Inquilab Logo Happiest Places to Work

بشیر بدر!کتنی راتوں کا جاگا ہوں نیند بھری ہے آنکھوں میں

Updated: June 01, 2026, 5:42 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | Mumbai

بشیر بدر نے زندگی کے عام تجربوں کو کچھ اس طرح اپنی شاعری میں پیش کیا کہ وہ نئی لذت کا احساس دلانے لگے۔

Bashir Badr. Photo: INN
بشیر بدر۔ تصویر: آئی این این

بشیر بدر کی شاعری ہی بشیر بدر کی زندگی کا حوالہ ہے۔یہ زندگی چاہے لوگوں  کی نگاہ میں  جتنی خاص رہی ہو، شاعری میں  وہ دائروں  کو توڑ کر عمومی بن جاتی ہے۔بشیر بدر نے زندگی کے دکھوں  کو عام انسانی زندگی کے وسیلے سے دیکھا اور محسوس کیا۔ جہاں  عشق کا بیان ہے وہاں  بھی، ہلکی ہلکی سی چبھن محسوس ہوتی ہے جس پر کسی کا بھی اجا رہ نہیں  ہے۔ محبت کا جذبہ جب عام انسانی زندگی کی ضرورت بن جائے تو اسے صرف شاعری نہیں  کہتے بلکہ زندگی کہتے ہیں ۔ بشیر بدر نے زندگی اور شاعری کے درمیان جس فرق کو مٹانے کی کوشش کی، اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے اشعار نہ صرف فوری طور پر اپیل کرتے ہیں  بلکہ وہ یاد ہو جاتے ہیں ۔ عشقیہ شاعری فطری طور پر کچھ رومانی اور چھایا وادی ہوتی ہے، جو ہلکی چبھن  کے ساتھ دلوں  کی دھڑکن میں  شامل ہو جاتی ہے۔ خود بشیر بدر کو اس حقیقت کا احساس تھا۔ شعر سناتے ہوئے انہیں  شاعری کے بارے میں  کچھ کہنے کی ضرورت بھی محسوس ہوتی تھی۔ سامعین میں  ہر عمر اور سطح کے لوگ ہوتے مگر شاعری یکساں  طور پر داد وصول کرتی تھی۔ لیکن اس بات پر کم غور کیا گیا کہ بشیر بدر کی شاعری میں  جو فوری اور عمومی اپیل ہے اس کی تہ میں  کوئی لازوال سچائی بھی ہے۔ لفظ’’سورج‘‘ اور’’دیا‘‘سے کون واقف نہیں ۔ ہر شخص کی زندگی میں  دن اور رات کا عمل اندھیرے اور اجالے کے ساتھ تجربے کا حصہ بنا کرتا ہے۔ بشیر بدر نے زندگی کے عام تجربوں  کو کچھ اس طرح اپنی شاعری میں  پیش کیا کہ وہ نئی لذت کا احساس دلانے لگے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ مانا جائیگا؟

میں  دن ہوں  میری جبیں  پر دکھوں  کا سورج ہے

 دیے تو رات کی پلکوں  پہ جھلملاتےہیں 

 بشیر بدر نے دکھوں  کے سورج کو ایک عام انسان کی صورت میں  دیکھا ہے۔ دیے کی روشنی رات کے ساتھ اپنا سفر شروع کرتی ہے۔

بشیر بدر آنکھوں  اور پلکوں  کے درمیان نہ تو فرق کرتے ہیں  اور نہ انہیں  خیال کی سطح پر اجنبیت کا احساس ہوتا ہے۔ بازاروں ، ہوٹلوں  اور موٹروں  میں  جو انسان رہتے اور بستے ہیں ، ظاہر ہے کہ وہ معاشی اور ذہنی طور پر ایک جیسے نہیں  ہیں ۔ بشیر بدر نے ریل کی پٹری، بس کے پہیوں ، گھر کی بالکونی اور سڑکوں  کو زمینی سطح پر اتر کر دیکھا ہے۔ اسی لیے ان کے تجربے عمومی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت فطری اور تازہ کار ہیں ۔ شہری زندگی کی بھاگ دوڑ اب کوئی نئی بات نہیں  رہ گئی۔ تیز رفتاری اپنے ساتھ خود غرضی اور بے تعلقی کو بھی لے کر آئی۔ بشیر بدر کی غزل ان دو سچائیوں  کے ساتھ اپنے وقت کا حوالہ بن گئی۔ یہ دو لفظ اپنے ساتھ زندگی کی دوسری بدصورتیوں  کو بھی لے کر آئے لیکن یہ محسوس نہیں  ہوتا کہ شاعر زندگی سے گھبرا گیا ہے یا خوف کھا رہا ہے۔ دھوپ میں  جلتے ہوئے اور پیدل چلتے ہوئے، زندگی کتنی توانا اور خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ بشیر بدر نے شام کے وقت ایک عام انسان  کے گھر لوٹنے کے عمل کو پرندوں  کی پرواز کے ساتھ دیکھا۔پرندوں  کا خیال انہیں  کھیت کے مزدوروں  کے ساتھ آتا ہے۔

یہ پرندے بھی کھیتوں  کے مزدور ہیں 

لوٹ کے اپنے گھر شام تک جائیں  گے

چھپر کے چائے خانے بھی اب اونگھنے لگے 

پیدل چلو کہ کوئی سواری نہ آئے گی

 دیہات شہر ہوتے جاتے ہیں  ۔ہر طرف بجلی کی روشنی سے زندگی روشن ہے۔مگر ایک اندھیرا بھی ہے۔بشیر بدر کو قمقموں  کا خیال اندھیرے کے ساتھ آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی فکری ، تہذیبی، لسانی اور سیاسی تاریخ کا آئینہ!

کچھ میری نگاہوں  کے تلے دھند بہت ہے 

کچھ جشن چراغاں  سے اندھیرا بھی بڑھا ہے

بشیر بدر کو درخت سے جتنی دلچسپی رہی ہے وہ ایک واقعہ ہے۔درخت یہ سوکھے پتے اور بارش میں  بھیگے ہوئے درخت دونوں  سے انہوں  نے عام انسانوں  کی طرح رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی۔چادر سے کہیں  زیادہ شال نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ بارش میں  بھیگے ہوئے درخت کا جسم اگر انسانی وجود معلوم ہو تو اسے فطرت کا فیضان ہی سمجھنا چاہئے۔شال تجربہ ہے جو چادر سے بہت مختلف ہے۔

یہ خزاں  کی زرد سی شال ہے جو اداس پیڑ کے پاس ہے 

یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں  سے ہرا کرو 

یہ لہجہ اور احساس نیا تھا جس نے خود غرضی اور منافقانہ ماحول میں  بھی زندگی کو گوارا بنا دیا۔دوڑتی بھاگتی ہوئی زندگی شام کو اپنے ساتھ بہت دکھوں  کا سورج تو نہیں  لاتی تھی،مگر کچھ تو تھا جو ہاتھ سے پھسل جاتا تھا۔چہروں  کی بھیڑ میں  کسی خاص چہرے کی تلاش،اور کسی ایسے مہربان ہاتھ اور دامن کی تلاش،جس سے محسوس ہو کہ کوئی اپنا بھی ہے ۔

ہر چہرے میں  تیرا چہرہ ڈھونڈ کے تجھ کو کھو بیٹھے

 گھر کا راستہ بھول گئے ہم گھر آنے کی جلدی میں 

طرح طرح سے بشیر بدر نے ان تجربوں  کو پیش کرنے کی کوشش کی۔اگر عام انسان خون پسینہ ایک کر کے زندگی کا چہرہ نکھارنا چاہتا تھا تو دوسری طرف بشیر بدر کی شاعری میں  زندگی کی ہمہ ہمی تنہائی اور اداسی کی صورت میں  ظاہر ہو رہی تھی۔نگاہ سڑک سے چھت اور بالکونی کی طرف جاتی تو زندگی کی پستی اور بلندی کا احساس ہوتا۔مگر یہ احساس تو بشیر بدر کا اپنا ہے جو اب بھی تلخ مگر تازہ معلوم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہم طے نہیں کرپارہے ہیں کہ ہماری فارین پالیسی کیسی ہو!

وہ بالکونی میں  آئے تو راستہ رک جائے

سڑک پہ چلنے لگے تو ہمارے جیسا ہے

خون پانی بنا کے پیتی ہے

دھوپ سرمایہ دار لگتی ہے

ریل کی پٹری پر میری شہرت رکھ دی

بس کے پہیوں  سے روزی روٹی باندھی 

بشیر بدر کے انتقال کے بعد ان کا یہ شعر کتنا بامعنی معلوم ہوتا ہے۔

میں  نے اک ناول لکھا ہے آنے والی صبح کے نام

 کتنی راتوں  کا جاگا ہوں  نیند بھری ہے آنکھوں  میں  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK