Inquilab Logo Happiest Places to Work

نتین یاہو‘ نہ رہیں تب بھی اسرائیل باز نہیں آئے گا!

Updated: May 14, 2026, 11:26 AM IST | Ramzi Barud | Jerusalem

اسلئے کہ اسرائیل میں اب وہ لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو فلسطین مخالف جذبات کے حامل ہیں۔ حالیہ ایران جنگ کے دوران بھی وہاں جنگ کے حق میں رائے دینے والے زیادہ تھے۔

Palestinian Land.Photo:INN
ارض فلسطین۔ تصویر:آئی این این
کہنے  سننے کیلئے یہ موضوع بہت اچھا لگتا ہے کہ اسرائیل کا نیا فوجی نظریہ دائمی جنگ سے متعلق ہے لیکن یہ موضوع اتنا آسان نہیں۔ یہ خاصا پیچیدہ موضوع ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایسے انتظامات پر نظریہ پر معترض ہونگے۔ وہ معترض نہیں ہونگے۔ اس کا ثبوت فوجی کارروائیوں میں ان کی غیر معمولی دلچسپی اور انتھک مہم جوئی ہے جس کا مقصد ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کا وہ خواب ہے جو اسرائیلی حکومت برسوں سے دیکھ رہی ہے جس کیلئے نیتن یاہو کو فوجی مہم جوئی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت ہوگی۔  تاہم، اسرائیل غیر معینہ مدت تک متعدد محاذوں پر جنگ کرتا رہے یہ ممکن نہیں ہے۔ اسرائیلی حکام کو بڑا غرور ہے اس بات کہ وہ ’’سات محاذوں‘‘ پر لڑرہے ہیں، لیکن ان سات میں وہ بھی ہیں جو فوجی لحاظ سے، باقاعدہ جنگ کے زمرہ میں نہیں آتے۔ اسرائیل اگر کوئی جنگ لڑ رہا ہے تو وہ دو ہیں۔ ایک غزہ میں نسل کشی، دوسری بلا اشتعال علاقائی جنگیں۔ اس حقیقت کو ہمیں ایک اور حقیقت سے ڈھانک نہیں دینا چاہئے۔ وہ یہ کہ ایران اور لبنان کے خلاف محاذ آرائی کیلئے  یہودی اسرائیلیوں میں مکمل اتفاق رائے تھا۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے میں جو ۲۔۳؍ مارچ کو کیا گیایہ واضح ہو ا کہ ۹۳؍ فیصد یہودی اسرائیلیوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کی حمایت کی۔ کچھ ایسا ہی اتفاق رائے اسرائیل کے  تمام سیاسی حلقوں میں تھا۔ یہ جنگی جنون غزہ کی نسل کشی کیلئے بھی تھا اور لبنان پر بمباری اور لبنان کی تباہی کیلئے بھی تھا۔
یہاں تک کہ یائیر لاپید نے بھی ان جنگوں کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے ایران کی جنگ بندی کے بعد تسلیم کیا کہ اسرائیل اس جنگ میں قصداً شامل ہوا اورانہوں نے ’’پہلے ہی لمحے‘‘ میں اس کی حمایت کی۔ رہا سوال یہ کہ جب انہیں جنگ سے بیر نہیں ہے تو بار بار تنقید کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تنقید جنگ کی نہیں ہیں بلکہ نیتن یاہو کی اس ناکامی کیلئے ہے کہ وہ اپنا ہدف پانے میں ناکام رہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ اسرائیلی جنگوں کی حمایت کرتے ہیں، یہ الگ بات کہ اب بہت سے لوگ نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کرتے کہ وہ جنگ کو نتیجہ خیز بناسکیں گے۔ اپریل کے وسط تک ۹۲؍ فیصد یہودی اسرائیلیوں نے ایران جنگ کیلئے فوج کو اعلیٰ نمبر دیئے، لیکن صرف ۳۸؍ فیصد نے حکومت کو اعلیٰ درجہ دیا۔ دوسرے لفظوں میں، عوام جنگ تو چاہتے ہیں مگر جنگ کی کمان جس قیادت کے ہاتھوں میں ہے اُس پر انہیں شک ہے۔ یہ رجحان انسان دشمنی کے ذیل میں آتا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ اجتماعی موت، تباہی، اور نوآبادیاتی تشدد ہی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے لیکن اسرائیل کے اپنے فوجی اور اسٹراٹیجک مقاصد ہیں۔ اس کی جنگوں نے تاریخی طور پر ایک طے شدہ ماڈل کی پیروی کی ہے یعنی مزاحمت کو کچلنا، فوجی اور سیاسی تسلط قائم کرنا، اور میدان جنگ میں تشدد کو نوآبادیاتی توسیع میں تبدیل کرنا۔ نیتن یاہو اس میں سے کچھ بھی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۶؍ اپریل کو لبنان میں ہونے والی جنگ بندی پر اسرائیل میں ہنگامہ آرائی اس قدر شدید ہے۔ پھر یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ تعطل کے خدشات مزید گہرے کیوں ہیں۔ لبنان کی جنگ بندی نے واضح طور پر اسرائیل کے اعلان کردہ مقاصد میں سے ایک کو حاصل نہیں کیا۔ وہ ہے حزب اللہ کا اسلحہ تلف کرنا۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فوجیں رکھی تھیں مگر معاہدہ نے جارحانہ کارروائیوں کو روک دیا اور ’’مکمل فتح‘‘ کے وعدہ سے بہت پیچھے رہ گیا۔ اسرائیل میں بہت سوں کیلئے کوئی بھی نتیجہ جو مکمل فتح سے کم ہو قابل قبول نہیں۔ اسرائیلی اسے شکست کا نام دینے میں تاخیر نہیں کرتے۔ شمالی اسرائیل کے علاقائی لیڈر ایال شٹرن، نے لبنان کی جنگ بندی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ پوچھا کہ اسرائیل کس طرح ’’مکمل فتح سے مکمل ہتھیار ڈالنے کی طرف‘‘ چلا گیا؟ سی این این ریمارکس میں: ’’یہی وہ حقیقی بحران ہے جو اب اسرائیل کا پیچھا کر رہا ہے، یہ نہیں کہ اس نے مستقل جنگ کی حدود کو دریافت کر لیا ہے، بلکہ یہ کہ اس نے ایک بار پھر جان لیا ہے کہ انتہا پسندانہ تشدد خود بخود سیاسی فتح پیدا نہیں کرتا۔ 
 
 
واضح رہنا چاہئے کہ جنگی منظرنامہ میں ایران کی پوزیشن بہتر ہے۔ وہ طویل مدتی جنگ کیلئے بھی تیار ہے اور جنگ بندی پر بھی آمادہ رہ سکتا ہے۔ لبنان اور شام اس سے کہیں زیادہ کمزور پوزیشن میں ہیں تاہم، فلسطینیوں، خاص طور پر غزہ میں رہنے والوں سے زیادہ خطرناک حالت میں کوئی نہیں ہے۔دوسرے لوگوں کے برعکس جو کچھ سیاسی حاشیہ اور جوڑ توڑ کیلئے جگہ رکھتے ہیں، فلسطینی عوام ہیں کہ وہ مستقلاً اسرائیلی قبضے، نسل پرستی اور محاصرہ میں رہتے ہیں۔ غزہ، خاص طور پر تباہی کا ایک بند انکلیو بن گیا ہے۔
غزہ کے محاصرہ نے جدید تاریخ کی سب سے ہولناک انسانی تباہی کو جنم دیا ہے۔ ایک پوری آبادی آلودہ پانی پر زندہ ہے، انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، خوراک کی شدید قلت ہے جبکہ ہزاروں لوگ اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اپنی مثالی ثابت قدمی کے باوجود فلسطینی عوام بالخصوص اہل غزہ کے مستقبل کے تعلق سے سوچنا بھی اب محال ہوتا جارہا ہے خاص طور پر جب اسرائیل کو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں سے غیر مشروط حمایت مل رہی ہے مگر اہل فلسطین کی مزاحمت، اپنے وطن کیلئے جدوجہد کو سعادت سمجھنے کا رجحان اور ہر اذیت برداشت کرنے کی توفیق اسرائیل ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے کوئی اچھی خبر کبھی نہیں تھی۔ 
 
 
اگر نیتن یاہو، جو اب سیاسی طور پر کمزور اور جسمانی طور پر ضعیف ہوچکے ہیں، سیاسی منظر نامے سے باہر نکل جائیں تب بھی اسرائیلیوں میں فلسطین مخالف جذبات برقرار رہیں گے، ان میں تبدیلی آجائے اس کی توقع بے بنیاد ہوگی۔ نیتن یاہو کے بعد اسرائیلی قیادت سنبھالنے والے تب بھی فلسطین کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ وہ اس پر آنے والے اخراجات کی فکر نہیں کرینگے کیونکہ ان کی نگاہ میں اس کے فوائد بے شمار ہیں۔اس کے مقابلے کیلئے فلسطینیوں کو اپنے موافق ماحول پیدا کرنے پر محنت کرنی ہوگی، بے سود مذاکرات میں کم اور ٹھوس نمائندگی پر زیادہ یقین رکھنا ہوگا نیز عرب اور مسلم دُنیا کو اپنے کاز کی بھرپور حمایت کیلئے تیار کرنا ہوگا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK