Updated: September 01, 2026, 4:02 PM IST
| Kathmandu
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد دریا کے کناروں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ تیزی سے گلنے سڑنے والی نامعلوم لاشوں کو بیماریوں کے خدشے کے باعث اجتماعی قبروں میں دفن کیا جارہا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھاریٹی کے مطابق ۹۰۳؍ افراد ہلاک اور ۴۲۴۷؍ لاپتہ ہیں، جبکہ ۱۰۴۵۱؍ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد دریائے تریشولی اور نراینی کے کناروں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید گرمی اور نمی کے باعث کئی لاشیں تیزی سے گل سڑ رہی ہیں، جس کے بعد حکام نے نامعلوم لاشوں کی فوری تدفین شروع کردی ہے تاکہ ممکنہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کیا جاسکے۔ متاثرہ علاقوں کے دریاؤں کا پانی استعمال نہ کرنے اور وہاں کی خوراک سے گریز کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھاریٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق ۹۰۳؍ افراد ہلاک جبکہ ۴۲۴۷؍ اب بھی لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیموں نے ۱۰۴۵۱؍ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، جبکہ ۲۶۷؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سبتہ ہجرت بحران: پیڈرو سانچیز کا روس، اسرائیل پر ’جھوٹی خبریں‘ پھیلانے کا الزام
پولیس انسپکٹر انیل تھاپا کے مطابق چتوان میں اب تک ۲۷۲؍ ایسی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کی گئی ہیں جن کی شناخت نہیں ہوسکی اور جنہیں لینے کے لیے کوئی رشتہ دار بھی سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرچ ٹیمیں اب بھی دریائی کناروں سے روزانہ تقریباً ۱۰؍ لاشیں برآمد کررہی ہیں اور پانی کی سطح کم ہونے کے ساتھ مزید لاشیں سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ حکام کے مطابق شدید دریا کے بہاؤ نے تلاش کا کام مشکل بنا دیا ہے۔ چتوان میں لاشیں رکھنے کے لیے صرف ۲؍ مردہ گاڑیاں دستیاب ہیں، جبکہ اسپتالوں کے مردہ خانوں میں بھی گنجائش محدود ہے۔ اسی وجہ سے گلنے سڑنے والی لاشوں کو زیادہ دیر رکھنے کے بجائے فوری طور پر دفن کیا جارہا ہے۔ اجتماعی قبروں کے لیے تقریباً ۵ء۱؍ میٹر گہرے گڑھے کھودے جارہے ہیں اور ان کے درمیان تقریباً ۴۰؍ سینٹی میٹر فاصلہ رکھا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام کی تعریف پر کرناٹک کے وزیر کو بھگوا عناصر کی برہمی کا سامنا
سیلاب کے نتیجے میں بہہ جانے والی لاشوں میں سے کئی کو راسووا کے علاقے سے دریائے بھوٹے کوشی کے ذریعے دور تک بہہ کر آنے کے بعد چتوان میں تریشولی اور نراینی کے کناروں سے برآمد کیا گیا ہے۔ ۲۱؍ اسپتالوں میں موجود لاشوں میں سے بھی صرف چند کی شناخت ہوسکی ہے، کیونکہ شدید نقصان اور گلنے سڑنے کے باعث شناخت مشکل ہوگئی ہے۔ لاپتہ افراد کے رشتہ دار اپنے پیاروں کی تلاش میں چتوان پہنچ رہے ہیں۔ ۵۱؍ سالہ تمرون خاتون اپنے ۱۶؍ سالہ بیٹے کی تلاش میں برجن سے چتوان پہنچی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں، مجھے اپنا بیٹا چاہیے۔‘‘ ان کے بیٹے نے سیلاب سے ایک روز پہلے ان سے بات کی تھی۔ حکام نے لاپتہ یا ہلاک افراد کے رشتہ داروں سے ڈی این اے نمونے دینے کی اپیل کی ہے تاکہ لاشوں کی شناخت تیز کی جاسکے۔ وزیر خارجہ شیشیر خانال کے مطابق نیپال نے فرانزک صلاحیت بڑھانے کے لیے بین الاقوامی مدد بھی طلب کی ہے، جس میں ڈی این اے نمونوں کی جانچ، رپورٹس کی تیاری اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹھنڈے ذخیرے کی گنجائش بڑھانا شامل ہے۔
سیلاب کی پیشگی اطلاع کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں بروقت خبردار کیا جاتا تو جانیں بچائی جاسکتی تھیں، جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سیلاب آنے سے ۱۵؍ منٹ پہلے لوگوں کو خبردار کرکے انخلا کی ہدایت دی گئی تھی۔