Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ ایران جنگ کی دلدل میں پھنس گئے؟

Updated: July 23, 2026, 4:40 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

طاقتور سربراہان مملکت کو اپنی بھاری بھرکم افواج کے زور پراکثر یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ کوئی نقصان اٹھائے بغیر دشمن کو بہت جلد مغلوب کر لیں گے۔ ٹرمپ بھی اسی مختصر جنگ کی خام خیالی کا شکار ہوگئے ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 فروری میں عمان اور سوئٹزر لینڈ میں ایرانی لیڈروں کے ساتھ امریکی نمائندوں کے مذاکرات ٹرمپ کی مرضی کے مطابق ہی چل رہے تھے اس کے باوجود ۲۸؍ فروری کو امریکی صدر نے ایران پر فوج کشی شروع کردی۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ اس جنگ کے لئے ٹرمپ نہیں بنجامن نیتن یاہو ذمہ دار تھے کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ہی امریکی صدر کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ یلغار کے سامنے ایران چوبیس گھنٹے بھی ٹھہر نہیں سکے گا۔ اعلیٰ سیاسی،فوجی اور روحانی قیادت کے قتل کے ساتھ ہی ایرانی عوام بغاوت کا پرچم بلند کردیں گے اور ٹرمپ تہران میں رجیم کی تبدیلی کا اپنا مقصدبلا مزاحمت حاصل کرلیں گے لیکن ٹرمپ کو جلد ہی یہ اندازہ ہوگیا کہ جنگ ان کی اسکرپٹ کے مطابق نہیں چل رہی ہے۔ اسی لئے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے وہ پھر بے قرار ہواٹھے۔ انہوں نے پاکستان اور قطر جیسے ممالک کی منتیں کرکے ان کے ذریعہ ایران کو جنگ بندی کیلئے راضی کرایا۔ اللہ اللہ کرکے۱۹؍جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔لیکن چند دنوں کے اندر ہی ٹرمپ ایک بار پھر پہلو بدلنے لگے۔ ان کی راتوں کی نیند اور دن کا قرار اڑگیا۔ جب ان کوشدت سے یہ محسوس ہونے لگا کہ امن سے بہتر تو جنگ ہی تھی تو انہوں نے ایک بار پھر ایران پر چڑھائی کردی۔

یہ بھی پڑھئے: بہار میں اعلیٰ تعلیم کا نیا دور!

یہ بات تو طے ہے کہ ایران جنگ پارٹ ٹو کا الزام نیتن یاہو پر نہیں ڈالا جاسکتا ۔جنگ بندی اور عارضی امن کے بعد ہونے والی اس جنگ کا پورا ’’کریڈٹ‘‘ ٹرمپ کو ملنا چاہئے۔ دی گارجین کے خارجہ امور کے ماہر Simon Tisdal کے مطابق خلیج کی یہ جنگ اگر تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جارہی ہے تو اس کی وجہ خود ٹرمپ ہیں۔ ٹسڈل کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ اپنی ذات میں خود’’ اجتماعی تباہی والے ہتھیار‘‘ (WMD) ہیں۔

ٹرمپ کی بے چینی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ایران ان کے سامنے جھکنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ٹرمپ دوست اور دشمن دونوں کو مسلسل ذلیل و خوار کررہے ہیں اور انہیں اپنی انگلیوں پر ناچنے کے لئے مجبور کررہے ہیں لیکن ایرانی رہنما کسی اور ہی مٹی کے بنے ہیں۔ ٹرمپ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کی دھمکی دیتے ہیں پھر بھی تہران کی خودسری برقرار رہتی ہے۔ ٹرمپ جب یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران کو میری اطاعت کرنا ہوگی تو تہران ان کے مطالبے کو اسی طرح نظر انداز کرتا ہے جیسے کوئی سمجھدار باپ  اپنے ضدی بچے کی چاندکی فرمائش کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایرنی نژاد امریکی اسکالر ولی نصر(جو مشرق وسطیٰ کے امور پر امریکی حکومت کے مشیر رہ چکے ہیں) کے مطابق ٹرمپ کی پریشانی یہ ہے کہ ایران ان کے طے کردہ اصولوں کے تحت کھیلنے کے تیار نہیں ہے۔ ’’ایران دوسرے ممالک کی مانند جھک کر ٹرمپ کاہاتھ چوم کر اور آپ کتنے عظیم ہیں کہہ کر امریکہ سے رعایتیں حاصل کرنے کے لئے راضی نہیں ہے۔‘‘ چونکہ ایران ہار تسلیم نہیں کررہا ہے اس لئے ٹرمپ جنگ جاری رکھنے پر خود کو مجبور پارہے ہیں۔ٹرمپ نے شاید ایران کو وینزویلا کی طرح نرم چارہ سمجھ رکھا تھا اسی لئے جب ایران نے انہیں لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کردیا تو انا پسند اور خود پرست ٹرمپ نے سوچا کہ جنگ ختم کردینے سے امریکہ کی عالمی رسوائی ہوگی۔

امریکی جنگوں کے سلسلہ کا خاتمہ ٹرمپ کا کلیدی انتخابی وعدہ تھا۔یہ ان کا واضح  جنگ مخالف موقف  ہی تھا جس نے لاکھوں لوگوں کو ٹرمپ کی حمایت کیلئے آمادہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے عراق جنگ میں ملک کو جھونکنے کی حماقت کیلئے جارج ڈبلیو بش کی زبردست تنقید کی تھی۔ اسے وقت کاستم کہیں گے یا وقت کی ستم ظریفی کہ ٹرمپ بھی بش کی تقلید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا نام بھی ان امریکی صدور کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے امریکہ کو قطعی غیر ضروری اور تباہ کن جنگوں میں جھونک دیا۔اب امریکی دفاعی تجزیہ کاراورسیاسی مبصرین کھل کر اس خدشے کا اظہار کرنے لگے ہیں کہ امریکہ جنگ کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے اور اگر ٹرمپ نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہیں لئے تو ایران ایک نیا افغانستان یا عراق بن جائیگا۔

یہ بھی پڑھئے: بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟

۲۸؍ فروری کو ایران پر چڑھائی کرتے وقت ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل بہت جلد اپنے تمام جنگی اہداف حاصل کرلیں گے اورجنگ زیادہ سے زیادہ چار پانچ ہفتے چلے گی۔جنگ کوپانچ ماہ ہونے والے ہیں۔ پچھلے ۱۰؍ دنوں سے جاری جنگ ہر روز مزید خطرناک رخ اختیار کررہی ہے۔ امریکہ کا کوئی جنگی ہدف پورا نہیں ہوسکا ہے۔ نہ تہران میں حکومتی نظام تبدیل ہوا نہ ہی ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر روک لگائی اور نہ ہی وہ فلسطین، لبنان یا یمن میں سرگرم جنگی تنظیموں کی سرپرستی سے دستبردار ہوا۔امریکی فوج پرانے اہداف ہی حاصل نہ سکی تھی کہ اب ایک نیا ہدف اس کے گلے پڑگیا۔اس وقت امریکی فوج اپنی پوری توانائی آبنائے ہرمزدوبارہ کھلوانے پر صرف کررہی ہے۔ہرمز کا کنٹرول ہی اب ٹرمپ کا سب سے اہم جنگی ہدف بن چکا ہے۔ 

امریکہ نے اب ایران کے شہری ٹھکانوں اور انفرااسٹرکچر پر بمباریاں شروع کردی ہیں اورایران میں بھاری تباہی اور ہلاکتیں طے ہیں۔ پچھلے چند روز میں ہوئی نئی امریکی فوجی ہلاکتوں نے بد دماغ ٹرمپ کو مزید برانگیختہ کردیا ہے۔ ٹرمپ کی الجھن اس لئےبڑھ گئی ہے کیونکہ ان کے سامنے کوئی واضح روڈ میپ نہیں ہے۔ٹرمپ نے ایک مختصر جنگ میں ایران کو پسپا کرکے امریکہ اور اقوام عالم میں اپنی دھاک جمانے کا پلان بنایا تھا۔ طاقتور سربراہان مملکت کو اپنی بھاری بھرکم افواج کے زور پر اکثر یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ کوئی نقصان اٹھائے بغیر دشمن کو بہت جلد مغلوب کرلیں گے۔ ٹرمپ بھی اسی مختصر جنگ کی خام خیالی کا شکار ہوگئے جسے معروف اسکالر Lawrence D Freedman   نے  "short-war fallacy" کہا ہے۔جنگ کی دلدل سے باہر نکلنے کے لئے ٹرمپ جتنا چھٹپٹارہے ہیں اور ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں وہ اتنا ہی اس میں دھنستے جارہے ہیں۔ دراصل جون کے وسط میں انہوں نے ایران کے ساتھ مفاہمتی معاہد ہ کرنے کی عجلت میں ایران کی زیادہ تر شرائط مان لی تھیں۔ حالانکہ وہ دعویٰ یہ کررہے تھے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ بہترین معاہدہ کیا ہے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ معاہدہ سراسر ایران کے حق میں تھا۔اس معاہدہ میں امریکہ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کرلیا تھا۔ جب امریکہ میں معاہدہ پر تنقید ہونے لگی اور جب لوگ دبی زبان سے یہ بھی پوچھنے لگے کہ کیا یہ اوبامہ کے جوہری معاہدہ سے کسی صورت بہتر  ہے تو ٹرمپ کورسوائی کا احساس ستانے لگااور انہوں نے ایران پر پھر بمباری شروع کردی۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کا احتجاج، اس کی ’حصولیابی‘ اور مضمرات

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جس مفاہمتی معاہدہ کیلئے اتنے پاپڑ بیلے اس کی پاسداری وہ چند ہفتے بھی نہیں کرسکے۔ٹرمپ دراصل کسی بین الاقوامی معاہدہ کی پاسداری کرہی نہیں سکتے ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK