Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟

Updated: July 20, 2026, 12:15 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | Mumbai

راہ گزر کا معنی واضح ہے۔ سڑک، شارع یا راستے کو راہ گزر کہتے ہیں۔ وہ راہ جہاں سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے راہ گزر یا رہ گزر کہلاتی ہے۔ شاعری میں اس لفظ کا بہت استعمال ہوا ہے مگر اس کا تعلق صرف شاعری سے نہیں، حقیقی زندگی سے بھی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رہ گزر پر جب کسی کا اختیار ہو جائے تو پھر وہ رہ گزر رہ گزر نہیں رہتی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ رہ گزر کا خیال بھی کم کم آتا ہے۔ رہ گزر بنیادی طور پر ان لوگوں کیلئے کشش کا باعث ہے جنہیں پیدل چلتے ہوئے کہیں ٹھہر جانا ہے۔ کہنے کو تو ہر شخص خود کو ایک ایسا مسافر قرار دیتا ہے جو عام راستے پر چلتا ہوا خود کو عام زندگی کا استعارہ سمجھتا ہے۔ ایک رہ گزر نہ جانے کتنی راہ گزر کے ساتھ مسافر کو راستہ دکھاتی ہے۔ اب اس لفظ کا خیال اگر آتا بھی ہے تو اس میں تجربے کی وہ شدت اور حرارت نہیں۔ زندگی زمینی سطح سے بہت بلند ہو گئی ہے اور لگتا ہے کہ یہ بلندی کہیں پستی کا اشاریہ تو نہیں! ایسی بلندی اور ایسی پستی جس کا مظاہرہ عام زندگی میں اب بہت عام ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنا اور لکھنا بھی فضول کا عمل معلوم ہوتا ہے مگر جب بہت سے فضول کام جاری ہوں تو ایک اور فضول کام اگر شامل ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ بلندی عمل اور کردار کی ہے اور پستی کا رشتہ بھی عمل اور کردار سے ہے۔ جھوٹ بولنے کی روش کبھی باعث عزت نہیں سمجھی گئی اگرچہ جھوٹ کا کاروبار کسی نہ کسی طور پر ختم نہیں ہوا مگر جھوٹ جب سچ کا بدل بن جائے تو ایسے میں سچ کا وہ مفہوم باقی نہیں رہ سکتا جس کے ساتھ لوگوں نے زندگیاں گزار دی ہیں۔ سچائی اور سچائی کے بعد کی سچائی دراصل جھوٹ کی سچائی ہے۔ جس چیز کو سچ کی بات کا زمانہ کہا جا رہا ہے وہ دراصل ایک ایسا سچ ہے جسے تہذیبی زندگی میں اعتبار حاصل نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کا احتجاج، اس کی ’حصولیابی‘ اور مضمرات

نظریاتی طور پر سچائی کے بعد کی سچائی اور اس کا زمانہ چاہے کتنا بھی پرکشش معلوم ہو ، سچ کی جو جگہ ہے اُسے کوئی سچ ہی لے سکتا ہے۔ یہ باتیں سننے اور لکھنے میں کتنی اچھی لگتی ہیں مگر جھوٹ کس کس طرح سے ہمیں متاثر کرتا ہے اور پھر ہم اس کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ ایک سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ بہت بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور یہ جھوٹ بولنا داخلی سطح پر خود کو بے ضمیر بنانا ہے۔ اب شرم کا لفظ بھی کتنا پامال ہو چکا ہے۔ کتنی بے شرمیوں کے ساتھ لفظ شرم کو ادا کیا جاتا ہے اور شرم ہے کہ منہ چھپائے پھرتی ہے۔  ایک رہ گزر ہے جو مسافر کو آواز دیتی رہتی ہے اور اب بھی یہی کہتی ہے کہ مجھ پر اقتدار اور سیاست کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ زمین میری ہے اور یہی میری بادشاہت بھی ہے اور یہی میرا وقار بھی۔ رہ گزر بیٹھنے والوں سے جو کچھ کہتی رہی ہے اس کا بیان دراصل اس تہذیب کو آئینہ دکھانا ہے جو ڈرائنگ روم کی تہذیب ہے۔ رہ گزر پر بیٹھنے والوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ میری بھوک اور پیاس بھی کسی اور کی بھوک اور پیاس بن کر ہمدردی کا اظہار کرے گی۔ بھوک اور پیاس انسانی وجود کو کسی مقصد کی مطلب براری کے لئے کتنا تواناکر دیتی ہے۔

یہ توانائی ان لوگوں کی کمزوری بن جاتی ہے جنہیں اعلیٰ مقصد کی حصولیابی کی کوششوں سے ڈر لگتا ہے۔ رہ گزر پر بیٹھ کر سوچا تو یہی گیا تھا کہ میری پیاس میری پیاس ہے اور میری بھوک میری بھوک ہے۔ آتی جاتی ہوئی سانسیں انہیں ڈراتی ہیں جنہیں بھوک اور پیاس کا نہ کوئی تجربہ ہے اور نہ احساس۔ اگر کوئی تجربہ بھی ہے تو وہ ماضی کا ہے اور ایسے لوگ ماضی کے ساتھ حال میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ کسی راہ سے گزرتے ہوئے وہ رہ گزر کبھی زیادہ تاریخی اور تہذیبی بن جاتی ہے جہاں بیٹھ کر کچھ لوگ مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں۔ حال بہت خراب ہے مگر حال کے بارے میں کئی طرح سے سوچا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال کی تعبیر کی بنیادیں مشترک ہونے کے باوجود کئی تعبیرات کو سامنے لاتی ہیں۔  ایک امتحان ہے جو ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا امتحان آ جاتا ہے۔ خوف کی نفسیات میں جینے والے لوگ اندر سے کتنے کمزور ہوتے ہیں۔ خوف کو کنٹرول کرنے والی طاقت کو روکنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ یہ بات اب بہت پرانی ہو چکی ہے کہ خیال اور نظریے کو ضبط نہیں کیا جا سکتا لیکن تاریخ تو کہتی ہے کہ نظریے کو ضبط بھی کیا گیا اور نظریہ سازوں کو نظریے کی قیمت بھی بہت ادا کرنی پڑی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رفتگاں رفتگاں آپ جیسا جہاں، اب کہاں اب کہاں!

خیال کی گہرائی اکثر اوقات رسوا ہوتی ہے۔ چالو قسم کی باتیں جب تہذیبی زندگی کی علامت بن جائیں تو ایسے میں خیال اور فکر کی گہرائی رہ گزر پہ بیٹھ کر تماشہ دیکھتی ہے۔ وہ کبھی شرمندہ ہوتی ہے اور کبھی روتی ہے۔ ہر سچ کا جواز گویا ہر جھوٹ کا جواز بھی فراہم کرتا ہے۔  سچ بولنا دراصل جھوٹ بولنا ہے، یہ کیسی منطق ہے؟ ظاہر ہے کہ اس منطق کو قبول نہیں کیا جا سکتا مگر جو سچ دکھائی دے رہا ہے وہ کتنا سچ ہے، اس سوال پر غور کرتے ہوئے خیال تو رہ گزر کا آتا ہے۔ رہ گزر ہماری تہذیبی زندگی کی سب سے بڑی سچائی رہی ہے۔ غالب نے اس شعر کے ذریعہ جس تہذیب کو پیش کیا تھا اس میں کتنی آزاد روی ہے۔ ایک ایسا شخص جس سے سب کچھ چھین لیا گیا ہو۔ وہ رہ گزر پر بیٹھ کر خود کو کتنا ثروت مند سمجھتا ہے، مگر یہ ثروت مندی جو غربت کی خودداری کی ہے وہ بھی خطرے میں ہے۔ لفظ غیر کتنا بامعنی ہے، سچ پوچھئے تو اس ’’غیر‘‘ کے ساتھ غیر کی پوری تاریخ لکھی جا سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کارِ خیر کے نام پر چندہ چوری عام نہ ہو!

رہ گزر کی طاقت پہلے جیسی نہیں رہی گویا رہ گزر بھی کبھی کبھی مسافروں کا امتحان لیتی ہے۔ رہ گزر کی مٹی اب غائب ہو چکی ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو اس پر پاؤں پھسلتے نہیں۔ کہیں کہیں جو پھسلا ہے تو اس کی وجہ مٹی کی نمی سے کہیں زیادہ وہ پرانی چال ڈھال ہے جو سرمستی کے ساتھ خود کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ اس چال میں زندگی کا رس ہے جو پکی سڑکوں پر بھی خود کو شرمندہ ہونے سے بچا لیتا ہے۔ رہ گزر کا تصور کچی سڑک سے ممکن ہے اب بھی باقی ہو لیکن رہ گزر پکی سڑک اور مقام کے ساتھ آج بھی آواز دے رہی ہے۔ رہ گزر جب جوتوں سے روندی جاتی ہے تو اس کا سینہ درد سے کراہ اٹھتا ہے۔ رہ گزر جانتی ہے کہ ہر طرح کے قدم کا اسے سامنا کرنا پڑے گا لیکن جوتے بھی ایک طرح کے کہاں ہوتے ہیں۔ سبک اور سجل قدموں کے ساتھ رہ گزر کتنی خوشیوں سے بھیگ جاتی ہے۔ وہ جوتے جو کارخانے میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے بنائے گئے ان کی مضبوطی ان جوتوں میں بھی آگئی جنہیں رہ گزر کا سینہ چاک کرنا ہے اور رہ گزر پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی روند کر گزر جانا ہے۔ مزدوروں کا جوتا کسی طاقت کی علامت نہیں بن سکا۔ رہ گزر جو کل تک بہت آباد تھی، فوری طور پر افرا تفری پھیل گئی۔ کچھ صاف صاف سنائی دیتا تھا اور نہ سجھائی دیتا تھا۔ سچ یہ ہے کہ سب کچھ دکھائی دے رہا تھا اور تمام آوازیں وقفے وقفے سے سنی جاسکتی تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK