ہند نژاد امریکی جج امیت مہتا نے ٹرمپ کی گرین کارڈ پابندی کو غیرقانونی قرار دیا ، اس پابندی کا اثر ۷۵؍ ممالک پر تھا، جبکہ اس سے پبلک چارج پالیسی کے تحت ویزا پالیسیاں اور تارکین وطن کی اسکریننگ متاثر ہوئی۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 9:34 PM IST | Washington
ہند نژاد امریکی جج امیت مہتا نے ٹرمپ کی گرین کارڈ پابندی کو غیرقانونی قرار دیا ، اس پابندی کا اثر ۷۵؍ ممالک پر تھا، جبکہ اس سے پبلک چارج پالیسی کے تحت ویزا پالیسیاں اور تارکین وطن کی اسکریننگ متاثر ہوئی۔
واشنگٹن میں ایک ہندوستانی نژاد وفاقی جج نے فیصلہ دیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جاری گرین کارڈ پابندی، جو۷۵؍ ممالک کے درخواست دہندگان کو نشانہ بنا رہی تھی، غیرقانونی ہے۔۳۱؍ جولائی کی رائے میں، جو ڈی مورا گومز بمقابلہ روبیو کیس سے منسلک ہے، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے لیے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج امیت مہتا نے پایا کہ مارکو روبیو کی جانب سے جاری کردہ پبلک چارج پالیسی امریکہ میں امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ (INA) کے تحت وزیر خارجہ کے اختیار سے تجاوز کرتی ہے۔ واضح رہے کہ زیرِ بحث معاملہ جنوری۲۰۲۶ء سے نافذ العمل ایک قاعدے کی تنظیم نو کے گرد گھومتا ہے، جس نے امریکی محکمہ خارجہ کو تمام اسکریننگ اور جانچ پالیسیوں کا وسیع جائزہ لینے پر مجبور کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ’’زیادہ خطرے‘‘ والے ممالک کے تارکین وطن امریکہ میں فلاحی امداد کا غیرقانونی استعمال نہ کریں یا پبلک چارج نہ بنیں۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ نے اس وقت زور دیا کہ امریکہ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو مالی طور پر خود کفیل ہونا چاہیے اور امریکیوں پر مالی بوجھ نہیں بننا چاہیے۔امریکی محکمہ خارجہ کی قیادت میں ویزا جاری کرنے کی روک تھام سے متاثر ہونے والے ممالک، جو۲۱؍ جنوری۲۰۲۶ء سے نافذ العمل ہے،کی تعداد ۷۵؍ جبکہ ہندوستان اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مشی گن سینیٹ پرائمری میں عبدل السید کی کامیابی، اے آئی پیک کی مہم کو بڑا دھچکا
۳۱؍ جولائی کا فیصلہ خاص طور پر نیوٹن ڈی مورا گومز نامی برازیلی شہری کے امریکی محکمہ خارجہ کے خلاف دائر کردہ مقدمے سے متعلق ہے۔ سرکاری میمورنڈم رائے کی دستاویز کے مطابق، مدعی نے EB-5 پروگرام کے ذریعے امیگریشن ویزا کے لیے درخواست دی تھی، جو غیرشہریوں کو سرمایہ کاری اور ملازمتوں کی تخلیق کے ذریعے مستقل رہائش (گرین کارڈ) حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔اس مقدمے میں گومز کی بیوی اور دو بیٹیاں بھی بطور مدعی شامل ہیں، جو۷۵؍ ممالک کو متاثر کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ کی گرین کارڈ اور ویزا روک تھام کو چیلنج کرتی ہیں، جس میں برازیل بھی شامل ہے۔۳۱؍ جولائی کو اپنے فیصلے میں، جج امیت مہتا نے لکھا، ’’پبلک چارج پالیسی کے تحت، وزیر خارجہ بالکل وہی کر رہے ہیں جسے INA منع کرتا ہے: وہ انفرادی ویزا درخواستوں کے تعینات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا، ’’ریلیف کے طور پر، عدالت پبلک چارج پالیسی اور اس پالیسی کی بنیاد پر مدعیین کے امیگریشن ویزا کی منظوری روکنے کو غیرقانونی قرار دیتی ہے اور مدعا علیہان کو پابند کرتی ہے کہ وہ مدعی کی درخواست پر پبلک چارج پالیسی کا اطلاق نہ کریں،جیسا کہ سرکاری میمو دستاویز میں دیکھا گیا۔‘‘ ،مزید برآں عدالت مزید مدعا علیہان کو حکم دیتی ہے کہ وہ مدعی کی درخواست کو INA اور قابل اطلاق ضوابط کے تحت انفرادی بنیادوں پر دوبارہ زیرِ سماعت لائیں، اس تاریخ سے۶۰؍ دنوں کے اندر جب درخواست کو قونصلر افسر کے ذریعے مکمل قرار دیا جائے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: وزیراعظم کوچیف آف اسٹاف کی تعیناتی پر فلسطین حامیوں کی مخالفت کا سامنا
بعد ازاں امریکی-ہندوستانی جج امیت مہتا اس ہفتے ایک اورمعاملے کے سبب توجہ کا مرکز بنے، اور وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے۲۰۲۱ء؍ میں انتخاب میں شکست کےبعد کیپٹل ہل پر حملے کے ذمہ داروں کی سزا معاف کے متعلق تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے دائیں بازو کے ملیشیا گروپ ’’اوتھ کیپرز‘‘ کے ان ارکان کے خلاف مقدمات کو خارج کرنےکی درخواست کی تھی، تاہم مہتا نے ہچکچاتے ہوئے اوتھ کیپرز کے بانی اسٹیورٹ روڈز اور دیگر کی سزاؤں کو خارج کر دیا جو اس سے قبل ڈونالڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخابات ہارنے کے بعد اقتدار کی منتقلی کو روکنے کی سازش کے جرم میں باغیانہ سازش کے مجرم ٹھہرائے گئے تھے۔ اگرچہ انہوں نے ٹرمپ کی قیادت والے محکمہ انصاف کے فیصلے سے سختی سے اختلاف کیا، تاہم انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ کو مقدمات خارج کرنے کا اختیار حاصل تھا۔یہ بتاتے ہوئے کہ ان کے پاس انتظامیہ کی درخواست کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، مہتا نے اپنے فیصلے میں لکھا، ’’یہ ان مقدمات کی کارروائیوں میں آخری ہے جو۶؍ جنوری کے واقعات کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ کتاب اب بند ہو چکی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا تیل کمپنیوں کو انتباہ، بہت کما لئے، فوری طور پر امریکیوں کو سستا تیل فراہم کرو
امیت پی مہتا، جو ہندوستان کے شہر پاٹن میں پیدا ہوئے،۲۲؍ دسمبر۲۰۱۴ء کو ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے لیے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقرر ہوئے، جب باراک اوباما امریکی صدر تھے۔امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کی ویب سائٹ پر ان کے سرکاری پروفائل کے مطابق، انہوں نے ابتدائی طور پر ۱۹۹۳ءمیں جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، اور بالآخر ۱۹۹۷ء میں یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف لا سے جیوریس ڈاکٹر (JD) حاصل کیا۔ وہ محض ایک سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔بالٹیمور کے ایک مضافاتی علاقے رائسٹرز ٹاؤن میں پلے بڑھے، انہوں نے اپنے قانونی کیریئر کا آغاز لا اسکول کے بعد لیتھم اینڈ واٹکنز ایل ایل پی کی قانونی فرم سے کیا۔ اس کے بعد، انہوں نے ریاستہائے متحدہ کی اپیلز کورٹ برائے نویں سرکٹ کی معزز جج سوسن پی گریبر کے لیے کلرک کی خدمات انجام دیں۔ مہتا نے۱۹۹۹ءتا ۲۰۰۲ء تک واشنگٹن ڈی سی میں قائم قانونی فرم زکر مین اسپیڈر ایل ایل پی میں ایک عرصہ گزارنے کے بعد، ۲۰۰۲ء میں ڈسٹرکٹ آف کولمبیا پبلک ڈیفنڈر سروس میں بطور اسٹاف اٹارنی شمولیت اختیار کی۔برسوں بعد، وہ وائٹ کالر مجرمانہ دفاع، پیچیدہ کاروباری تنازعات، اور اپیلٹ ایڈووکیسی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے زکر مین اسپیڈر واپس آئے۔