے ہیں۔ اس سے دل کی دھڑکن کی رفتار، باقاعدگی اور برقی سگنلز کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ بعض صورتوں میں ای سی جی ہارٹ اٹیک یا دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی کا سراغ لگانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ عموماً تیز اور بے درد ٹیسٹ ہے۔
ایکو کارڈیوگرام کیا ہے؟
اسے عام طور پر ’’ایکو‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں الٹراساؤنڈ لہروں کے ذریعے دل کی تصویریں حاصل کی جاتی ہیں۔ اس سے دل کے خانوں، والوز، دل کے پٹھوں اور خون پمپ کرنے کی صلاحیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔ یعنی ای سی جی دل کی برقی سرگرمی کو دیکھتا ہے، جبکہ ایکو دل کی ساخت اور حرکت کو۔
یہ بھی پڑھئے:دل کیا ہے اور ہمارے جسم میں اس کی کیا اہمیت ہے؟
اسٹریس ٹیسٹ کیا ہے؟
اس میں دل کو جسمانی مشقت کے دوران جانچا جاتا ہے۔ عموماً مریض ٹریڈ مل پر چلتا یا اسٹیشنری سائیکل چلاتا ہے اور اس دوران دل کی دھڑکن، ای سی جی اور بلڈ پریشر کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ورزش کے دوران دل مناسب طریقے سے کام کررہا ہے یا خون کی فراہمی میں کوئی مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔ اگر کوئی شخص ورزش نہیں کرسکتا تو بعض صورتوں میں دوا کے ذریعے جسمانی مشقت جیسا اثر پیدا کیا جاتا ہے۔
کیا سب کو یہ ٹیسٹ کرانے چاہئیں؟
ضروری نہیں۔ بعض افراد میں صرف بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کی جانچ کافی ہوسکتی ہے، جبکہ علامات یا خطرے کے عوامل موجود ہوں تو ڈاکٹر ای سی جی، ایکو، اسٹریس ٹیسٹ یا دوسرے جانچ کی تجویز کرسکتا ہے۔ اصل مقصد ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ دل کے ممکنہ خطرے کو بروقت سمجھنا اور مناسب علاج یا احتیاط اختیار کرنا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
سینے میں درد، سانس پھولنا، بے ترتیب دھڑکن یا غیر معمولی تھکن جیسی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر کی رائے ضروری ہوجاتی ہے۔