• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رقص کرنا ہے تو حالات کی زنجیر نہ دیکھ!

Updated: January 10, 2026, 1:45 PM IST | Shahid Latif | mumbai

عالمی منظرنامہ انتشار کی زد میں ہے۔ بیک وقت کئی جنگوں کے آثار ہیں۔ دُنیا جو عالم کاری کے دور میں جڑ رہی تھی، بٹنے لگی ہے۔ ایسے میں کیا روزانہ بے شمار خبروں میں گھرا ہوا ایک عام انسان کچھ کرسکتا ہے؟ اس مضمون میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

INN
آئی این این
البرٹ آئنسٹائن نے کہا تھا: ’’میں  نہیں  جانتا کہ تیسری عالمی جنگ میں  کس طرح کے ہتھیاروں  کا استعمال ہوگا۔ مَیں  اتنا جانتا ہوں  کہ چوتھی عالمی جنگ لاٹھیوں  اور پتھروں  سے لڑی جائیگی۔‘‘ 
آئنسٹائن کے قول کی تفہیم آسان ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا چوتھی جنگ تک دنیا اس قابل رہ جائیگی کہ لڑ بھی سکے؟ جس قسم کا اسلحہ تیار کیا جاچکا ہے، اب بھی تیار کیا جا رہا ہے اور جس کا ایک دوسرے کو خوف دلایا جا رہا ہے، جس طرح معاشی مفادات ہی کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے، نہ تو شرف انسانیت کی اہمیت رہ گئی ہے نہ زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کو کسی خانے میں  رکھا جا رہا ہے، جس طرح انسانی اقدار کو تلف کرنے سے کسی کو عار نہیں  ہے، جس طرح زمینوں  کو بنجر کیا جارہا ہے، پانی کی قلت کو سنگین بحران میں  تبدیل ہونے دیا گیا ہے، فضا کو آلودہ کیا جا رہا ہے، قدرتی وسائل کا بے دریغ اور بے جا استعمال ہو رہا ہے اور جس طرح آبادیوں  کو ٹائم بم بنایا جارہا ہے، اس کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ یا تو چوتھی عالمی جنگ نہیں  ہوگی یا پھر اس کے نام پر ایسی جنگ ہوگی جس کا ’’نظارہ‘‘ بچے اور نوعمر ویڈیو گیم میں  کرتے ہیں  اور محظوظ ہوتے ہیں ۔ ساحرؔ نے ’’پرچھائیاں ‘‘ میں  کہا تھا:
گزشتہ جنگ میں  گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں  کہ یہ تنہائیاں  بھی جل جائیں 
اس وقت کی کیفیت ایسی ہی ہے۔ تنہائیوں  کو جلانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ غزہ میں  ’’کامیاب تجربہ‘‘ کیا جا چکا ہے جہاں  تنہائیاں  ہی نہیں  اور بھی بہت کچھ جلا۔ آرزوؤں  اور تمناؤں  کی لپٹیں  تو سب نے دیکھیں ، شاید یادیں  بھی راکھ ہوگئیں ۔ ہوا کے جھونکوں  نے راکھ اڑائی تو جن کے سینے میں  دل اور دل میں  دھڑکن تھی، اُن کی آنکھیں  جلنے لگیں  اور جلتی رہیں ۔ باقی تمام کو دوسروں  کا کوئی غم نہیں  ستاتا۔ اُنہیں  آرزوؤں ، تمناؤں  اور یادوں  کے راکھ ہونے کا غم کیوں  ہو؟ 
اسی دنیا میں ، جو ترقی کے دعوؤں  کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایک صدر ہے جس نے وہ جنگیں  بھی رکوا دیں  جو ابھی ہوئی نہیں  ہیں  ورنہ اصل جنگوں  سے جنگوں  کی گنتی زیادہ نہ ہوتی۔ ایک ملک کے صدر کا حال ہی میں  گرفتاری نما اغوا ہوا ہے۔ گرفتاری نما اغوا میں  ڈرامائیت کا عنصر خاص طور پر شامل کیا گیا تاکہ دیکھنے والے متحیر بھی ہوں  اور خوفزدہ بھی۔ اس صدر نے کہا میں  ملک فلاں  کا حکمراں  ہوں ، جواب دیا گیا کہ ہاں ، حکمراں  ہو مگر ہماری قید میں  ہو، ہم تاریخ نہیں  لکھنا چاہتے، ہمیں  جغرافیہ بدلنا ہے۔ تیسری جنگ شروع نہیں  ہوئی ہے لیکن محاذ سے دور کہیں  اور جگہ، کسی اور شکل میں  لڑی جا رہی ہے۔ اس میں  اسلحہ نہیں  ہے’’مسلحہ‘‘ ہے جو مسئلہ کو اسلحہ بنانے سے معرض وجود میں  آتا ہے جیسے ریئر ارتھ مسلحہہے جس کی جستجو نے نقشے پر نئے محاذ ابھار دیئے ہیں ۔ ایک محاذ تو ازخود ابھر آیا، وینزویلا، جس کے صدر کو گرفتاری نما اغوا سے دوچار کیا گیا۔ اس صدر پر الزامات تو کئی ہیں  مگر ا س کا جرم ایک ہی ہے۔ اس کے ہاں  تیل کے ذخائر کے علاوہ پہاڑوں  میں  ریئر ارتھ اور ایسی کئی دھاتیں  ہیں  جن کا حصول مشکل تھا مگر قبضہ آسان۔ آپریشن ’’ایبسلوٹ ریزالو‘‘ برپا ہوا اور ایک رات کے چند گھنٹوں  میں  وہ کنجی چھین لی گئی جس سے قیمتی دھاتوں  کا خزانہ کھل جائیگا۔ خزانہ تو ابھی نہیں  کھلا مگرچابی چھیننے والے ایک معرکہ سرانجام دینے کے بعد اب عجلت میں  نہیں  ہیں ۔ جانتے ہیں  کہ سب کچھ حسب منشاء ہوگا۔ ایوری تھنگ وِل فال اِن لائن۔ 
یہ اور ایسے تمام واقعات اور تغیرات کو ذہن میں  رکھئے، محسوس ہوگا کہ دُنیا میں  بہت کچھ ہورہا ہے۔ پہلے بھی ہورہا تھا مگر اب زیادہ ہورہا ہے۔ ایک بار پھر دُنیا ٹکڑوں  میں  بٹ رہی ہے یا ٹکڑ وں  میں  جڑ رہی ہے، جمہوریت کو امیروں  کے مفادات کیلئے اور جو امیر نہیں  ہیں  اُنہیں  چاروں  طرف سے گھیر کر جمہوریت کے نام نہاد استحکام کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ عالمی ادارے پہلے بھی آلۂ کار تھے، اب بھی ہیں ۔ آٹومیشن سے روزگار کے مواقع کم ہورہے ہیں  اسی لئے تارکین وطن جو آنکھ کا تارا ہوتے تھے، آنکھوں  میں  چبھ رہے ہیں ۔ اُنہیں  نکالا جا رہا ہے۔ ’’عالم کاری‘‘ میں  ہزار نقائص تھے مگر انسانیت کو اس کا کچھ فائدہ بھی ہوا۔ جوموبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ایسی ہی کئی مصنوعات جن سے ہر خاص و عام فیضیاب ہورہا ہے، عالم کاری ہی کی دین ہیں ۔ چونکہ پرانی دیوار توڑ کر نئی دیوار بنانے میں  وقت لگتا ہے اسلئے فی الحال اعلانیہ خود غرضی (گلوبلائزیشن کی جگہ لوکلائزیشن) اولین ترجیح ہےجو تحفظ پسندی کی صورت اپنی بدصورتی دکھا رہی ہے۔ کل تک دوسروں  کیلئے دروازہ کھولنے پر اصرار تھا اب دروازہ بند کرنے کی ضد ہے کہ دستک دینے والا دُگنا فائدہ دے تو کھولا جائے ورنہ بند ہی رہنے دیا جائے۔ عالم کاری کی جگہ کوئی اور فلسفہ یا نظریہ لانے اور پھر لادنے کی کوشش یقیناً ہوگی مگر اس سے پہلے عالم کاری کا تعطل ’’عالم ِ بے کاری‘‘ کو وجود بخش رہا ہے۔ عالم ِ بے کاری بڑھ جائے تو خطرہ پیدا ہوتا ہے مگر ہر خطرہ خطرہ نہیں  ہوتا۔ کچھ خطروں  کو بہلا لیا جاتا ہے اور کچھ کا رُخ موڑ دیا جاتا ہے۔
 
 
اس طرح، ہر طرف خبریں ہیں ، ان کے علاوہ کچھ ہے تو خبروں  کا تجزیہ اور ماہرین کی رائے ہے یعنی دن رات سر کھپانے کا بھرپور انتظام۔ مَیں  سوچتا ہوں  کہ دور تک پھیلے ہوئے اس منظر نامے کو بدلنا میرے اختیار میں  نہیں  ہے، مَیں  اس میں  معمولی اصلاح بھی نہیں  کرسکتا کہ میری حقیقت محض ایک ذرّہ کی ہے تو کیا اس دورِ خرابات و خرافات میں  ٹک ٹک دیدم کی تصویر بنوں  کہ مَیں  تو ایک چھوٹا سا فیصلہ بھی تبدیل نہیں  کروا سکتا؟ مگر پھر سوچتا ہوں  کہ مَیں  سوچتا کیوں  ہوں  جب پیش نظر یہ رہنما اُصول ہے کہ ’’اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں  سے کسی کے ہاتھ میں  ایک کھجور کا پودا ہو، اور وہ اسے لگا سکتا ہو تو ضرور لگائے۔‘‘اس فرمانِ عالی میں  ’’قیامت‘‘ کیا ہے؟ قیامت کسی بھی افتاد، مصیبت، بدترین سماجی و معاشی حالت، فرقہ پرستی، طبقہ پرستی، ظلم، جبر، لوٹ کھسوٹ وغیرہ وغیرہ سے لاکھوں  کروڑوں  گنا زیادہ ہولناک واقعہ ہوگا جبکہ ’’پودا‘‘ بظاہر حقیر، نہایت نرم ونازک اور کمزور شے ہے۔ بدترین حالات میں  آدمی سوچتا ہے کہ میرے معمولی سے کارِ خیر سے کیا ہوگا؟ مگر نہیں ۔ کہا گیا کہ ’’پودا لگا سکتا ہو تو لگا دے‘‘۔ پودا صرف پودا نہیں ، چھوٹے سے چھوٹے کارِ خیر کی علامت ہے۔ مجھ پر بڑی سے بڑی مصیبت میں  چھوٹے سے چھوٹے کارِ خیر کی انجام دہی کی ذمہ داری  ہے، کاش مَیں  یہ کرتا رہوں !

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK