۹۰۳؍ ہلاکتوں کی تصدیق، لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر ۵؍ ہزار تک پہنچ گئی۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 11:13 AM IST | Agency | Kathmandu
۹۰۳؍ ہلاکتوں کی تصدیق، لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر ۵؍ ہزار تک پہنچ گئی۔
نیپال میں گلیشیر پھٹنے کی وجہ سے آنےوالے تباہ کن سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس کی نئی نئی پرتیں ہر روز کھل رہی ہیں۔ پیر کو مہلوکین کی تعداد ۹۰۳؍ ہوگئی۔ یہ وہ تعداد ہے جن کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر ۵؍ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پیر تک نیپال میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر۴؍ ہزار ۲۴۷؍ بتائی گئی ہے جبکہ تبت میں بھی بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔ امدادی کارکنوں نے پیر کو مسلسل چھٹے روز کیچڑ اور ملبے سے نمٹتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کی تاہم اب کسی کے زندہ ملنے کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں۔
نیپال کے تمام ۸؍متاثرہ اضلاع سے لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں اور امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش اور آفت میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے وقت کے خلاف دوڑ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سی آر پی ایف کی نظر میں پیلٹ گن کا استعمال حقوق انسانی کے خلاف نہیں
۲۶؍ اگست کو نیپال کے شمالی اور وسطی علاقوں کے دیہات اور قصبے برفیلے پانی، چٹانوں اور ملبے کی ایک بڑی لہر کی زد میں آئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ سیلاب نیپال-تبت سرحد کے قریب گلیشیرکے ٹوٹنے کے بعد آیا۔ نیپال میں مرنےوالوں کی کم از کم ۱۷؍ لاشیں بہہ کر ہندوستان پہنچ چکی ہیں۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھاریٹی کے مطابق اب تک۹۰۳؍ لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے بتایا کہ نیپال میں۴؍۲۴۷؍افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن میں۸۵؍سکوریٹی اہلکار اور۳۲۰؍ غیر ملکی شامل ہیں۔ نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر لاپتا افراد کی تعداد۵؍ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس بیچ چین نے تبت میں ۱۶؍ افراد کے ہلاک ۵۴۶؍ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام کی تعریف پر کرناٹک کے وزیر کو بھگوا عناصر کی برہمی کا سامنا
۱۰۰؍مزدور وں کی زندگی کی امید
امدادی ٹیمیں دشوار گزار حالات میں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ چین، ہندوستان اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں بھی نیپالی حکام کی مدد کر رہی ہیں۔خاص طور پر پن بجلی کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جہاں سیکڑوں کارکن لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکام کا خیال ہے کہ کئی سرنگوں کے اندر تقریباً ۱۰۰؍ کارکن اب بھی زندہ ہوسکتے ہیں، جبکہ۹۳۳؍ پن بجلی منصوبوں کے کارکن لاپتہ بتائے گئے ہیں۔