Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا‘‘

Updated: July 25, 2026, 2:52 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

اس مضمون کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں نظام ِ تعلیم کے نقائص سے بحث کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں نئی نسل کو نہ سمجھ پانے کے اس رجحان کا تذکرہ ہے جس کے تحت اُنہیں نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ آج کی نئی نسل ماضی کے ہر دور کی نئی نسل سے مختلف، زیادہ باخبر اور بہتر سلوک کی مستحق ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا طلبہ سڑکوں پر ہیں۔ اس ایک ماہ میں اُن کا احتجاج دھیرے دھیرے پر پرزے پھیلاتا گیا اور اب بالکل اُسی طرح، جیسے شاہین باغ شہر در شہر پھیل گیا تھا، جنتر منتر بھی شہر در شہر پھیل گیا ہے۔ اسے بدنصیبی نہیں تو کیا کہا جائے کہ جن طلبہ کو کلاس روم میں ہونا چاہئے تھا، لائبریریوں میں ہونا چاہئے تھا، مباحثوں میں اور خصوصی لیکچرز میں ہونا چاہئے تھا، یا اپنے اپنے گھر کے گوشہ ٔ تنہائی میں مصروفِ مطالعہ ہونا چاہئے تھا، وہ سڑکوں پر ہیں اور محض چند مطالبات منوانے کیلئے اپنا وقت اور توانائی صرف کررہے ہیں۔ ان کے والدین بھی بہ عافیت نہیں ہیں بلکہ اُن کی سلامتی کیلئے فکرمند ہیں۔ 

کوٹھاری کمیشن نے کہا تھا کہ ملک کا مستقبل کلاس روم میں لکھا جا رہا ہے۔ مطلب صاف تھا کہ ملک کا مستقبل نہ تو سیاست میں ہے نہ معیشت میں، نہ وعدوں میں ہے نہ دعوؤں میں، نہ بازاروں میں ہے نہ نعروں میں۔ وہ کلاس رو م میں ہے مگر آج کا دَور ملک کے مستقبل کو سڑک کی جانب دھکیل رہا ہے یا ان لاٹھیوں کی طرف جو شرپسندوں پر چلنی چاہئے مگر طالب علموں پر چل رہی ہیں۔ نظام ِتعلیم یرغمال ہے اور طلبہ کے خواب پائمال۔ یہ وہی ملک ہے جس نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب لڑکے درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ یا تو اسکول نہیں تھے یا بہت دور تھے۔ پتہ نہیں وہ درخت سلامت ہیں یا نہیں جو سایہ بھی دیتے تھے اور سائے میں بیٹھ کر پڑھنے والوں کو دعا بھی دیتے تھے۔ سایہ ٔ درخت ہی اسکول بھی تھا کلاس روم بھی۔ 

مگر وقت بدلا تو اسکول کانکریٹ کی عمارتوں میں منتقل کردیئے گئے، طلبہ کلاس روم کی چار دیواری میں گھر گئے اور صرف چار دیواری میں نہیں، ڈھیر ساری کتابوں، لمبے چوڑے نصابوں، یونٹ ٹیسٹوں، سخت ترین امتحانوں،امتحانات کی جھنجھٹوں، لاسٹ ڈیٹ کی گھبراہٹوں، زیادہ سے زیادہ مارکس لانے کی بندشوں، بڑی سے بڑی ڈگری کے فیشنوں، بھاری ڈونیشنوں اور حالیہ برسوں میں پرچہ عام ہونے کے ہتھکنڈوں میں گھیر لئے گئے۔ کسی کو خبر ہی نہ ہوئی کہ ایجوکیشن سسٹم کب انڈسٹری بنا، طلبہ کب کنزیومر بنے، تعلیم کب پروڈکٹ بنی اور سماج کب مارکیٹ بن گیا۔ جب یہ گورکھ دھندا بڑھ گیا تو کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوا اور جو لوگ معترض ہوئے ان کو روایتی تعلیم کا ڈھنڈورچی سمجھ لیا گیا۔ اس طرح ملک کے نظام ِ تعلیم کی دھجیاں بکھریں اور دھجیوں میں ڈگریاں تقسیم ہونے لگیں۔ بلاشبہ، ملک کو اعلیٰ تعلیم کیلئے نئے ادارے درکار تھے اور نئے اداروں کے اپنے اخراجات تھے۔ بدلتے دور میں پیڑ کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں رہ گیا تھا جیسے آج کے دور میں ممبئی سے نئی دہلی پیدل جانا ممکن نہیں رہ گیا ہے، لوگ ہنسیں گے کہ درجنوں ٹرینیں ہیں اور آپ پاپیادہ سفر کررہے ہیں، اس میں وقت کا ضیاع بھی ہے، مگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نجی ہاتھوں میں سونپ کر حکومت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، نجی اداروں کو من مانی کی اجازت دے دی، سیاستداں خود بڑے تعلیمی ادارے قائم کرنے لگے، کسی کو روکنے کی ہمت نہیں ہوئی اور والدین نے بچوں کی ضد اور بچوں نے والدین کی خواہش کے آگے ہتھیار ڈال کر اُس نئے تعلیمی نظام کو چارا فراہم کیا جس کی بھوک اور غذا کی طلب بلیو وہیل مچھلی کی طرح ہے۔ 

ایک طالب علم جہاں تک پڑھنا چاہے وہاں تک تعلیم کو مفت اور بالکل مفت ہونا چاہئے تھا، کمزور طلبہ پر محنت اور جو کمزور نہیں ہیں اُن کی قدر ہونی چاہئے تھی۔ موجودہ نظام قدم قدم پر ہر دو طرح کے طلبہ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور  اُن کی فطری صلاحیت کو نہیں دیکھتا بلکہ اُن کے والدین کی معاشی صلاحیت پر نگاہ رکھتا ہے۔ ایسا سلوک تو رہزن بھی نہیں کرتے جو اسباب سے لدے ہوئے مسافر ہی کو لو‘ٹتے ہیں، کسی ’’بے اسباب مسافر‘‘ کو تنگ نہیں کرتے۔طلبہ اور جنریشن زیڈ نے جو اِتنی بڑی تحریک چھیڑی ہے اور اپوزیشن کی پارٹیوں نے تعلیم کو موضوع بناکر اصلاحات کے جو امکانات پیدا کئے ہیں، اُن سے اُمید تو بندھ رہی ہے مگر اس بات کی ضمانت اب بھی نہیں ملتی کہ کیا نظام ِ تعلیم ویسا ہوجائیگا جیسا ہونا چاہئے؟  

اب آئیے ایک اور مسئلہ کی طرف۔مسئلہ یہ ہے کہ برسہا برس سے سماج چھوٹوں کو بڑوں کا ادب سکھا رہا ہے مگر بڑوں کو چھوٹوں سے پیش آنے کے آداب نہیں سکھاتا۔ طالب علم کو سکھایا جاتا ہے کہ استاد کا ادب کرے۔ استاد کو نہیں سکھایا جاتا کہ اُن آداب کا خیال رکھے جو شاگرد سے تعلق کو درس و تدریس کے نقطۂ نظر سے بامعنی بناتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کیا بات ہوئی۔ چھوٹے ہی بڑوں کا ادب کرتے آئے ہیں، بڑے کیوں رکھیں چھوٹوں کے آداب (حقوق) کا خیال؟ سوال درست ہے مگر یہ سوال ہی مسئلہ ہے۔ چھوٹوں کے آداب کا معنی ہے کہ بڑے اُن سے شفقت سے پیش آئیں، اُن کی دشواریوں کو دور اور مسائل کو حل کریں، اُن کی حکمت آمیز تربیت اور اصلاح کریں، اُن کا اعتماد بڑھانے کیلئے کوشاں رہیں، اُن سے گفتگو کریں، اُن کے جذبات اور احساسات کو سمجھنے اور اُن کے دل کی باتیں جاننے کی کوشش کریں اور اُن کو سکھانے کے ساتھ ساتھ اُن سے سیکھنے میں بھی دلچسپی لیں۔ پرانی اور نئی نسل کے درمیان جس فاصلے کو جنریشن گیپ کہہ کر جواز فراہم کیا گیا وہ دراصل بڑوں کا عجز ہے اس لئے کہ یہ ایک طرح سے ہار ماننا ہے کہ ہم ایک حد کے آگے اُنہیں یعنی نئی نسل کو نہیں سمجھا سکتے۔ پرانی نسل کا مسئلہ ہے کہ اس نے نئی نسل کو کبھی قابل اعتناء نہیں سمجھا، اسے ہمیشہ بے ادب اور گستاخ قرار دیا اور خود کو ایک فاصلے پر رکھا بلکہ یہ کہہ کر دوسروں کو بھی یہی مشورہ دیا کہ چھوٹوں سے بے تکلفی ٹھیک نہیں۔ موجودہ حکمراں طبقے نے بھی نئی نسل کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اُنہوں نے جو مہم چھیڑی تھی اُسے کمتر جانا۔ دُنیا نے دیکھ لیا کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی۔ ایسی غلطی معاشرہ اور سماج میں ہر جگہ ہورہی ہے۔  

مگر، اب تک جو دَور گزرے وہ الگ تھے، موجودہ دور الگ ہے۔ اس دَور میں چھوٹوں کے ہاتھوں میں جام ِجمشید ہے جس میں وہ دُنیا دیکھ رہے ہیں اور تغیرات ِ زمانہ کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ اُن کیلئے کوئی شے ایسی نہیں جس کا تعارف درکار ہو۔اس لئے اب پہلے سے زیادہ ضرورت ہے اُن کے آداب کی پاسداری کی۔ انہیں اُن کے فرا’ئض سمجھانے کے ساتھ ساتھ اُن کے حقوق کو ملحوظ رکھنے کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK