• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اے روشنی ٔ طبع تو ُ بَر من بلا شدی!‘‘

Updated: February 21, 2026, 1:27 PM IST | Shahid Latif | mumbai

نئے دور میں تکنالوجی کے سبب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب ہم اُس دُنیا میں نہیں ہیں جس میں تھے۔ اس دور میں ڈیٹا بڑی دولت بن گیا ہے، ایسی دولت جس کیلئے دُنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اور کارپوریشن تگ و دو کررہے ہیں کہ اُنہیں حاصل ہوجائے۔ تو کیا یہ قارون کا خزانہ ہے؟

INN
آئی این این
بعض الفاظ سرپٹ دوڑتے ہیں  اور روکے نہیں  رکتے۔ آپ ان کے راستے میں  حائل ہوجائیں ، ان کے سامنے دیوار کھڑی کردیں ، ان کے لئے اپنے کان بند کر لیں ، انہیں  ناپسند کریں  یا دریا برد کرنا چاہیں ، یہ نہیں  رکتے۔ گویا ’’ہم تو آواز ہیں  دیوار سے چھن جاتے ہیں ‘‘۔ ایسے ہی الفاظ میں  ایک ہے ڈیٹا۔ لفظ انگریزی کا ہے مگر کثرتِ استعمال کی وجہ سے تمام زبانوں  میں  اور ہر خاص و عام کی زبان پر آ چکا ہے۔ انگریزی میں  اس کو بطور صیغہ ٔ واحد استعمال کیا جا رہا ہے مگر انگریزی لسانیات کے ماہر گواہی دیں  گے کہ یہ واحد نہیں ،  جمع ہے۔ جس طرح میڈیم واحد اور میڈیا جمع ہے جسے اب واحد استعمال کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ڈیٹم واحد اور ڈیٹا جمع ہے اور اسے بھی  واحد استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگ میڈیم نہیں  جانتے مگر میڈیا جانتے ہیں ۔ اسی طرح ڈیٹم نہیں  جانتے مگر ڈیٹا جانتے ہیں ۔
لسانیات اور سیاسیات میں  کچھ مشترک ہو یا نہ ہو ایک قدر مشترک ہے۔ سیاسیات بالخصوص جمہوری سیاسیات میں  جو عوام کہہ دیں  وہی درست مانا جاتا ہے، اسی طرح لسانیات میں  جس چیز کو عوام منظوری دے دیں  تسلیم کرلیا جاتا ہے، بحث نہیں  کی جاتی۔ عوام کسی واحد کو جمع کردیں  اسے خواہی نخواہی، جمع مان لیا جاتا ہے اور غلط العام یا غلط العوام کہہ کر صحیح ہونے کی سند بھی دے دی جاتی ہے۔ میڈیا اور ڈیٹا کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اب ڈیٹا لاکھ کہے کہ حضور مَیں  جمع ہوں  واحد استعمال کرکے مجھے کیوں  رُسوا کرتے ہیں ، اُس کی کوئی نہیں  سنے گا۔ جب میڈیم کی کسی نے نہیں  سنی تو ڈیٹم کی کون سنے گا اور کون اس کو استعمال میں  لائے گا؟ البتہ ایک قوم ہے جو اسے شرف قبولیت بخش سکتی ہے۔ وہ ہے اُردو شاعروں  کی قوم جو خوش ہوگی کہ جانم، رستم، ریشم، شبنم وغیرہ کا ایک نیا ہم قافیہ لفظ میسر آگیا ڈیٹم۔ اگر ڈیٹا معلومات کے ذخیرہ کو کہتے ہیں  تو ڈیٹم اس کے ایک جزو کو۔
جب سے اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا غلغلہ ہے، تب ہی سے وہ طاقتیں  ڈیٹا کا تعاقب کررہی ہیں  جنہیں  ہم دُنیا کی عظیم طاقتوں  میں  شمار کرتے ہیں  خواہ وہ حکومتیں  ہوں ، کارپوریشن ہوں ، کمپنیاں  ہوں  یا افراد۔ آگے بڑھنے سے قبل بتا دوں  کہ کتنے ہی بڑے ادارے اور افراد ڈیٹا کا تعاقب کریں  مجھے اس لفظ سے بڑی اُلجھن ہے جو سماعت پر پہلے ’’ڈا‘‘ کی وجہ سے اور پھر ’’ٹا‘‘ کی وجہ سے گراں  گزرتا ہے۔ شان الحق حقی کی آکسفورڈ انگلش اُردو ڈکشنری میں  اس کیلئے جو متبادل ملتا ہے وہ ہے: ’’معلومہ مواد‘‘مگر یہ مشکل ہے اور جب تک کوئی صاحب مواد پر پہنچنے سے پہلے لفظ معلومہ ادا کریں  گے تب تک لوگ ڈیٹا کہہ کر اور سمجھ کر آگے بڑھ جائینگے۔ دیگر ذرائع بالخصوص انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے علم ہوا کہ ڈیٹم کیلئے مُعْطِیَّہ اور ڈیٹا کیلئے مُعْطِیّات استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ یہ الفاظ ذرا گاڑھے ہیں  مگر اپنے سے لگتے ہیں ۔ ان کے استعمال کی سفارش کی جاسکتی ہے،  اُمید کرنا فضول ہے کہ انہیں  استعمال میں  لایا جائیگا کیونکہ اہل اُردو کو ہر لفظ یہ کہتے ہوئے جوں  کا توں  اپنا لینے میں  بڑا لطف آتا ہے کہ اُردو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دیگر زبانوں  کے الفاظ کو اپنے اندر آسانی سے سمو لیتی ہے۔ آئندہ چند برسوں  میں  آپ دیکھیں  گے کہ ڈیٹا چل گیا، معطیات دھرا رہ گیا۔ چونکہ نئے دور میں  نئی نسل کو وہی زبان بولنی ہے اور وہی الفاظ استعمال کرنے ہیں  جو دیگر زبان کے لوگوں  سے تبادلۂ خیال کی سہولت پیدا کرسکیں  اس لئے معطیات پر اصرار نہیں  کیا جاسکتا۔ وہ ڈیٹا کہیں  ضرور مگر معطیات یاد تو رکھیں  تاکہ کوئی پوچھے تو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ 
 
 
یہ ساری باتیں  اس لئے ہورہی ہیں  کہ ڈیٹا یا معطیات کو اِن دنوں  غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ گزشتہ روز تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں  پانچ روزہ اے آئی اِمپیکٹ سمٹ (چوٹی کانفرنس) جاری تھی جس میں  دُنیا بھر کے لوگ شریک تھے۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ ۱۰۰؍ سے زائد ملکوں  نے اس میں  دلچسپی لی اور شرکت کی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ملک ڈیٹا کے معاملے میں  بہت امیر ہے۔ ڈیٹا اتنا اہم کیوں  ہے یہ جاننے کیلئے امریکی مصنف جیفری مو‘ر کا یہ قول سمجھ لینا کافی ہوگا جس میں  تمام مضمرات سما گئے ہیں ۔ اُنہوں  نے کہا تھا کہ ’’بہت بڑے معطیات (ڈیٹا) کے بغیر آدمی اندھا اور بہرا ہے  اور فری وے پر بیچوں  بیچ کھڑا ہے۔‘‘
ہندوستان چونکہ سب سے بڑی آبادی کا ملک ہے اور بیشتر لوگوں  کے پاس موبائل ہے جو انٹرنیٹ بھی استعمال کررہے ہیں  اس لئے معطیات کے معاملے میں  سب سے زیادہ ثروتمند ہندوستان ہی ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں  کہ موبائل اور انٹرنیٹ پر آپ جو بھی سرچ کرتے ہیں ، اُس سے آپ کی پسند ناپسند، ترجیحات، رجحانات اور سماجی، سیاسی، معاشی، ثقافتی اور نفسیاتی رویہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور اس سے اخذ کئے گئے نتائج کی بنیاد پر بڑے کارپوریشن اور کمپنیاں  اور اب تو سیاسی جماعتوں  کیلئے کام کرنے والے ادارے بھی ’’مناسب‘‘ فیصلے کرتے ہیں ۔ معطیات کے تجزیئے کیلئے بزنس انٹلی جنس (بی آئی) سسٹم کی مدد لی جاتی ہے جس کیلئے ٹیبلیو، مائیکروسافٹ پاور بی آئی اور میٹا بیس مددگار ہوتے ہیں ۔ مزید تفصیل کافی تکنیکی ہے اُس سے احتراز کرتے ہوئے اتنا بتا دینا کافی معلوم ہوتا ہے کہ نئے دور میں جتنی بڑی کمپنیاں  اور کارپوریشن ہیں  وہ فری وے پر کھڑے اُس شخص کی طرح نہیں  بننا چاہتے جو یہ جانتے ہوئے سڑک کے بیچوں  بیچ کھڑا ہے کہ وہ اندھا بھی ہے اور بہرا بھی، اُسے نہ تو تیز رفتار گاڑیاں  دکھائی دیتی ہیں  نہ ہی اُن کے ہارن کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ساری کمپنیاں  زیادہ سے زیادہ فروختگی اور منافع کیلئے باخبر رہنا چاہتی ہیں ۔ اور کمپنیاں  ہی کیوں  حکومتیں  بھی ڈیٹا ہی پیش نظر رکھتی ہیں ۔ معلوم ہوا کہ معطیات (ڈیٹا) کے بغیر کچھ نہیں  ہوسکتا۔ نہ تو منصوبہ بندی ہوسکتی ہے نہ فیصلے کئے جاسکتے ہیں ۔ اسی لئے ساری دُنیا ڈیٹا کے پیچھے گویا ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے۔ مَیں  اپنے موبائل پر کچھ سرچ کررہا ہوں  اور کوئی کمپنی میرے اور مجھ جیسے کروڑوں  لوگوں  کے رجحان کا پتہ لگا رہی ہے اور ان کی نفسیات کو سمجھنے پر مامور ہے۔ کل تک کہا جاتا تھا کہ انسان کا سایہ اُس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے مگر صرف روشنی میں ۔ ڈیٹا اینالسٹ آپ کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں  اُس سائے کی طرح جو روشنی کا محتاج نہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK