اُردو کے آئینی حقوق کی حفاظت صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں، اس میں اساتذہ، اہل قلم، تعلیمی ادارے، طلبہ اور اُردو کے تمام بہی خواہوں کا کردار ہے۔ شاہد محمود پوری کی زندگی اسی اجتماعی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 1:45 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai
اُردو کے آئینی حقوق کی حفاظت صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں، اس میں اساتذہ، اہل قلم، تعلیمی ادارے، طلبہ اور اُردو کے تمام بہی خواہوں کا کردار ہے۔ شاہد محمود پوری کی زندگی اسی اجتماعی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
بہار کی سرزمین نے اُردو زبان و ادب کو صرف بڑے ادیب، شاعر، محقق اور صحافی ہی نہیں دیئے بلکہ ایسے بے لوث سپاہی بھی پیدا کئے جنہوں نے اُردو کے حقوق کی حفاظت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ ان لوگوں کی جدوجہد کا میدان کسی ادبی انجمن، مشاعرے یا درسگاہ تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اُردو کو اس کے آئینی، تعلیمی اور سرکاری حقوق دلانے کیلئے مسلسل سرگرم رہے۔ انہی مخلص اور بے غرض کارکنوں کی صف میں شاہد محمود پوری (۱۵؍ اکتوبر ۱۹۵۲ء - یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء) کا نام ایک نمایاں اور قابل احترام حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی رحلت بہار کی اُردو تحریک کیلئے محض ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کے کمزور پڑنے کا احساس ہے جس میں اُردو کے حقوق کیلئے ذاتی مفاد سے بلند ہوکر جدوجہد کرنے والے لوگ موجود تھے۔ شاہد محمود پوری بنیادی طور پر ایک سائنس کے استاد تھے۔ تدریس ان کا پیشہ تھا، مگر اُردو ان کیلئے محض ایک مضمون یا زبان نہیں تھی، وہ اسے تہذیبی شناخت، تاریخی وراثت اور آئینی حق کے طور پر دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمت کے دوران بھی اور ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بھی ان کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز اُردو زبان کے حقوق کا تحفظ رہا۔
یہ بھی پڑھئے:ناظرین کی توجہ ’’ہتھیانے‘‘ کی ہوڑ، اِس کوشش میں جو جیتا وہی سکندر ہے!
بہار میں اُردو تحریک کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو اس کے مختلف ادوار میں کئی ایسی شخصیات سامنے آتی ہیں جنہوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اُردو کے لئے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ پروفیسر عبدالمغنی، غلام سرور، بیتاب صدیقی، شاہ مشتاق، سہیل عظیم آبادی، ایس ایم عمر فرید، مولانا ولی رحمانی، خالد رشید صبا، پروفیسر ابوذَر عثمانی اور شمائل نبی جیسے نام اُردو کے حقوق کی جدوجہد کے حوالے سے ایک پورے عہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان اکابر ین کے بعد جو نئی صف سامنے آئی، اس میں شاہد محمود پوری کی شخصیت خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ انہوں نے اپنے پیش روؤں کی روایت کو محض یادگار کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ اسے اپنے عہد کے مسائل سے جوڑ کر زندہ رکھا۔ اُردو کے آئینی حقوق کی بات کرتے ہوئے یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ ہندوستان میں زبانوں کا مسئلہ صرف ادبی ذوق کا مسئلہ نہیں ہے۔ زبان تعلیم، روزگار، انتظامیہ، عدلیہ، ثقافت اور سماجی شناخت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ بہار میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونا ایک تاریخی اور آئینی پیش رفت تھی، لیکن کسی زبان کو قانونی حیثیت حاصل ہوجانا اور اس حیثیت کو عملی زندگی میں نافذ کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اُردو کے کارکنوں کی جدوجہد کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
شاہد محمود پوری اسی عملی جدوجہد کے آدمی تھے۔ ان کے نزدیک اُردو کے حقوق کا مطلب صرف حکومت سے مطالبہ کرنا نہیں تھا بلکہ عوام، طلبہ، اساتذہ، اہل قلم اور سماجی اداروں میں اُردو کے بارے میں شعور پیدا کرنا بھی تھا۔ ان کی سرگرمیوں میں ایک طرف اُردو کے تعلیمی مسائل کا احساس تھا تو دوسری طرف سرکاری سطح پر اُردو کے استعمال اور اس کے جائز حقوق کے نفاذ کی فکر بھی نمایاں تھی۔ ان کا یہ کردار انہیں محض اُردو کے ادیب یا استاد سے آگے لے جاتا ہے اور انہیں اُردو حقوق کے کارکن کی حیثیت عطا کرتا ہے۔ ان کی تصانیف ’ویشالی ضلع میں اُردو تعلیم‘، ’نقوشِ افکار‘ اور ’نقوشِ عمل‘ ان کے علمی و فکری مزاج کی آئینہ دار ہیں۔ بالخصوص ’ویشالی ضلع میں اُردو تعلیم‘ جیسی کتاب کا موضوع اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ اُردو کے مسئلے کو محض جذباتی وابستگی کے ساتھ نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کے تعلیمی پہلوؤں پر بھی غور کرتے تھے۔ ایک کتاب ’بہار کے قلمکاروں کی ڈائرکٹری‘ بھی زیر ِ طبع تھی۔
یہ بھی پڑھئے:Doc at Home، جس طرح گروسری آرڈر کرتے ہیں، طبی خدمات بھی بک کر سکتے ہیں
اُردو کی تاریخ میں علاقائی مطالعات کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔ کسی ضلع یا خطے میں اُردو کی تعلیمی صورتحال، اس کے ادارے، طلبہ، اساتذہ، نصاب، تدریسی مسائل اور سماجی اثرات کا مطالعہ دراصل اُردو کی مجموعی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس اعتبار سے ’ویشالی ضلع میں اُردو تعلیم‘ پر ان کی توجہ قابل قدر ہے۔ ایسے مطالعات مستقبل کے محققین کیلئے بنیادی مواد فراہم کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ کسی زبان کی صورتحال کو صرف بڑے شہروں اور مرکزی اداروں کے حوالے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔
’نقوشِ افکار‘ اور ’نقوشِ عمل‘ کے عنوانات بھی شاہد محمود پوری کی فکری شخصیت کے دو اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ فکر اور عمل کا رشتہ ان کی زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ وہ صرف اُردو کے مسائل پر گفتگو کرنے والے شخص نہیں تھے بلکہ ان مسائل کے حل کیلئے عملی میدان میں موجود رہنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ یہاں ان کی استادانہ شخصیت کا ذکر بھی ضروری ہے۔ استاد صرف کتاب کا متن نہیں پڑھاتا بلکہ زبان اور تہذیب کے ساتھ نئی نسل کا رشتہ قائم کرتا ہے۔ شاہد محمود پوری نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں جس نسل سے رابطہ قائم کیا، وہی نسل آگے چل کر اُردو کی نئی ضرورتوں اور امکانات کی وارث بنتی ہے۔ اس لحاظ سے ایک استاد کی خدمت کا دائرہ اس کی ملازمت کی مدت سے کہیں وسیع ہوتا ہے۔ سبکدوشی کے بعد بھی ان کی اُردو سے وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کیلئے اُردو ملازمت نہیں، ایک مشن تھی۔ ان کی رحلت کے موقع پر بہار کی اُردو تحریک کے ماضی کو بھی نئے سرے سے یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ عبدالمغنی سے غلام سرور تک، بیتاب صدیقی سے شاہ مشتاق تک، ایس ایم عمر فرید سے ابوذَر عثمانی تک اور پھر شاہد محمود پوری جیسے کارکنوں تک اُردو تحریک کا ایک طویل سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔
شاہد محمود پوری کی وفات پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بہار کی اُردو تحریک کے آفتاب کا ایک روشن گوشہ غروب ہوگیا۔ لیکن آفتاب کے غروب ہونے کا مطلب روشنی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ جو لوگ اپنی زندگی زبان، علم اور سماج کے نام کردیتے ہیں، ان کی روشنی ان کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ ان کی کتابیں، ان کی جدوجہد، ان کے خیالات اور ان کی قائم کی ہوئی روایت آنے والی نسلوں کیلئے چراغ کا کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے اُردو کیلئے جو کچھ کیا، اسے صرف ایک شخص کی خدمات کے طور پر نہیں بلکہ بہار کی اُردو تحریک کی طویل تاریخ کے ایک اہم باب کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ آج ان کی جدائی کا غم ہے، مگر ساتھ ہی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ ان کے مشن کو سمجھا جائے، ان کی تصانیف کو محفوظ کیا جائے، ان کے کام پر تحقیق کی جائے اور اُردو کے آئینی و تعلیمی حقوق کیلئے اس جدوجہد کو نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ شاہد محمود پوری دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اُردو کی دنیا میں ان کی آواز، ان کا قلم اور ان کی جدوجہد باقی رہے گی۔ یہی ایک سچے کارکن اور صاحبِ قلم کی اصل زندگی ہے کہ جسم رخصت ہوجائے مگر اس کا فکر و عمل معاشرے کے حافظے میں زندہ رہے۔