نوبیل کمیٹی کے صدر نے کہا کہ کارسن کا کام زبان کے عالم کے جنون اور نئے معنی دریافت کرنے والے شاعر کی تڑپ کے سنگم پر مرکوز رہا ہے۔ کیا ہماری پیاری اُردو میں ایسے تخلیق کار اور قدر دان ہیں؟
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 4:56 PM IST | shamim Tariq | Mumbai
نوبیل کمیٹی کے صدر نے کہا کہ کارسن کا کام زبان کے عالم کے جنون اور نئے معنی دریافت کرنے والے شاعر کی تڑپ کے سنگم پر مرکوز رہا ہے۔ کیا ہماری پیاری اُردو میں ایسے تخلیق کار اور قدر دان ہیں؟
ادب کا نوبیل انعام اس بار کنیڈا کی این کارسن کو دیا گیا ہے جنہوں نے شاعری، مضمون نگاری اور کہانی نویسی کے ملاپ سے ادب میں اپنی ایک نئی پہچان قائم کی ہے۔ انعام دینے والی کمیٹی کے صدر اینڈرس اولسن نے کہا کہ کارسن کا تمام ادبی کام زبان کے عالم کے جنون اور نئے معنی دریافت کرنے والے شاعر کی تڑپ کے سنگم پر مرکوز رہا ہے۔ کیا ہماری پیاری اُردو میں ایسے تخلیق کار اور قدر دان ہیں؟ شاید نہیں۔ یہاں تو علمی، ادبی اور صحافتی کاموں کا تعین وہ کرتے ہیں جن کا ادب، علم اور صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اسی لئے اُردو دانوں میں ہمہ گیر تباہی کا منظر ہے۔ صرف مشاعروں کی مثال سے بھی واضح ہوجائے گا کہ حقیقت کیا ہے؟ آج ایسے شعراء موجود ہیں جن کے کئی شعر مشہور ہوئے اور ایسے بھی جن کے کئی شعر مقبول ہوسکتے تھے مگر مشہور ہوئے محض ایک دو شعر مثلاً شہاب جعفری کا یہ شعر کہ:
چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے
نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دُنیا ہے
شہپر رسول کے کئی شعر اچھے ہیں مگر جو شعر بیشتر کو ازبر ہوا وہ یہ ہے:
مَیں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی
وہ بھی تصویر سے نکل آیا
یہ بھی پڑھئے: اقرار کی ٹھنڈک میں ہے انکار کی گرمی
ملک گیر سطح پر بعض شعراء نے علم اور فلم دونوں جگہ کامیابی حاصل کی، بعض شاعروں نے دعویٰ اور چھیڑ خانی کرنے میں خود کو ضائع کر دیا۔ آج ہو‘ کا عالم ہے حالانکہ کچھ تکبند اور ٹولہ یا، خود کو عالمی اور آفاتی شاعر کہلوانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ صحیح اُردو بولنے والوں کی فہرست مرتب ہوگی تو کئی اُردو تخلیق کار اور مدرسین اس سے باہر ہوں گے البتہ لتامنگیشکر ضرور شامل ہوں گی کہ مہاراشٹر کی ہونے یعنی ادبی دبستان سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود ان کے تلفظ میں غلطی نہیں ہوتی تھی۔ اُردو دُنیا میں لغوی، اصطلاحی اور محل استعمال کے ساتھ پیدا ہونے والے معنی کے فرق سے بھی زیادہ تر ناواقف ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ لفظ سے ترکیب کیسے وجود میں آتی ہے اور ان سے معنی میں کیا تغیر واقع ہوتا ہے مثلاً اقبال نے میکدہ و ساقی و مینا، مے خواری، مے فروش، میکدہ، میکدۂ بہار، میکش، مے خرام، مے سرکش، مے شبانہ، مے شفق، مے عرفان، مے گل رنگ، مے گلگلوں، مے مغرب، مے نمود جیسی تراکیب بنائی اور استعمال کی ہیں اسی لئے مشہور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض نے بھی ان کی شاعری کی تحسین کی ہے:
سنسان راہیں خلق سے آباد ہوگئیں
ویران میکدوں کا نصیبہ سنور گیا
’’لاہور و کراچی‘‘ اقبال کی ہی ایک نظم ہے جس کے مصرعوں میں کوئی ربط نہیں ہے مگر اس نظم میں اشارہ ان واقعات کی طرف ہے جو ایک متنازع کتاب کی اشاعت کے بعد لاہور و کراچی میں رونما ہوئے تھے۔ ’’مجذوب فرنگی‘‘ سے وہ شخص مراد ہے جس نے انگریزوں کا ’’آلۂ کار‘‘ بن کر امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سے مراد جرمنی کا نیطشا یا نیطشے بھی ہے جس کو اس کی غلط کیفیات نے راہِ ہدایت سے اتنا دور کر دیا تھا کہ اس کا راہ پر واپس آنا مشکل ہوگیا تھا۔ بعض مسلمانوں نے بھی یہی روش اختیار کی تھی اسی لئے فیض احمد فیض نے طنز کیا تھا کہ:
ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے
اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے
اس شعر کے باوجود فیض کا شمار ’’نور عرفان کے دیوانوں‘‘ یا ’’شمع ِ ایمان کے پروانوں‘‘ میں نہیںکیا جاسکتا البتہ ان کی اس بات کو تسلیم کرنے میں مضائقہ نہیں کہ:
نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے
شمع ِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے
مگر اقبال یا فیض یا یوپی سے آکر ممبئی سے قریب ممبرا میں آباد ہونے اور
عقل والو مرا معیارِ جنوں تو دیکھو
اس پر مرتا ہوں جسے آنکھ سے دیکھا بھی نہیں
یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس سوالات کے گھیرے میں
جیسا بے پناہ شعر کہنے والے آوارہ سلطانپوری نے کبھی عالمی یا آفاقی شاعر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہ دعویٰ وہ کر رہے ہیں جن کے نامۂ اعمال میں گروہ بندی، سازش اور خوشامد کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔
اچھے مشاعروں کے ساتھ اچھی مجلسی تنقیدیں بھی ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ روایت ہے کہ ایک رقاصہ شاہراہِ عام پر رقص کر رہی تھی۔ ادھر سے دو شعراء کا گزر ہوا۔ رقاصہ کی طویل قامتی دیکھ کر ایک شاعر کے منہ سے نکلا کہ:
طولِ شب ِ فرقت سے بھی دو ہاتھ بڑی ہے
لمبی عورت کو لمبی کہہ دو تو وہ بُرا مان جاتی ہے لیکن اس کی زلف کو لمبی کہو تو خوش ہوتی ہے۔ اس رقاصہ نے بھی کہا کہ ’’کیا کہا‘‘، ’’کیا کہا‘‘ تو دوسرے نے برجستہ مصرع لگا کر اپنے دوست کو عتاب سے بچا لیا:
وہ زلف ِ مسلسل جو ترے رخ پہ پڑی ہے
فیض احمد فیض نے یہ کہہ کر کہ:
کب تک ابھی رہ دیکھیں اے قامت ِ جانانہ
کب حشر معین ہے تجھ کو تو خبر ہوگی
احساس دلایا تھا کہ ’’قامت ِ جانانہ‘‘ سے گوشت پوست کے محبوب کی قامت مراد نہیں ہے۔ حسن نعیم جو ممبئی میں تقریباً دس سال قیام پزیر رہے یہ کہہ کر کہ:
دیار فن میں جہاں منزلیں بھی فرضی ہیں
تمام عمر بھٹکنے کا حوصلہ رکھیو
احساس دلایا کہ ’’عمر‘‘ سے کوئی خاص ’’مدت‘‘ مراد نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جہاں احتجاج ہوگا وہیں جنتر منتر ہوگا
مگر اب اچھے مشاعروں کے ساتھ اچھی مجلسی تنقیدیں بھی ہمارے مقدر میں نہیں رہ گئی ہیں۔ کسی بیمار ذہن کے یہ کہنے سے کہ وہ عالمی شاعر ہے اس حقیقت کی پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی کہ اُردو کی تہذیبی مجلسیں زوال پزیر ہیں۔ پہلے تو کم از کم پمفلٹ لکھ کر لوگ انعام حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے اب پمفلٹ لکھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ عالمی شاعر ہیں۔ یہ فروغ اُردو کے انعام کا جگاڑ لگا لیں تو لگالیں کچھ اور نہیں حاصل کرسکتے، نوبیل پرائز تو دور کی بات ہے۔