سفارتخانے کے مطابق ’’یہ تحفہ ہندوستانی بچوں کے چھوٹے مگر محبت سے بھرے دلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘‘ تصویر میں ایک مٹی کی گلک رکھی ہوئی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان اور ایران کے قومی پرچم موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 3:34 PM IST | New Delhi
سفارتخانے کے مطابق ’’یہ تحفہ ہندوستانی بچوں کے چھوٹے مگر محبت سے بھرے دلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘‘ تصویر میں ایک مٹی کی گلک رکھی ہوئی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان اور ایران کے قومی پرچم موجود ہیں۔
ہندوستان میں ایران کے سفارتخانہ نے جمعہ کو ایک دل کو چھو لینے والی تصویر جاری کی ہے جس میں ہندوستانی بچوں کی جانب سے ایران کے جنگ زدہ بچوں کیلئے بھیجا گیا ایک منفرد تحفہ دکھایا گیا ہے۔
سفارتخانے کے مطابق ’’یہ تحفہ ہندوستانی بچوں کے چھوٹے مگر محبت سے بھرے دلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘‘ تصویر میں ایک مٹی کی گلک رکھی ہوئی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان اور ایران کے قومی پرچم موجود ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور ہمدردی کی علامت ہیں۔ سفارتخانہ کی جانب سے ’ایکس‘ پر پوسٹ کی گئی اس تصویر کے ساتھ کہاگیا ہے کہ ’’ایک ہندوستانی بچے نے اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنی گلک ایرانی بچوں کو بطور تحفہ پیش کی ہے جو انسانیت، محبت اور یکجہتی کا خوبصورت پیغام ہے۔ ‘‘ ایرانی سفارتخانہ نے اس جذبے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ’’ اس رحمدلی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ ‘‘ سفارتخانے نے ہندوستان اور اس کے بچوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ سفارتخانہ کے مطابق یہ تحفہ ایران کے میناب شہر میں امریکی حملے کا نشانہ بننے والے اسکول کی طالبات کیلئے ہے۔
جنگ زدہ ایران کے شہریوں کیلئے کشمیر میں بڑے پیمانے پر عطیات جمع کرنے کی مہم
کشمیر کے مختلف علاقوں میں جنگ زدہ ایران میں جاری بحران سے متاثرہ شہریوں کی مدد کیلئے بڑے پیمانے پر عطیات جمع کرنے کی مہم شروع ہے۔ اس کے تحت، بڑی تعداد میں کشمیری، ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کی مدد کیلئے نقد رقم، سونے، تانبے کے برتن اور دیگر قیمتی اشیاء عطیہ کررہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، اس مہم میں مرد و خواتین سمیت بچے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ کشمیری خواتین نے اپنے سونے کے زیورات، تانبے کے برتن اور گھر کا سامان عطیہ کیا۔ کچھ خاندانوں نے مویشی عطیہ کئے، جبکہ بچوں نے اپنی بچت اور جیب خرچ تک پیش کر دیا۔ مسجد امام زمان میں رضاکاروں نے عطیات جمع کرنے کیلئے اسٹالز لگانے کا اہتمام کیا۔ مقامی رہائشی محسن علی نے کہا کہ ”ہماری مائیں اور بہنیں سونے چاندی کے زیورات، تانبا اور نقد رقم دے رہی ہیں تاکہ ہم ایران کی مدد کرسکیں۔ “
نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر کشمیری مسلمانوں کی اس حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے جمع شدہ عطیات کی تصاویر شیئر کیں اور شکریہ ادا کیا۔ سفارت خانے نے اس بے لوث انسانی ہمدردی کے جذبے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ مہربانی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی۔ “
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور ایران کے درمیان ایندھن کی تجارت بحال
۹۰؍ سالہ خاتون نے اپنی سونے کی انگوٹھی عطیہ کی
سب سے زیادہ متاثر کن عطیہ کشمیر کی ایک ۹۰ سالہ خاتون کی طرف سے سامنے آیا، جنہوں نے اپنی سونے کی انگوٹھی ایرانیوں کی مدد کیلئے پیش کی جو انہوں نے کئی دہائیوں سے سنبھال کر رکھی تھی۔ ان کے اس عمل کی کشمیریوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب ستائش کی جارہی ہے۔
ایرانی سفارت خانے کے ذریعے عطیات کو ایران بھیجا جائے گا
امدادی کوششوں کا یہ سلسلہ ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ۱۴ مارچ کو جاری کردہ اپیل کے بعد شروع ہوا جس میں انسانی ہمدردی کے عطیات کیلئے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کی گئی تھیں۔ تاہم، بعد ازاں مشن نے بینکنگ چینلز کے ذریعے فنڈز وصول کرنے میں لاجسٹک چیلنجز کا حوالہ دیا اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نئی دہلی میں واقع سفارت خانے کے دفتر میں براہِ راست نقد عطیات جمع کرائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر سے جمع ہونے والی تمام اشیاء اور فنڈز کو سفارت خانے کے ذریعے ایران بھیجا جائے گا تاکہ اسے متاثرہ اور مستحق شہریوں تک پہنچایا جاسکے۔ سفارت خانے نے اس امداد کیلئے اپنی ستائش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم آپ کی ہمدردی اور انسانیت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ شکریہ، انڈیا۔ “