یوم آزادی آیا، گزر گیا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ اس دن ہم نے بجا طور پر خوشی اور جشن منانے کے سوا کیا کیا؟ بہت کم لوگوں نے غور کیا ہوگا کہ ۷۹؍ سال میں ہم کتنے کامیاب اور کتنے ناکام ہیں۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 4:42 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai
یوم آزادی آیا، گزر گیا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ اس دن ہم نے بجا طور پر خوشی اور جشن منانے کے سوا کیا کیا؟ بہت کم لوگوں نے غور کیا ہوگا کہ ۷۹؍ سال میں ہم کتنے کامیاب اور کتنے ناکام ہیں۔
ابھی ابھی ہم نے یوم آزادی منایا۔ اس دن خوشیاں اور جشن منانا ضروری بھی ہے اور ہماری قومی زندگی کی خوب صورت روایت بھی۔ لیکن آزادی کا دن صرف جشن منانے کا نہیں، یہ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ یہ سوال کرنے کا دن ہے کہ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہم نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، اس کا کتنا حصہ حقیقت بن سکا؟ ہم نے کن میدانوں میںکامیابی حاصل کی اور کہاں ہماری رفتار رک گئی؟ کہاں ہم نے تاریخ کے تقاضوں کو سمجھا اور کہاں اپنی ہی بنائی ہوئی دیواروں میں قید ہوگئے؟
یہ بھی پڑھئے:دولت مشترکہ میں کامیابی کیا اولمپک کی راہ ہموار کرتی ہے یا ہمیں اور انتظار کرنا ہوگا؟
آزادی ہمیں ایک ایسے وقت میں ملی جب ملک تقسیم کے زخم سے لہولہان تھا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں خاندان اجڑ گئے اور فرقہ وارانہ تشدد نے انسانیت کو شرمسار کیا۔ اس کے باوجود ہمارے اولین رہنماؤں نے نفرت کے بجائے جمہوریت، آئین، سیکولرزم، مساوات اور انسانی وقار کو ہندوستان کے مستقبل کی بنیاد بنایا۔ یہ معمولی کامیابی نہیں تھی۔آج جب ہم آزادی کے ۷۹؍ سال مکمل کر رہے ہیں تو سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہندوستان نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ آزادی کے وقت دنیا کے بہت سے ماہرین کو یقین نہیں تھا کہ اتنے وسیع، متنوع، غریب اور کثیر لسانی ملک میں جمہوریت کامیاب ہوگی۔ لیکن ہندوستان نے دنیا کو حیران کیا۔ عام انتخابات کا تسلسل، اقتدار کی پرامن منتقلی، پارلیمانی نظام، آزاد عدلیہ، آئینی اداروں اور عوامی شرکت نے ہندوستان کو دنیا کی بڑی جمہوری ریاستوں میں ممتاز مقام دیا۔ ہماری سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ اتنے اختلافات کے باوجود ہندوستان ایک سیاسی اکائی کے طور پر قائم ہے۔ زبان، مذہب، ذات، خطہ اور ثقافت کے فرق کے باوجود ہندوستانی شناخت نے اپنی جگہ بنائی۔ یہ بھی ہماری کامیابی ہے کہ آزادی کے بعد ہندوستان نے اپنے لئے آئین بنایا جس نے شہریوں کو بنیادی حقوق دیئے اور ریاست کو قانون اور آئین کا پابند بنایا۔ ڈاکٹر امبیڈکر اور آئین ساز اسمبلی کے دوسرے ارکان نے جس ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا، اس میں شہری کی عزت، اس کی ذات، مذہب، زبان یا معاشی حیثیت سے متعین نہیں ہونی تھی۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے آئین کو اپنی اجتماعی زندگی کا اخلاق بنایا؟یہ سوال آج پہلے سے زیادہ اہم ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قابل ذکر ترقی کی۔ خلائی تحقیق سے لے کر ایٹمی توانائی تک، طب سے لے کر انفارمیشن ٹیکنالوجی تک، ہندوستانی سائنس دانوں اور انجینئروں نے دنیا میں اپنی صلاحیت ثابت کی۔ آج خلائی تحقیق میں ہم اپنی شناخت قائم کرچکے ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب نے عام آدمی کی زندگی بدل دی ہے۔ بینکنگ، مواصلات، ادائیگی کے نظام اور سرکاری خدمات میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں ہالی ووڈ کی بڑھتی مقبولیت؛ یہ برانڈ ویلیو ہے یا نیا ٹرینڈ؟
ہندوستان کی نوجوان آبادی دنیا کی بڑی افرادی قوت ہے۔ سبز انقلاب نے ملک کو غذائی قلت کے خوف سے باہر نکالا۔ ادویہ سازی، آئی ٹی، اسٹارٹ اپس اور بنیادی ڈھانچے میں بھی ملک نے نمایاں پیش رفت کی لیکن ترقی کا اصل پیمانہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنے سیٹلائٹ ہیں، کتنے بڑے شہر ہیں یا ہماری معیشت کتنی بڑی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام ہندوستانی کی زندگی کتنی بہتر ہوئی؟ ایک طرف جدید اسپتال ہیں اور دوسری طرف غریب کو بنیادی علاج کیلئے قرض لینا پڑتا ہے، ایک طرف عالمی معیار کے تعلیمی ادارے ہیں اور دوسری طرف لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں تو ہمیں اپنی ترقی کے ساتھ اپنی محرومیوں کو بھی شمار کرنا ہوگا۔
تعلیم کے میدان میں ہندوستان نے خاصا طویل سفر طے کیا ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں اور تحقیقی اداروں کی تعداد بڑھی ہے۔ خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اعلیٰ تعلیم کے دروازے ان طبقات کیلئے بھی کھلے جو صدیوں تک اس سے محروم رہے تھے مگر تعلیم کی مقدار اور معیار میں بڑا فرق ہے۔ ہم نے اسکولوں کی تعداد بڑھائی مگر کیا ہر بچے کو معیاری تعلیم دی؟ ہم نے ڈگریوں کی تعداد بڑھائی، مگر کیا نوجوانوں کو روزگار کے قابل بھی بنایا؟ ہم نے یونیورسٹیاں قائم کیں، مگر کیا تحقیق اور تنقیدی فکر کو وہ آزادی دی جس کی ایک علمی معاشرہ کو ضرورت ہوتی ہے؟تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ تعلیم انسان کو دوسرے انسان کا احترام سکھاتی ہے۔ اگر ہماری ڈگریاں بڑھ رہی ہوں مگر ہمارے اندر تحمل کم ہورہا ہو تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
پھر وہ سوال جس سے ہم اکثر فرار اختیار کرتے ہیں۔ہم نے سائنس میں ترقی کی، معیشت کو آگے بڑھایا، دنیا میں اپنا مقام بنایا، جمہوری نظام کو قائم رکھا، لیکن فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی تعصب نے ہماری قومی روح کو گہرے زخم بھی دیے ہیں۔تقسیم کے بعد عہد کیا گیا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا۔ آئین نے بھی یہی ضمانت دی۔ مگر بار بار کے فسادات نے اس عہد کو مجروح کیا۔ یہاں کسی ایک حکومت، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک مذہب کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ فرقہ واریت ایک اجتماعی بیماری ہے۔ جب سیاست مذہبی جذبات کو ووٹ میں تبدیل کرتی ہے، جب افواہ خبر بن جاتی ہے، جب سوشل میڈیا نفرت کا بازار بن جاتا ہے، جب انسان کو پہلے اس کی مذہبی شناخت سے دیکھا جاتا ہے، بعد میں ہندوستانی سمجھا جاتا ہے، تو قومی یکجہتی کمزور ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:راجہ ارادت جہاں: آزادی کے گمنام مگر عظیم مجاہد
فرقہ وارانہ فساد صرف چند دنوں کا تشدد نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں۔ایک دکان جلتی ہے تو صرف دکان نہیں جلتی، ایک خاندان کا معاشی مستقبل جلتا ہے۔ ایک گھر تباہ ہوتا ہے تو صرف اینٹیں نہیں گرتیں، بچوں کے خواب ٹوٹتے ہیں۔ ایک بے گناہ انسان مارا جاتا ہے تو صرف ایک زندگی ختم نہیں ہوتی، معاشرہ کے اجتماعی ضمیر پر ایک داغ لگتا ہے اور سب سے خطرناک یہ ہے کہ فساد ختم ہونے کے بعد بھی خوف باقی رہتا ہے، محلے الگ ہوجاتے ہیں، کاروباری تعلقات محدود ہو جاتے ہیں، بچے ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں اور دلوں میں پیدا ہونے والی بداعتمادی کسی سرکاری اعلان سے ختم نہیں ہوتی۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فرقہ واریت صرف فساد کا نام نہیں۔ تعصب اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ جب کسی نوجوان کو اس کے مذہب کی وجہ سے شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، کسی شہری کو اس کے نام یا لباس سے پرکھا جائے، طالب علم کو دوسرے مذہب کے بارے میں نفرت سکھائی جائے یا جب کسی علاقہ یا برادری کے بارے میں بے بنیاد نفرت انگیز تصورات پھیلائے جائیں، تو یہ سب فرقہ واریت کی مختلف شکلیں ہیں۔