اس مضمون میں ایک طالب علم کےبارے میں بتایا گیا ہے جو تباہی و تاراجی کے مناظر کے درمیان سے اسکول جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر شہر خموشاں جیسی بستی میں علم کی یہ لگن ہے تو بھری پری بستیوں میں کتنی ہونی چاہئے۔
انقلاب کے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر دائیں سے پہلی، زیر نظر تصویر دیکھ کر مَیں ٹھہر گیا، کافی دیر تک اس پر نگاہ جمی رہی اور ذہن پر بیک وقت کئی خیالات کا ترشح ہوا۔ غزہ کی اس تصویر میں آٹھ دس سال کا طالب علم (چوکھٹے میں ) ہے جس کی پشت پر اسکول کا بستہ ہے، ظاہر ہے اس کا رُخ یا تو اسکول کی طرف ہے یا اسکول جیسے کسی مقام کی طرف۔ آپ نے اسکول جاتے ہوئے طالب علموں کی سیکڑوں تصویریں دیکھی ہوں گی مگر ایسی تصویر شاید کبھی نہ دیکھی ہو۔ بھیانک تباہی کا منظر پیش کرتی یہ تصویر بہت کچھ بیان کرتی ہے۔
دونوں جانب تباہی و تاراجی کے منظر کو اگر موت کے آہنی پنجے سے پیدا شدہ صورتحال تصور کیا جائے تو لگتا ہے کہ درمیان کے کچے راستے سے طالب علم کی شکل میں زندگی گزر رہی ہے جو ایک پیغام ہے کہ زندگی ابھی باقی ہے۔ جنگ سے پہلے جب یہ طالب علم اسی راستے سے اسکول جاتا ہوگا تب اُس کے ساتھ اُس کے کم از کم چار پانچ ہم جماعت تو رہتے ہی ہوں گے۔ کہاں ہیں وہ ہم جماعت؟ کیا لقمۂ اجل بن گئے؟ ہوسکتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ یہی ہوا ہو کیونکہ کون بھول سکتا ہے کہ غزہ پر قیامت نہیں قیامتیں ٹوٹی ہیں ۔
اکتوبر ۲۳ء کے بعد، خبروں کے مطابق، ۱۷؍ ہزار سے زائد طالب علم اور ۷۶۰؍ اساتذہ شہید ہوچکے ہیں ۔ ممکن ہے اُنہی ۱۷؍ ہزار طالب علموں میں اس طالب علم کے ہم جماعت بھی رہے ہوں ! اس کے بوجھل قدموں سے محسوس ہوتا ہے کہ اُسے اُن کی جدائی کا غم ہے۔ اِس عمر کے دُنیا بھر کے طالب علم جب اسکول جاتے ہیں تو اُن کے چہرے پر عجیب سی خوشی ہوتی ہے جسے بیان کرنا مشکل ہے۔ ندا فاضلی نے اپنی مشہور نظم ’’روشنی کے فرشتے‘‘ میں طالب علموں کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا ( صرف دو بند ملاحظہ ہوں ):
(۱) ’’ہوائیں سرسبز ڈالیوں پر / دعاؤں کے گیت گا رہی ہیں / مہکتے پھولوں کی لوریاں / سوتے راستوں کو جگا رہی ہیں /
گھنیرا پیپل / گلی کے کونے سے ہاتھ اپنے ہلا رہا ہے /
کہ بچے اسکول جارہے ہیں
(۲) فرشتے نکلے ہیں روشنی کے / ہر ایک رستہ چمک رہا ہے /
یہ وقت وہ ہے زمین کا ہر ذرہ / ماں کے دل سا دھڑک رہا ہے /
پرانی اک چھت پہ وقت بیٹھا / کبوتوں کو اُڑا رہا ہے
کہ بچے اسکول جارہے ہیں ‘‘
یہاں بھی ویسا سب کچھ ہوتا رہا ہوگا جیسا اس نظم میں بیان کیا گیا ہے مگر اب نہ تو ہوائیں ہیں نہ سر سبز ڈالیاں جو دعاؤں کے گیت گائیں ، مہکتے پھولوں کی لوریاں بھی نہیں ہیں ، گھنیرا پیپل یا اس جیسا کوئی اور مثلاً زیتون کا درخت بھی نہیں ہے کہ خیرمقدم کرے، اب یہاں کچھ نہیں ہے سوائے عمارتوں کے ملبے کے۔
اس طالب علم کو اسکول یا اسکول جیسی کسی جگہ جاتے وقت کیا کیا یاد آرہا ہوگا۔ پرانے دنوں کا ایک ایک واقعہ، ہم جماعتوں کے ساتھ ہونے والی گپ شپ، اٹھکھلیاں ، مستی، مذاق۔ ممکن ہے کبھی اس راستے سے گزرتے ہوئے اُس کے ذہن پر ایک بوجھ رہا ہو کہ اس نے ہوم ورک نہیں کیا ہے اس لئے آج اس کی شامت آسکتی ہے، یہ سوچ کر اُس نے جھرجھری لی ہو مگر اس کے بوجھل قدم بتا رہے ہیں کہ ذہن کا وہ بوجھ کچھ نہیں تھا، اس سے کئی گنا بڑا بوجھ اس وقت اُس کے دل پر ہے جیسے کسی نے پتھر کی سل رکھ دی ہو۔ممکن ہے پتھر کی اس سل ہی کوتوڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے مقصد سے وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہو اور اسی عزم کے ساتھ اسکول جارہا ہو۔
اکتوبر ۲۳ء میں جنگ شروع ہونے کے پہلے اسکول جاتے وقت اُس کی والدہ گھر کی دہلیز تک آتی رہی ہوں گی تاکہ بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے دُعا دیں اور خدا حافظ کہیں ۔ ممکن ہے اب خدا حافظ کہنے والا کوئی نہ بچا ہو۔ ممکن ہے جن عمارتوں کا ملبہ تصویر میں دکھائی دے رہا ہے اُن میں سے کسی عمارت میں اُس کا کوئی رشتہ دار، خالہ، چاچی یا ممانی رہتی رہی ہوں اور اُسے آتا جاتا دیکھتی ہوں ، اُس کی نگاہیں بھی اُنہیں تلاش کرتی ہوں اور جب کبھی وہ اُنہیں دیکھتا ہو تو ہاتھ اُٹھا کر اشارے سے سلام کرتا ہو مگر اب نہ تو عمارتیں بچی ہیں نہ ہی اُن کے مکین۔ اب وہ نظر اُٹھاتا ہوگا تو کسی کو نہ دیکھ کر دل برداشتہ ہوتا ہوگا۔اُسے اپنی ٹیچر یاد آتی ہوگی جو اُسے سگی اولاد کی طرح چاہتی رہی ہو۔ سوچئے، اس آٹھ دس سال کے طالب علم کے دل میں کتنا غم ہے۔ اس کے باوجود وہ نہ تو کھیت جارہا ہے نہ ہی بازار، کسی رشتے دار کے پاس جارہا ہے جو کیمپ میں مقیم ہو نہ ہی دوستوں سے ملاقات کے لئے جارہا ہے جو ملبے پر بیٹھے گپ شپ میں مصروف ہوں ۔ اس کی پیٹھ پر بستے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسکول یا اسکول جیسی کسی جگہ جارہا ہے۔اس سے علم کے تئیں اُس کے جذبہ کا اظہار ہوتا ہے۔
اُس کے پاس بہانہ ہے کہ جب کوئی نہیں بچا ہے حتیٰ کہ معلم یا معلمہ بھی نہیں ہے اور اسکول بھی تباہ ہوچکا ہے توعلم کیوں حاصل کرے مگر ایک تڑپ ہے جو اُسے رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔ حد نگاہ تک ملبہ دیکھ کر اُس کا حوصلہ ٹوٹتا ہے نہ ہی ارادہ بدلتا ہے۔ اِس کمسنی میں اُس کی بہادری دیکھئے کہ ملبے سے اُسے ڈر نہیں لگتا۔ تنہا جاتے ہوئے بھی اُسے خوف نہیں آتا۔تصویر دیکھ کر جب مَیں دیر تک اس طالب علم کے بارے میں سوچ رہا تھا تب یہی خیالات میرے ذہن پر طاری تھے۔ پتہ نہیں کیا نام ہے اس کا؟ پتہ نہیں کس محلے سے تعلق ہے اس کا۔ پتہ نہیں اس کے والدین کے کیا خواب رہے ہوں ۔ پتہ نہیں ، کچھ پتہ نہیں ، اس کے باوجود مجھے اس طالب علم کو پشت پر بستہ لٹکائے جاتا دیکھ کر اچھا لگا، ایسا لگا جیسے اس کا ایک ایک قدم روشن مستقبل کی بشارت ہے، ممکن ہے وہ بڑا افسر بنے، ٹیکنالوجی کا ایسا ماہر بنے جس کا ہاتھ کوئی نہ پکڑ سکتا ہو، ممکن ہے وہ انقلاب ِ زمانہ کا نقیب بنے، اُس میں حالات کو پلٹ دینے کی طاقت آجائے، ممکن ہے وہ خیر کا پیغامبر بن کر دُنیا پر چھا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ممکن ہو سکتا ہے وہ سب ہو!
علم کی ایسی لگن بآسانی نظر نہیں آتی۔ ہماری محرومی یہ ہے کہ ہم نہ تو اس طالب علم کو جانتے ہیں نہ ہی جب یہ کچھ بن جائے گا تب اس کو جان پائینگے یا اندازہ کرپائینگے کہ یہ وہی ہے مگر پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ اس کا روشن مستقبل اس کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔