• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا عزم: ’جارح قوتوں‘ کے اپنے حملوں پر پچھتانے تک مزاحمت جاری رکھیں گے

Updated: September 08, 2026, 9:03 PM IST | Tehran

جاپان نے مشرق وسطیٰ میں حملوں کے دوبارہ آغاز پر ”گہری تشویش“ کا اظہار کیا اور امریکہ-ایران مذاکرات کے فوری احیاء اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں جلد کمی لانے کا مطالبہ کیا۔ جاپانی وزیر خارجہ نے ایران پر ”زیادہ سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنے“ کیلئے زور دیا اور شہری بحری جہازوں پر ایران کے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ”انتہائی تحمل“ کی درخواست کی۔

Masoud Pezeshkian. Photo: X
مسعود پزشکیان۔ تصویر: ایکس

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز عزم ظاہر کیا کہ تہران اس وقت تک حملوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گا جب تک ”جارح قوتیں“ اپنے اقدامات پر مکمل طور پر پشیمان نہیں ہو جاتیں۔ پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ”ایران نے ہمیشہ جنگ کی مخالفت کی ہے اور عوام کے مفادات اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کیلئے جنگ پسندی سے بچنے کو ضروری سمجھا ہے۔ لیکن جس طرح اس نے آج تک جارحیت کے خلاف دلیری سے اپنا دفاع کیا ہے، وہ اس مزاحمت کو اس وقت تک پوری قوت سے جاری رکھے گا جب تک حملہ آور مکمل طور پر پچھتا نہ جائیں۔“

اسلام آباد ایم او یو پر امریکی واپسی کشیدگی کم کر سکتی ہے: عراقچی

ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے جاپانی ہم منصب توشیمیتسو موتیگی کو بتایا کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت امریکہ کی اپنے وعدوں پر واپسی کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے موجودہ کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کو ٹھہرایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے راستے ایک عارضی ٹرانزٹ روٹ قائم کرنے سے متعلق بات چیت میں ”نمایاں پیش رفت“ کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمنی: مسجد پر اسلام مخالف نعروں اور نو نازی پیغامات درج، چھ ماہ میں ۲۳۱؍ واقعات

جاپان کی جانب سے ’انتہائی تحمل‘ کی اپیل

موتیگی نے مشرق وسطیٰ میں حملوں کے دوبارہ آغاز پر ”گہری تشویش“ کا اظہار کیا اور امریکہ-ایران مذاکرات کے فوری احیاء اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں جلد کمی لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایران پر ”زیادہ سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنے“ کیلئے زور دیا اور شہری بحری جہازوں پر ایران کے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ”انتہائی تحمل“ کی درخواست کی۔ موتیگی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کا فیصلہ بین الاقوامی برادری بشمول ساحلی ریاستوں اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کو کرنا چاہئے۔ انہوں نے ایران سے کہا کہ وہ آبنائے باب المندب میں استحکام کے تحفظ کیلئے یمن کے حوثی گروپ پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالے۔

یہ بھی پڑھئے: تحفظ کیلئے امریکہ پر انحصار کافی نہیں، قطر نے خلیجی ممالک کو خبردارکیا

قطر نے موجودہ صورتحال کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دے دیا

قطر نے منگل کو بیان دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ”نہ جنگ، نہ امن“ کی صورتحال ”ناقابلِ قبول“ ہے اور اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ابراہیم الہاشمی نے کہا کہ ”خطے میں نہ امن اور نہ جنگ کی صورتحال کا جاری رہنا ناقابلِ قبول ہے۔ یہ صورتحال خطے کے وسائل کو نچوڑ رہی ہے اور اس بحران کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جانا چاہئے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو ”بغیر کسی شرط کے کھولا جانا چاہئے۔“

یو این سی ٹی اے ڈی (UNCTAD) کا چھوٹے کاروباری اداروں پر اثرات سے متعلق انتباہ

اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے تجارت و ترقی (این سی ٹی اے ڈی) کی ایک رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے خلل سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے عالمی ویلیو چینز سے باہر ہو جانے کا خطرہ ہے، کیونکہ توانائی، نقل و حمل اور فنانسنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات بڑی کمپنیوں کے مقابلے چھوٹی فرموں کو زیادہ بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ ترقی پذیر معیشتوں میں چھوٹی فرموں کو مصنوعات کی مالیت کے اوسطاً ۴ء۱۹ فیصد کے برابر امپورٹ کمپلائنس اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ شرح ۳ء۸ فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ادیداس کی سابق اسرائیلی فوجی کو اشتہاری مہم میں شامل کرنے پر معذرت

رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ ترقی پذیر معیشتوں میں ۴۸ فیصد چھوٹی فرمیں فنانس تک رسائی کو ایک رکاوٹ سمجھتی ہیں، جبکہ بڑی فرموں میں یہ شرح ۳۸ فیصد ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی نے خبردار کیا کہ ویلیو چینز سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے اخراج سے بے روزگاری میں اضافہ اور سماجی کمزوری بڑھ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK