• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: ۳؍ سال بعد اسکول کھلے، خیموں میں تعلیم شروع، ۹۸؍ فیصد اسکول متاثر

Updated: September 22, 2026, 10:04 PM IST | Gaza

تقریباً ۶؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار طلبہ طویل عرصے سے باقاعدہ بالمشافہ تعلیم سے محروم رہے، جبکہ ۲۷۔۲۰۲۶ء کے تعلیمی سال میں کم از کم ۵؍ لاکھ ۴۰؍ ہزار بچوں کے لیے عارضی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ پٹی میں تقریباً ۳؍ سال کے وقفے کے بعد ہزاروں بچوں نے ۱۹؍ ستمبر کو دوبارہ بالمشافہ تعلیم کا آغاز کیا، تاہم ان کے لیے اسکول کی واپسی پہلے جیسی نہیں۔ کہیں تباہ شدہ عمارتیں کلاس روم بن گئی ہیں، کہیں خیموں اور ترپالوں کے نیچے سبق پڑھایا جا رہا ہے اور کئی عارضی مراکز میں فرنیچر کے بجائے چند گدے اور ایک تختہ سیاہ ہی دستیاب ہے۔ بنیادی تعلیمی سامان کی شدید قلت کے باعث بہت سے خاندان کاپی، قلم اور اسکول یونیفارم بھی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یونیسیف کے مطابق غزہ کے تقریباً ۹۸؍ فیصد اسکول جنگ کے دوران تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی تعلیمی حکام کے مطابق تقریباً ۶؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار طلبہ باقاعدہ بالمشافہ تعلیم سے محروم رہے ہیں۔ یونیسیف نے اپریل ۲۰۲۶ء میں بتایا تھا کہ تقریباً ۷؍ لاکھ بچوں نے لگاتار تقریباً ۳؍ تعلیمی سال رسمی اسکولنگ کے بغیر گزارے، جبکہ تقریباً ۴؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار بچے عارضی تعلیمی مراکز تک بھی رسائی نہیں رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل جی سی سی وزارتی کونسل کی رابطہ میٹنگ

نئے تعلیمی سال کے آغاز کے لیے غزہ کی وزارت تعلیم نے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے درجنوں عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں۔ ان میں خیموں، ترپال، لکڑی اور دھاتی چادروں سے بنے کلاس روم شامل ہیں۔ بعض مراکز ریتیلی زمین پر قائم کیے گئے ہیں، جبکہ کچھ ایسی عمارتوں میں چل رہے ہیں جو پہلے ہی جنگ یا بے گھری کے اثرات سے دوچار ہیں۔ کچھ اسکولوں کی عمارتیں اب بھی بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حکام کا اندازہ ہے کہ ۲۷۔۲۰۲۶ء کے تعلیمی سال میں کم از کم ۵؍لاکھ ۴۰؍ ہزار طلبہ عارضی مراکز، عارضی نجی اسکولوں اور دیگر تعلیمی مقامات میں بالمشافہ تعلیم حاصل کریں گے۔ جو بچے ان مراکز تک نہیں پہنچ سکتے یا جنگ کے دوران غزہ سے باہر چلے گئے ہیں، ان کے لیے آن لائن تعلیم جاری رکھنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس میں داخلہ پر پابندی کیخلاف ۳؍ میڈیا ادارے ٹرمپ پرمقدمہ کرینگے

۱۴؍ سالہ یامن ابو سمرہ نے اسکول واپسی کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا، ’’ہم پہلے خوشی سے اسکول جانے کے لیے اٹھتے تھے، اب جب اسکول آتے ہیں تو آوارہ گولیوں، راکٹوں اور حملوں سمیت ہر چیز کا خوف ہوتا ہے۔‘‘ اس نے اپنے عارضی کلاس روم کے بارے میں کہا، ’’میں ایسے خیمے میں بیٹھا ہوں جہاں کچھ بھی نہیں، صرف دھوپ اور گرمی ہے۔‘‘ اس نے بغیر جوتوں اور تعلیمی اشیاء کے بغیر بھی تعلیم جاری رکھنے کے مصمم ارادے کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ ’’ان تمام حالات کے باوجود مَیں سیکھنے کیلئے تیار ہوں۔ ہم خیموں میں اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ اس جنگ میں مَیں نے اپنے دوست کھودیئے ہیں لیکن یہاں ہم سبھی ایک جیسے ہیں۔‘‘ ایک اور طالبہ، ۱۵؍ سالہ ثمر ابو سلمی، جو خود ایک خیمے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہی ہے، نے بتایا کہ جنگ کے دوران طلبہ فون کے ذریعے پڑھتے رہے اور اپنے اساتذہ کو باقاعدگی سے نہیں دیکھ سکے۔ اسکول واپس آنے کے بعد اس نے کہا، ’’اب ہم دوبارہ اپنے خواب کے پیچھے چل رہے ہیں، ایک خیمے سے دوسرے خیمے تک۔‘‘ اس کے پاس بنیادی تعلیمی اشیاء بھی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ’’جنگ سے پہلے تک ہمارے پاس سب کچھ تھا۔ اچھے قلم، پنسل اور دیگر اشیاء مگر اب ٹوٹی پنسل بھی نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا کہ ’’پہلے صبح اٹھ کر اسکول جانے کی خوشی ہوتی تھی لیکن اب سوچتے ہیں کہ نہ جانے گھر زندہ لوٹ سکیں گے یا نہیں۔ کوئی آوارہ گولی جان لے لے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: روس میں انتخابات، حکمراں پارٹی یونائیٹڈ رَشیا کوواضح برتری

تعلیم کا یہ بحران صرف عمارتوں کی تباہی تک محدود نہیں۔ یونیسیف کے مطابق ۲۰۲۶ء کے آغاز تک غزہ کے تقریباً تمام تعلیمی مراکز متاثر ہو چکے تھے اور تقریباً ۹۲؍ فیصد اسکولوں کو مکمل تعمیر نو یا بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت تھی۔ کئی علاقوں میں ملبہ، سڑکوں کی تباہی اور ہتھیاروں کا خطرہ بھی بچوں کے لیے تعلیمی مراکز تک محفوظ رسائی میں رکاوٹ ہے۔یونیسیف نے جنوری ۲۰۲۶ء میں بتایا تھا کہ غزہ کے تقریباً ۷؍ لاکھ اسکول جانے کی عمر کے بچوں کے لیے ’’بیک ٹو لرننگ‘‘ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت عارضی تعلیمی مراکز میں بنیادی ریاضی، پڑھنے، لکھنے اور سائنس کی تعلیم کے ساتھ بچوں کی نفسیاتی بہبود اور حفاظتی آگاہی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ جنوری تک ۱۱۱؍ عارضی تعلیمی مراکز میں ایک لاکھ ۳۵؍ ہزار ۴۶۲؍ بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی تھی، جبکہ پروگرام کا ہدف ۲۰۲۶ء میں یہ تعداد ۳؍ لاکھ ۳۶؍ ہزار تک پہنچانا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ امن بورڈ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل غزہ کے اہداف کا اعادہ

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کے مطابق ۱۹؍ ستمبر سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال سے قبل ۲؍ اسکولوں کے ۲۲؍ کلاس رومز کی مرمت بھی کی گئی۔ یہ کلاس روم پہلے بے گھر خاندانوں کے استعمال میں تھے اور خاندانوں کی منتقلی کے بعد انہیں دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں کے لیے تیار کیا گیا۔ جنگ کے دوران تعلیمی شعبے کو جانی نقصان بھی بڑے پیمانے پر اٹھانا پڑا ہے۔ مشرقی خان یونس کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر ابراہیم رمضان کے مطابق جنگ میں تقریباً ۲۲؍ ہزار طلبہ اور ۷۷۰؍ سے زیادہ تعلیمی کارکن ہلاک ہوئے، جن میں ۵۳۲؍ اساتذہ بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد مقامی تعلیمی حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔ تعلیمی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بھی خاندانوں کے لیے نئی رکاوٹ بن گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اسٹیشنری کے ایک تاجر خالد علیان نے بتایا کہ رسد میں کمی اور درآمدی پابندیوں کے باعث ایک کاپی، جو جنگ سے پہلے ۳؍ شیکل میں ملتی تھی، اب ۱۵؍ شیکل تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی اداروں نے اسکولوں کو نشانہ بنانے اور غزہ میں سامان کی رسد سے متعلق ان الزامات پر رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا؛ اسرائیل ماضی میں حماس پر اسکولوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ حماس اس کی تردید کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افغانستان پرپاکستان کے فضائی حملوں میں ۲۸؍ جنگجو ہلاک

اقوام متحدہ کے مطابق ۲۰۲۵ء کی جنگ بندی کے بعد انسانی امداد کی رسائی میں کچھ بہتری آئی، لیکن غزہ میں تعلیم کی بحالی اب بھی بنیادی ڈھانچے کی تباہی، نقل مکانی، سلامتی کے مسائل اور محدود وسائل سے متاثر ہے۔ یونیسیف کے مطابق ۳۰؍ جون ۲۰۲۶ء تک غزہ میں کم از کم ۲۱۷۰۰؍ بچوں کی ہلاکت رپورٹ کی جا چکی تھی اور ۴۵؍ ہزار بچے زخمی ہوئے تھے، جن میں ۱۱؍ ہزار سے زیادہ کو زندگی بدل دینے والی چوٹیں آئیں۔خیموں میں اسکولوں کا دوبارہ کھلنا اس لیے غزہ کے بچوں کے لیے معمول کی زندگی کی مکمل واپسی نہیں بلکہ تقریباً ۳؍  سال کے تعلیمی تعطل کے بعد ایک عارضی تعلیمی بندوبست ہے۔ موجودہ انتظامات کے باوجود ہزاروں خاندان اب بھی ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں محفوظ عمارت، خاموش جگہ، بنیادی تعلیمی سامان اور اسکول تک محفوظ راستہ بھی مستقل طور پر دستیاب نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK