Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران معاہدہ کے بعد توقعات اور سوالات

Updated: June 18, 2026, 5:13 PM IST | Ramzy Baroud | Mumbai

ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ بندی سے کئی خوشگوار امکانات پیدا ہوسکتے تھے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ معاہدہ صرف امریکہ کے ساتھ ہوا ہے اور اس میں اسرائیل شامل نہیں ہے اسلئے تل ابیب کی جانب سے خطرہ ہے کہ وہ پھر کوئی فتنہ کھڑا کرے اور امریکہ کو ورغلائے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اب جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان (اسرائیل کی شمولیت کے بغیر) معاہدہ ہوچکا ہے، یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سے کون سی توقعات پیدا ہوئی ہیں اور کون سے سوالات سے صرف ِ نظرنہیں کیا جاسکتا۔ 
(۱) ایران کا اندرونی محاذ: ایران کے تعلق سے پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ ملک معاشی بہتری، قومی افتخار کے احساس اور قدامت پسندوں نیز اصلاح پسندوں کو ساتھ لانے والے ایک نئے سماجی معاہدہ کے عظیم الشان دور میں داخل ہوسکتا ہے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ ایران قوم پسندی کے خطوط پر اپنی روایتی مذہب پسندی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔اس کے پاس اپنی خود مختاری اور دفاع کے قانونی جواز کے ساتھ ترقیاتی پیش قدمی کا سنہرا موقع ہے مگر اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی قیادت اس سنہرے موقع سے فائدہ اُٹھائے گی؟ اندرون ِ ملک حالات کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرے گی؟ اور ایسے حالات نہیں پیدا ہونے دے گی کہ جن میں اندرونی خلفشار جنم لے (جیسا کہ جنگ سے پہلے ہوا تھا) اور امریکہ ، اسرائیل اور دیگر مغربی ملکوں کو مو قع مل جائے اور وہ مداخلت کی تیاری میں لگ جائیں؟

یہ بھی پڑھئے: اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

(۲) خلیج فارس کے تحفظاتی نقشے (سیکوریٹی آرکیٹکچر) کی از سرنو وضاحت: جنگ میں فاتح رہنے کے سبب اب ایران علاقائی طاقت بن کر اُبھرے گا۔ پڑوسی عرب ملکوں بالخصوص خلیج کے ممالک سے اپنے تعلقات کو بھی نئی شکل عطا کرنا چاہے گا۔ چونکہ خلیجی ملکوں کی حفاظت میں امریکہ بُری طرح ناکام ہوا ہے اس لئے وہ بھی ایران سے اپنے تعلقات استوار کرنے کو ترجیحات میں شامل کرسکتے ہیں۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ کیا علاقائی ہمسائیگی کے باب میں کوئی خاص پہل ہوگی اور کیا ایران خلیجی ملکوں کو پُرامن بقائے باہمی کیلئے آمادہ کرے گا جہاں اب بھی امریکی فوجی ٹھکانے (جزوی تباہ شدہ حالت ہی میں سہی) اور اسرائیلی انٹلی جنس سے متعلق اثاثہ جات موجود ہیں؟ 
(۳) ابراہم اکارڈ کی معطلی/ ناکامی: یہ معاہدہ جس کے ذریعہ  امریکہ نے اسرائیل اور عرب ملکوں کے تعلقات کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی، بُری طرح ملیا میٹ ہوا ہے۔ اس کی ناکامی اس لئے بھی تاریخی ہے کہ یہ معاہدہ صرف اس لئے معرض وجود میں لایا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ عرب ملکوں کے اسرائیل سے رشتے مضبوط ہوں اور اس طرح ایران کو الگ تھلگ اور کمزور کیا جائے یا اُسے شکست دی جائے۔ مگر، ایران جنگ نے پانسہ پلٹ دیا اور اس کے برخلاف ثابت کیا ہے۔ اس سے قبل عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنے مگر ان کی وجہ سے ایران خوفزدہ یا پریشان نہیں ہوا تھا۔ اب جبکہ اسے امریکہ اور اسرائیل پر ایک طرح کی سبقت حاصل ہوگئی ہے، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خطے میں اسرائیل اسٹراٹیجک بوجھ بن چکا ہے، اسٹراٹیجک اثاثہ نہیں ہے۔ بہرحال اس معاملے میں بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرب ممالک، جو اسرائیل سے اختلافات بھلا چکے یا بھولنے کو تیار تھے، اس سے اپنے رشتوں کو محدود کرنا چاہیں گے یا نہیں؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ امریکہ مستقبل ِقریب میں ان رشتوں میں گرمی پیدا کرنے کیلئے کیا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بہار کی سیاست میں آئینی تقاضے اور کشواہا کی مشکلیں

(۴) سیاسی مساوات میں لبنان: اگر اسرائیل کو لبنان سے انخلاء پر مجبور کردیا گیا تو خطہ میں سیاسی طاقت کی مساوات بدلنے کا پورا پورا امکان ہے۔تنظیم حزب اللہ اس بدلی ہوئی مساوات سےفائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کریگی ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ اپنے پرانے دشمنوں سے، جو اُس پر تنقید کرتے رہے ہیں، نمٹنے میں اپنی طاقت صرف کرے۔ اس دوران ایران کی کوشش ہوسکتی ہے کہ وہ لبنان کی فوجی اہمیت کو ببانگ دُہل تسلیم کرے۔ وہ ممالک جو بیروت کے قریب واقع ہیں، ممکنہ طور پر سیاسی مفاہمت اور سمجھوتہ کی راہ اپنائیں تاکہ اپنے حلیفوں کے مفادات کی حفاظت کرسکیں۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل (لبنان کے خلاف) جنگ بند کرنے کیلئے تیار ہوگا؟ کیا وہ لبنان سے انخلاء کیلئے راضی ہوجائیگا؟ کیا اسرائیل لبنان کی سرحدوں کا احترام کریگا؟ اگر نہیں تو پھر زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ ایران، اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ پر مجبور ہو۔
(۵) موجودہ صورت حال میں فلسطینی حکمت عملی: جتنے بھی ممالک اور ادارے فلسطین کیلئے کارآمد ثابت ہوسکتے تھے مثلاً عرب ممالک، مسلم ممالک اور امریکہ کی قیادت میں عالمی برادری، اُن سب نے کچھ نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اہل فلسطین خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اب ممکن ہے کہ فلسطین کے مزاحمتی گروپ (بشمول حماس) ایران سے اپنے روایتی اتحاد کو مستقل طور پر بہتر بنانے (اپ گریڈ کرنے) کی کوشش کریں۔ ایران کا ایک ریجنل پاور کے طور پر اُبھرنا نئی مساوات کو جنم دے سکتا ہے اور نئے امکانات کو راہ مل سکتی ہے۔ کم از کم اہل فلسطین تو یہی اُمید کرتے ہیں کہ ایران غزہ کے ساتھ ویسا ہی حسن سلوک کرے جیسا کہ اُس نے جنوبی لبنان کے ساتھ کیا ہے جہاں اس نے اسرائیل سے براہ راست مقابلہ کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کا معنی یہ ہوگا کہ حماس خطے میں اپنے روایتی سفارتی حلیفوں سے ناطہ توڑ لے گا؟ کیا واشنگٹن قطر اور دیگر ملکوں کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ حماس کی قیادت کی میزبانی کریں؟ کیا اس بات سے بھی چشم پوشی کرلے گا کہ حماس اور ایران کے درمیان رشتے اور تعلقات مضبوط ہوں؟ ظاہر ہے کہ وہ کبھی ایسا نہیں ہونے دے گا کہ یہ اس کی منصوبہ بندی میں ہے ہی نہیں مگر فی الحال کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ امریکہ ہمیشہ سے اسرائیل کا نگہبان رہا ہے۔ یہ اس کا فطری رجحان بھی ہے اور اس کی مجبوری بھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کیلئے اسرائیل دوست سے زیادہ دشمن ثابت ہورہا ہے !

سطورِ بالا میں آپ نے دیکھا کہ بدلے ہوئے حالات سے نئی توقعات بھی پیدا ہورہی ہیں اور نئے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ فی الحال، یہ سمجھنا کہ جنگ ختم ہوگئی ہے مناسب نہ ہوگا کیونکہ اسرائیل اپنی بدترین ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے بھٹکانے کی پالیسی اختیار کرے گا۔ اگر ایسا ہوا جس کا زیادہ امکان ہے تو وہ مختلف محاذ کھول سکتا ہے بالخصوص وہ محاذجہاں وہ پہلے سے سرگرم ہے۔ وہ مغربی کنارہ میں اپنی جارحیت کو تیز کرسکتا ہے اور غزہ میں قتل و غارتگری بڑھا سکتا ہے۔ ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھیں تو ایک بات بالکل طے معلوم ہوتی ہے کہ یہاں سے مشرق وسطیٰ بہت بڑی اور غیر متوقع ارضیاتی سیاست (جیو پالیٹیکل) تبدیلیوں کاگواہ بنے گا جس کی دھمک آئندہ کئی دہائیوں تک سنائی دے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK