یوم آزادی پر لال قلعہ سے کی گئی تقریر میں وزیراعظم نے ایک نئے دشمن ’’دماغی نکسل‘‘ کا ذکر کیا۔ سوال یہ ہے کہ ملک کا یہ نیا دشمن کون ہے جس کے خطرے سے عوام کو آگاہ کرنے میں مودی جی اتنے کھوگئے کہ ۷۵؍منٹ کی اپنی تقریر میں دیرینہ دشمن پاکستان یا چین کا تذکرہ کرنا تک بھول گئے؟انہوں نے نہ تو ملک سے کرپشن کا صفایا کرنے کا کریڈٹ لیا اور نہ ہی دنیا میں بھارت کا وقار اونچا کرنے کا۔
وزیر اعظم نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این
بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے سیاسی اور نظریاتی مخالفین پر مختلف قسم کے منفی لیبل چپکاکر انہیں معاشرے میں معتوب اور بے آبرو کرتی رہتی ہے۔اگر کسان متنازع زرعی قوانین کی مزاحمت کریں تو انہیں ’’خالصتانی‘‘ یا ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر مسلمان متعصبانہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کریں تو وہ ’’جہادی‘‘ یا ‘‘پاکستانی‘‘ ڈکلئیر کردیئے جاتے ہیں۔ اگر کشادہ ذہن طلبہ، روشن خیال اساتذہ، بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے دانشور اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کی مخالفت کرتی ہیں تو ان پر ’’ ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘اور’’ اربن نکسل‘‘ کا ٹھپہ لگا کر بدنام کیاجاتا ہے۔ چار دن قبل ان القابات کی فہرست میں ایک نئے ٹائٹل ’’دماغی نکسل‘‘ کا اضافہ ہواہے۔ یہ اضافہ کسی اور نے نہیں بلکہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہی کیا ہے جنہیں انوکھی اور مضحکہ خیز ترکیبات گڑھنے میں مہارت حاصل ہے۔ مودی جی نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے کی گئی اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے جنگلات میں چھپے خونی نکسلیوں کا خاتمہ تو کردیالیکن ابھی بھی ملک میں ان کے بقول ’’دماغی نکسل‘‘ موجود ہیں جو معاشرے میں تشدد اور انارکی پھیلانے کے موقعے تلاش کر رہے ہیں۔مودی جی نے قوم کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ان دماغی نکسلیوں کی شناخت کرنا اور انہیں isolateکرناضروری ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:یوم آزادی سے متعلق ۱۰؍ اہم سوالات اور اُن کے جواب
یوم آزادی پر لال قلعہ سے کی گئی تقریر کی خصوصی اہمیت ہوتی ہے۔ اس تقریر میں وزیر اعظم ملک کی ترقی اور قوم کی رہنمائی کے اپنے روڈمیپ کا اعلان کرتے ہیں لیکن لال قلعہ سے’’ دماغی نکسل‘‘ جیسے بیانیہ کی ترویج حکومت کے آمرانہ اور فسطائی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔بین الاقوامی ماہر سیاسیات Lawrence Britt نے برسوں کی ریسرچ کے بعد فاشزم کی چودہ نشانیاں دریافت کی تھیں۔ ان میں سے تیسری اہم نشانی ایک قومی دشمن کی شناخت یا ایجاد شامل ہے۔ برٹ کے مطابق ایک فسطائی نظام میں لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ قومی سلامتی کی خاطر اس مشترکہ دشمن کا خاتمہ لازمی ہے اور اس طرح ان کے دلوں میں حب الوطنی کا جنون ابھارکر انہیں متحد کیا جاتا ہے۔ یہ دشمن نسلی یا مذہبی اقلیت بھی ہوسکتا ہے اور کمیونسٹ اور لبرل وغیرہ بھی۔ تاناشاہ اور فسطائی حکمراں اپنے پیروکاروں کو متحد کرنے، معاشرے میں خوف پیدا کرنے اور اپنی ناکامیاں چھپانے کی خاطر اس دشمن کو قربانی کے بکرے کی طرح استعمال کرتے ہیں۔مودی جی نے واضح نہیں کیا کہ یہ ’دماغی نکسل‘ کون ہیں۔ ان کی کابینہ کے ایک وزیر نے وضاحت کی کہ وزیر اعظم کا اشارہ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب نہیں تھا۔ تو سوال یہ ہے کہ ملک کا یہ نیا اجتماعی دشمن کون ہے جس کے خطرے سے عوام کو آگاہ کرنے میں مودی جی اتنے کھوگئے کہ ۷۵؍منٹ کی اپنی تقریر میں دیرینہ دشمن پاکستان یا چین کا تذکرہ کرنا تک بھول گئے؟انہوں نے نہ تو ملک سے کرپشن کا صفایا کرنے کا کریڈٹ لیا اور نہ ہی دنیا میں بھارت کا وقار اونچا کرنے کا۔
پچھلے چند ماہ میں نیٹ کے پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج اور رام مندر کے چندہ چوری جیسے واقعات سے ملک بھر میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ توقع تھی کہ وزیر اعظم ان دونوں سلگتے ہوئے موضوعات پر اپنے خیالات اور ردعمل کا اظہار کریں گے۔ لیکن مودی جی نے ان دونوں تنازعات سے دامن بچانے اور خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی بارہ برسوں میں مودی سرکار کی سب سے بڑی پسپائی بھی تھی اور رسوائی بھی۔ جنتر منتر تحریک کی کامیابی نے سارے ملک میں امید اور جوش کی ایک نئی لہر پیدا کردی ہے۔ نئی نسل کے نوجوانوں نے حکومت کو یہ جتادیا ہے کہ وہ اسے ڈرا نہیں سکتی ہے۔ خوف سے آزادی طلبہ کی تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے جس نے اس تحریک کی قیادت کی تھی اب’’ اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا اعلان کرکے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ جنتر منتر کے احتجاج کی کامیابی کے پیچھے کمیونسٹ جماعتوں کے طلبہ کی تنظیموں کی انتھک محنت، خلوص نیتی اور عزم و استقلال کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ ابھیجیت دپکے کو اس کامیابی کا جتنا کریڈٹ ملنا چاہئے اتنے ہی کریڈٹ کی مستحق نیہا بورا بھی ہیں۔ نیہا AISA کی قومی صدرہیں جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(ایم ایل) لبریشن کی طلبہ کی تنظیم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوم ِ آزادی، طلبہ اور نوجوان
دائیں بازو کی رجعت پسند طاقتوں کو سب سے زیادہ خوف بائیں بازو کی ترقی پسند۔ لبرل اور سیکولر پارٹیوں اور اداروں سے آتا ہے۔ مودی حکومت جانتی ہے کہ ملک میں سماجی اور معاشی مساوات کا خواب دیکھنے والے یہ آدرش وادی لوگ اڈانی اور امبانی جیسے سرمایہ داروں کی راہ میں ہمیشہ دیواریں کھڑی کرتے رہینگے۔ یہ سرپھرے دلتوں، آدیباسیوں اور اقلیتوں کی حمایت میں سب سے آگے آگے رہتے ہیں۔ یہ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تنگ نظری کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔یہ ذات پات اور رنگ و نسل کی سیاست سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے اور کشادہ ذہن کے لوگ ہیں۔یہ مودی جی کو دیش کا پردھان منتری تو تسلیم کرتے ہیں لیکن انہیں مہاپرش ماننے سے انکار کرتے ہیں۔اسی لئے ان لوگوں کا برین واش کرکے انہیں اندھ بھکت نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ کبھی بھی ’’ مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ کا نعرہ نہیں بلند کریں گے۔ ان کے پاس اپنا دماغ ہے اور یہ اپنا دماغ استعمال کرنا جانتے ہیں۔ اب اس جرم میں انہیں ’’دماغی نکسل‘‘ کا لقب بھی دے دیاجائے تو انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ دلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا دعویٰ ہے کہ جو شہری مودی جی سے سوال کرنے کی ہمت کرتا ہے، جو کرپشن سے پاک بھارت کا خواب دیکھتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ جو شہری مودی جی اور بی جے پی سے ڈرتا نہیں ہے وہ وزیر اعظم کی نظر میں دماغی نکسل ہے۔
پس نوشت: چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے بے روزگار نوجوانوں کا کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے موازنہ کرکے جو آفت مول لی تھی اس کا خمیازہ مودی حکومت کو ابھی تک بھگتنا پڑرہا ہے۔ مذاق مذاق میں شروع کی گئی آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی سیاسی طاقت میں تبدیل ہوگئی جس نے ملک کی مروجہ سیاست کی بنیادیں ہلاڈالیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے طرز پر دماغی نکسل پارٹی بھی معرض وجود میں آگئی ہے اور نوجوانوں میں مقبول ہورہی ہے۔ ناقص تعلیمی سسٹم اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نبرد آزما یہ نسل اگر اس نئی پارٹی کے پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف ایک نئی ملک گیر تحریک کا اعلان کردے پھر کیا ہوگا؟n