Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقتدار کیلئے عوامی مینڈیٹ کا سودا کب تک ؟

Updated: July 23, 2026, 5:54 PM IST | Shashi Tharoor | Mumbai

شہری ایک پلیٹ فارم، ایک وعدے اور حکمراں طاقت کے مقابلہ کیلئے ووٹ دیتے ہیںجب ایک منتخب نمائندہ اپنی پارٹی یا گروہ سے انحراف کرتا ہے تو وہ ہزاروں شہریوں کے ووٹوںمٹا دیتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعدترنمول کانگریس میںہونے والے داخلی انتشار نے ریاست کی سیاست کاپورا منظر نامہ بدل کررکھ دیا ہے۔انتخابات میںشکست کے بعد ٹی ایم سی کو  شدید بغاوت کابھی سامنا کرنا پڑا۔درجنوں اراکین اسمبلی، متعدد میونسپل کونسلرز اور۲۰؍ اراکین پارلیمنٹ ممتا بنرجی کا ساتھ چھوڑ کر برسر اقتدار این ڈی اے کے خیمےمیں چلے گئے۔اس دوران ادھو ٹھاکرےکی شیوسینا کے دوتہائی اراکین پارلیمنٹ نے شندے گروپ کا دامن تھام لیا اور اب دیگر کچھ پارٹیوں کے تعلق سے افواہوںاورقیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔

اس پھوٹ اور تقسیم کے پیچھےمحرکات یکساں ہیں۔عوامی حلقوں میںانہیںمنصوبہ بند کہا جارہا ہے جس میں بی جےپی کا کلیدی کردار ہے۔ بہر حال ان کالموںمیںیہ بتانا مقصد نہیں ہےکہ کس طرح دل بدلی مخالف قانون کو درکنا رکیا گیا اورنہ ہی پارٹیوں میںبغاوت کا پوسٹ مارٹم کیا جانا ہے۔مقصدصرف یہ سوال اٹھانا ہےکہ سیاست کے معنی اب کیا رہ گئے ہیں،یا سیاست کیا ہے اور کس کیلئے ہے؟

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران جنگ کی دلدل میں پھنس گئے؟

اپنے حقیقی معنوںمیں سیاست ایک ڈھانچہ جاتی خاکہ ہے جس کے ذریعےافراداپنے آپ کو منظم کرکےایک بہتر معاشرہ ، برابری پر مبنی معاشی نظا م اورایک مضبوط قوم تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔سیاست ایک متنوع تہذیب تشکیل دینےکا ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ سیاست کے میدان میں قدم رکھنے کیلئے ایک نظریہ کی ضرورت ہےاورضروری ہے کہ ایک سیاستداں کواس سوال کا جواب معلوم ہوکہ ’’  وہ کیاہے جس سے ایک بہتر ہندوستان بنتا ہے۔‘‘

بہت سوںکیلئے یہ ویژن معاشی خوشحالی ،سیکولرازم اوراقتدار کی مرکزیت ختم کرنے سے متعلق  ہوگااور کئی ایسے ہوں گے جو اس ویژن کوکاروباری آزادی(مارکیٹ لبرلائزیشن) ،قومی سلامتی  اور ثقافتی قومیت سے وابستہ کرتے ہوں گے۔ یہ مختلف نظریے ایک ہی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ سیاسی پارٹیوںکا وجودکیوں اور کس لئے ہے؟ایک سیاسی پارٹی افکار ونظریات کی تجربہ گاہ ہوتی ہے  اوران سے وابستہ افرادخود کومتعین اصولوں، اقداراور پالیسیوں کے بندھن میں باندھتے ہیں اورانہی بنیادوں پر قانون سازی کی راہ پرپیشقدمی کرتے ہیں۔آپ ایک سیاسی پارٹی میں اسلئے شامل ہوتے ہیں کیونکہ اس کا پلیٹ فارم ملک کے تعلق سے آپ کے منصوبےکی عکاسی کرتا ہوامعلوم ہوتا ہے۔ ایک پارلیمانی نظام میں پارٹی کی حیثیت ایک پہیہ کی ہوتی ہےجو ملک کے تعلق سے آپ کے افکار ونظریات کو آگےبڑھاتا ہے۔

جب ہم حالیہ یا گزشتہ ایک دہائی کےد وران پیش آنے والے ایسے واقعات  پر نظرڈالتے ہیںکہ جن میںکسی پارٹی کے لیڈروں نے کسی عہدہ اور وزارت کیلئے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہو، ، تو ان میںہمیں اصول کی مکمل عدم موجودگی نظر آتی ہے۔حالیہ یادداشت میںدل بدلی کا ایسا کوئی بھی واقعہ نظر نہیںآتا جس کی بنیاد خالص نظریاتی ہو۔ہم نے لیڈروں کو ان بنیادوںپر کسی پارٹی سے مستعفی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا کہ اب وہ دائیںبازوکے معاشی نظریہ کے حامی ہوگئے ہیں یا مرکزی بائیںبازوکے فلاحی نظریہ سے متاثرہوچکے ہیں یا وفاقیت کیلئے ان کے دل میںگہری تبدیلی آچکی ہے۔اس کے بجائے(ایسے لیڈروں کی ) نظریاتی تبدیلی ایک آن میں ہوجاتی ہے،یا اصول پرستی کا جو نام نہاد لبادہ وہ اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں،اسے راتوںرات اتار کر پھینک دیتے ہیں۔ایسے سیاستداں در اصل اقتدار کیلئے خود اپنا مذاق بنالیتے ہیں۔ہندوستان کی سیاسی مسابقتی نظریات کی جنگ سےاب ذاتی منافع کے بازار میںبدل چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بہار میں اعلیٰ تعلیم کا نیا دور!

جب ایک سیاستداںشکست خوردہ پارٹی سے پالا بدل کرفاتح پارٹی کے خیمےمیں جاتا ہےتو وہ خالص لین دین پر مبنی حساب کتاب کر رہا ہوتا ہے۔ٹی ایم سی میں پھوٹ کے معاملے میںتو باغی لیڈر صاف کہہ چکے ہیں اور اعتراف کیا ہےکہ اپوزیشن میں رہنے پر انہیںعوامی غصے کا سامنا کرنا پڑتا ،وہ محفوظ نہیںرہتے اور مرکز کی تفتیش و نگرانی کی زد میںآتے۔حکمراں خیمےمیں آنے کے بعد انہیں فوری تحفظ حاصل ہوا ہے اورمبینہ طورپر رقم بھی ملی ہے۔

یہ (دل بدلی یا غداری) بنیادی طور پر جمہوری مینڈیٹ کو پامال کرتی ہے۔ جب شہری ووٹ دیتے ہیں، تو وہ عام طور پر صرف نام کو ووٹ نہیں دیتے۔ وہ ایک پلیٹ فارم، ایک وعدے، اور حکمراں طاقت کے مقابلہ کیلئے ووٹ دیتے ہیں۔ جب ایک منتخب نمائندہ  اپنی پارٹی یا گروہ سے انحراف کرتا ہے تو وہ ہزاروں شہریوں کے ووٹوںمٹا دیتا ہے۔ وہ اسے ملنے والی عوامی حمایت کو اپنا ذاتی سرمایہ سمجھتا ہے،  جس کا وہ مستقبل میں وزارتی  قلمدان یا کسی  کارپوریٹ رعایت کیلئے سودا کرسکتا ہے۔اگر سیاسی وفاداری کوخریدا جائے ، (اقتدار  کے کھیل کیلئے) اس کااستحصال کیا جائے،اس کی تجارت کی جائےاوراس پر کوئی جوابدہی نہ ہوپھربیلٹ باکس عوام کیلئے سوائے فریب کے اور کچھ نہیں ہےاورسیاست بس امیروںکیلئے خودکی خدمت کرنے کا ذریعہ ہے۔

یہ صورتحال ہمیںایک بہت ہی اہم سوال کی طرف لاتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر سیاست صرف انفرادی ترقی کا نام ہے توہم نے سیاسی پارٹیوں کیلئے اتنامہنگاانتظام کیوں کررکھا ہے؟ہمارے سسٹم کو چلانے کیلئے  د ر اصل ایک صحت مند اور مضبوط ٹریزری بینچ یا مالی نظام کی ضرورت ہےاوراس پر سوال اٹھانے کیلئے ایک منظم اپوزیشن کی جواقتدار کو چیلنج کرسکے ۔بر سراقتدار سیاسی پارٹیوںیا اتحادکی حیثیت ایسے نظام میںصرف منتظم کی ہونی چاہئے (جسےجمہوری طریقے سے انتظام کا موقع دیا گیا ہے)۔اس صورت میںپھر بحث ومباحثہ کا موضوع پالیسیوںکے ا ختلافات پر ہوگا نہ کہ شخصیات پر۔

یہ بھی پڑھئے: بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟

بہر حال اگر پارٹیوںکی حیثیت صرف ایک جہاز کی ہے جن کا ٹکٹ لیا جانا ہے توپھرہوا کے رخ بدلنے سے ان جہازوںکی بھی سمت بدل جائے گی اور اس طرح سسٹم منہ کے بل گرجائے گا اوراس طرح پارلیمنٹ کا باوقار ادارہ موقع پرستوںکا اڈہ بن کر رہ جائے گا ۔ دل بدلی مخالف قانون ۱۹۶۰ء کا بدنام زمانہ ’ آیا رام گیا رام کلچر ‘  پرقابو پانے کیلئےلایا گیاتھامگراب یہ بھی بےاثر ہوکر رہ گیا ہے۔اب سیاستداںیکے بعد دیگرےایک جہاز سے دوسرے جہاز میں نہیں کودتے بلکہ اب  سیدھے دوتہائی لیڈراپنی جماعت کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ نئی سیٹ اور نئے قلمدان کیلئے دوسرے جہا ز میں چڑھتے ہیں۔وہ صرف جماعت ہی نہیںبدلتے بلکہ اپنا قائد وسربراہ بھی بدل لیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK