Updated: September 22, 2026, 8:03 PM IST
| New Delhi
ہندوستان اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران توانائی کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی توانائی منظرنامے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنا ضروری ہے۔
ہندوستان اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک (OPEC) نے منگل کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران توانائی کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی توانائی منظرنامے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنا ضروری ہے۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری اور اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیث نے کی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں عالمی تیل مارکیٹ کا استحکام، توانائی سلامتی اور تیل کی صنعت میں مناسب اور بروقت سرمایہ کاری کی ضرورت سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے عالمی توانائی مارکیٹ کے قلیل مدتی، درمیانی مدتی اور طویل مدتی منظرنامے کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں عالمی اقتصادی ترقی اور توانائی کی طلب کے حوالے سے بھارت کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں توانائی کی بدلتی ہوئی ضروریات کے درمیان پیداوار اور کھپت کرنے والے ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ اور تعاون انتہائی اہم ہے۔
ہردیپ سنگھ پوری نے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دوران عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے اوپیک کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ متوازن، مستحکم اور قابل پیش گوئی عالمی توانائی مارکیٹ کی تشکیل کے لیے بھارت اور اوپیک کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
پوری نے کہا کہ ہندوستان اور اوپیک کے تعلقات فطری طور پر ایک دوسرے کے لیے تکمیلی اور باہمی مفاد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت اوپیک اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے طویل عرصے سے جاری تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس تعاون نے توانائی کے شعبے سے متعلق اہم معاملات پر باہمی سمجھ اور شراکت داری کو مضبوط کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ہندوستانی مردوں کی بیڈمنٹن ٹیم نے تمغہ پکا کیا، خواتین ٹیم کوارٹر فائنل میں باہر
ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہندوستان آنے والی دہائیوں میں عالمی توانائی طلب میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار کرنے والے اور توانائی استعمال کرنے والے ممالک کے درمیان مسلسل بات چیت سرمایہ کاری کو فروغ دینے، توانائی کے شعبے کی لچک کو مضبوط بنانے اور عالمی اقتصادی ترقی کے لیے قابل اعتماد توانائی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیث نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ بات چیت تنظیم کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ موجودہ عالمی توانائی منظرنامے میں بھارت کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور آنے والے برسوں میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اوپیک- ہندوستان توانائی مذاکرات کو ۱۱؍ سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اس گفتگو کا آغاز ۲۰۱۵ء میں نئی دہلی میں ہوا تھا اور اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تعاون مسلسل مضبوط ہوتا گیا ہے۔ ہیثم الغیث نے توانائی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کے متوازن، عملی اور حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی توانائی سے متعلق متعدد ترجیحات اوپیک کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ہندوستانی مردوں کی بیڈمنٹن ٹیم نے تمغہ پکا کیا، خواتین ٹیم کوارٹر فائنل میں باہر
اوپیک سیکریٹری جنرل نے ہندوستانی حکومت کے بین الاقوامی تعاون اور مذاکرات کے عزم کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھارت مسلسل مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اوپیک-ہندوستان توانائی مذاکرات کا آٹھواں اعلیٰ سطحی اجلاس باہمی طور پر مناسب تاریخ پر ویانا میں منعقد کیا جائے گا۔
ہندوستان دنیا کے بڑے توانائی صارفین میں شامل ہے، جبکہ اوپیک عالمی تیل مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں دونوں کے درمیان مسلسل توانائی مذاکرات عالمی تیل مارکیٹ، توانائی سلامتی، سرمایہ کاری اور مستقبل کی توانائی طلب سے متعلق امور پر باہمی تعاون کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔